اداریہ؛ دھمکاوہ نمبر 840بھی فیل شد کیونکہ حکمران اندر خانے شد
وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے مریضوں سے "اچھوتوں جیسا سلوک کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مریضوں کی قرنطینہ منتقلی میں ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے"۔ وزیراعظم کا بیان اچھی بات ہے مگر مجھے یہ صرف طفل تسلی لگتا ہے ہے کیونکہ کام وہی جو خود بتا کر کہے کہ ہاں میں ہو رہا ہوں، کورونا کے خلاف سچ میں کوئی کام ہو رہا ہوتا تو حکومتی حلیف بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رو کر ہ نہ کہہ رہے ہوتے کہ "ایران سے آنے والے زائرین بغیر چیک اپ کے پورے صوبے میں گھمانے سے مقامی افراد متاثر ہوئے۔ سرحدیں تو مرکزی حکومت کے انڈر آتی ہیں اور ایران سے واپس لائے گئے زائرین کو بغیر چیک اپ کئے پورے پاکستان میں پھیلانے سے حالات بگڑ گئے ہیں"۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا ہے کہ "ایران نے ہماری اپیل کے باوجود تعاون نہیں کیا"۔ وہیں کچھ ذمہ داری مرکزی اداروں کی تھیں جن سے چشم پوشی کا انجام آج پاکستان بھگت رہا ہے۔ بت شیعہ زائرین تک محدود نہیں رائے ونڈ کے اجتماع کو ایسے وقت جاری رکھنے دیا گیا جبکہ پوری دنیا میں پورونا پھیلا رہا تھا، پھر آئے دن خبر آتی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں تبلیغی جماعت والے تبلیغ کے لیے مساجد در مساجد گھوم رہے ہیں، کوئی حکومت اور جماعت الیڈرشپ سے پوچھے کہ جب حریمین شریفین جیسے مقدس مقامات پر اجتماع کی پابندی ہے تو کیا یہ ان سے بھی آگے کی مخلوق ہیں۔ اسلام آباد اور حیدر آباد مین انہی تبلیغیوں کے احکامات کو پیر کی جوتی سمجھنے کے جرم کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سمنا کرنا پڑا اور بہارہ کہو اور حیدرآباد میں مقامی عوام کو تکلیف سے گزرنا پڑا۔ آج کی خبر ہے کہ لاہور کے نواحی قصبے رائے ونڈ سٹی کو حکومت پنجاب کی طرف سے قرنطینہ زون قرا ردے دیا ہے۔ اس علاقے میں میڈیکل اسٹورز کے سوا تمام دکانیں بند کر کے شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ رائے ونڈ میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ تبلیغی مرکز سے 27 افراد میں کورونا وائرس مثبت آنے پر کیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نہ تو تبلیغی بھی اپنی غلطی نہیں مان رہے اور نہ ہی اہلِ تشیع جو سر عام ہر شہر میں امام حسین کی ولادت کی تقاریب مناتے پھر رہے ہیں۔ یہاں کچھ جرم ان دونوں مسالک والوں کا بھی ہے لیکن سچی بات ہے کہ سوشل میڈیا حکومت اپنی رٹ نہیں منوا پا رہی، اس کے لیے اسے محلات سے نکلنا ہو گا، افسران کو گھروں سے نکالنا ہو گا، لیکن جن کو جان پیاری ہو وہ گھر سے کیسے نکلیں گے؟ ایسی بیڈ گورنس کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑے گا، اشرافیہ پھر بھی بچ جائیں گے۔ جہاں تک عمران خان کے اوپر کے جھڑک دار بیان کی بات ہے تو سمجھیں جس سے کام نہیں ہوتا وہ ایسے ہی دھمکاوے دیتا رہتا ہے، 12 یا 15 کا کرکٹ سکواڈ نہیں جو دھمکی سے ڈر کر بات مان لے گا یہ 22 کروڑ کا ہجوم ہے جب لیڈرشپ ہی کانڑی ہو تو عوام نے اپنے من مانی کرنی ہے ناں۔۔