صفحہ 16 از 16 اوليناولين ... 6141516
نتائج کی نمائش 151 تا: 153 از: 153

موضوع: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

  1. #151
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    910
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی خاکی، پی پی پی، ن لیگ، ق لیگ، مذہبی گروہوں، لسانی گروہوں اور چھوٹی پارٹیوں پر حکومتوں نے جہاں ملک کو معاشی وائرس پھیلایا وہیں موجود پی ٹی آئی حکومت نے کورونا وائرس پھیلا کر اس کے ذریعے ڈالرن مزیدن کی جو گھناؤنی سازش کی ہے اللہ کی ذات اسے اس کی سزا ضرور دے گی۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  2. #152
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    910
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    پی ایم ڈی سی کیس: 'حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے، وزیراعظم کو شرم آنی چاہیے '
    آج 30 مارچ 2020 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نےپی ایم ڈی سی کیس کی سماعت کی۔ آج عدالت نے پی ایم ڈی سی کو 11 فروری کے دئیے گئے عدالتی حکم کے باوجود بحال نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی، اس دوران عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر و دیگر حکام پیش ہوئے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی عدم بحالی پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہئے کہا کہ "حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے"۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکریٹری ہیلتھ کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ "میں سیکریٹری ہیلتھ کو 6 ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیتا ہوں، ایس ایچ او جائیں اور سیکریٹری ہیلتھ کو گرفتار کر کے جیل بھیجیں، سیکریٹری سے کہیں کورونا ٹیسٹ کروا کے آئیں میں آج ہی جیل بھیجوں گا"۔ ساتھ ہی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے پر سیکریٹری صحت کو توہینِ عدالت کا نوٹس کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ "حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے وزیروں اور اعلیٰ حکام کو جیل بھیج دوں گا۔ ایمرجنسی میں وفاقی حکومت جو کام کر رہی ہے وہ تباہ کن ہے، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے۔ ایک گھنٹے میں پی ایم ڈی سی کا تالہ توڑ کر عدالت کو آگاہ کریں، میں اپنے فیصلے کو اس سطح پر لے جاؤں گا کہ کوئی برداشت نہیں کر سکے گا، ابھی جائیں اور پی ایم ڈی سی کے تالے توڑ کر رجسٹرار کو ان کے دفتر میں بٹھا کر آئیں"۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پی ایم ڈی سی کی بحال، پاکستان میڈیکل کمیشن تحلیل کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ اس موقع پر عدالت کی جانب سے یہ پوچھا گیا کہ" کیا پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو تنخواہ مل رہی ہے؟"، جس پر کونسل کے وکیل نے بتایا کہ" نہیں 5 ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی"۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے "وزارت صحت کو نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن سے بھی روک دیا اور رجسٹریشن کے لیے قائم ڈیسک بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ پی ایم ڈی سی کو اختیار ہے کہ وہ نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کی درخواستیں وصول کرے"۔ بعد ازاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بیان دیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو اپنے دفتر میں بیٹھنے کی اجازت دے دی، جس پر عدالت نے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو اپنے آفس میں کم سے کم اسٹاف کے ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "کورونا وائرس کی صورتحال میں وفاقی حکومت کی پالیسی کو اپنائیں، حکومت نے کروونا وائرس کے پیش نظر باقی اداروں کے ملازمین کو گھر بٹھایا ہوا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان حالات میں کتنے ملازمین کے ساتھ کام کرنا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ "نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن پی ایم ڈی سی کا کام ہے، وزارت صحت کو نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کا اختیار نہیں"۔ یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پی ایم سی کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ جس پر پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین اور 31 ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کونسل کو تحلیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے بعد عدالت نے 11 فروری 2020 کو پی ایم ڈی سی اور اس کے تمام ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی، ملازمین نے مؤقف اپنایا تھا کہ پی ایم ڈی سی کی عمارت کو سیل کردیا گیا ہے اور ملازمین کو داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ سماعت کے دوران عدالت کے پوچھنے پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وزارت صحت نے عمارت سیل کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انتظامیہ نے عمارت سیل کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر وزارت صحت نے پی ایم ڈی سی کی عمارت کو خود تالے لگائے تھے۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

  3. #153
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    910
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    اداریہ؛ دھمکاوہ نمبر 840بھی فیل شد کیونکہ حکمران اندر خانے شد
    وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے مریضوں سے "اچھوتوں جیسا سلوک کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مریضوں کی قرنطینہ منتقلی میں ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے"۔ وزیراعظم کا بیان اچھی بات ہے مگر مجھے یہ صرف طفل تسلی لگتا ہے ہے کیونکہ کام وہی جو خود بتا کر کہے کہ ہاں میں ہو رہا ہوں، کورونا کے خلاف سچ میں کوئی کام ہو رہا ہوتا تو حکومتی حلیف بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رو کر ہ نہ کہہ رہے ہوتے کہ "ایران سے آنے والے زائرین بغیر چیک اپ کے پورے صوبے میں گھمانے سے مقامی افراد متاثر ہوئے۔ سرحدیں تو مرکزی حکومت کے انڈر آتی ہیں اور ایران سے واپس لائے گئے زائرین کو بغیر چیک اپ کئے پورے پاکستان میں پھیلانے سے حالات بگڑ گئے ہیں"۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا ہے کہ "ایران نے ہماری اپیل کے باوجود تعاون نہیں کیا"۔ وہیں کچھ ذمہ داری مرکزی اداروں کی تھیں جن سے چشم پوشی کا انجام آج پاکستان بھگت رہا ہے۔ بت شیعہ زائرین تک محدود نہیں رائے ونڈ کے اجتماع کو ایسے وقت جاری رکھنے دیا گیا جبکہ پوری دنیا میں پورونا پھیلا رہا تھا، پھر آئے دن خبر آتی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں تبلیغی جماعت والے تبلیغ کے لیے مساجد در مساجد گھوم رہے ہیں، کوئی حکومت اور جماعت الیڈرشپ سے پوچھے کہ جب حریمین شریفین جیسے مقدس مقامات پر اجتماع کی پابندی ہے تو کیا یہ ان سے بھی آگے کی مخلوق ہیں۔ اسلام آباد اور حیدر آباد مین انہی تبلیغیوں کے احکامات کو پیر کی جوتی سمجھنے کے جرم کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سمنا کرنا پڑا اور بہارہ کہو اور حیدرآباد میں مقامی عوام کو تکلیف سے گزرنا پڑا۔ آج کی خبر ہے کہ لاہور کے نواحی قصبے رائے ونڈ سٹی کو حکومت پنجاب کی طرف سے قرنطینہ زون قرا ردے دیا ہے۔ اس علاقے میں میڈیکل اسٹورز کے سوا تمام دکانیں بند کر کے شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ رائے ونڈ میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ تبلیغی مرکز سے 27 افراد میں کورونا وائرس مثبت آنے پر کیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نہ تو تبلیغی بھی اپنی غلطی نہیں مان رہے اور نہ ہی اہلِ تشیع جو سر عام ہر شہر میں امام حسین کی ولادت کی تقاریب مناتے پھر رہے ہیں۔ یہاں کچھ جرم ان دونوں مسالک والوں کا بھی ہے لیکن سچی بات ہے کہ سوشل میڈیا حکومت اپنی رٹ نہیں منوا پا رہی، اس کے لیے اسے محلات سے نکلنا ہو گا، افسران کو گھروں سے نکالنا ہو گا، لیکن جن کو جان پیاری ہو وہ گھر سے کیسے نکلیں گے؟ ایسی بیڈ گورنس کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑے گا، اشرافیہ پھر بھی بچ جائیں گے۔ جہاں تک عمران خان کے اوپر کے جھڑک دار بیان کی بات ہے تو سمجھیں جس سے کام نہیں ہوتا وہ ایسے ہی دھمکاوے دیتا رہتا ہے، 12 یا 15 کا کرکٹ سکواڈ نہیں جو دھمکی سے ڈر کر بات مان لے گا یہ 22 کروڑ کا ہجوم ہے جب لیڈرشپ ہی کانڑی ہو تو عوام نے اپنے من مانی کرنی ہے ناں۔۔
    وبا کے دنوں میں آپ کا مر جانا یا زندہ رہنا دونوں شہادت کے زمرے میں آتا ہے

صفحہ 16 از 16 اوليناولين ... 6141516

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University