صفحہ 17 از 17 اوليناولين ... 7151617
نتائج کی نمائش 161 تا: 164 از: 164

موضوع: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

  1. #161
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,569
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    شوگر مافیا کو حد سے زیادہ لالج لے ڈوبے گی
    غذائی بحران، آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے، سبسڈی، ٹیکسوں میں چھوٹ کے ساتھ ساتھ شوگر مافیا پر جو دیگر کیسز بن سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ شوگر مل مالکان نے چینی کی تیاری کے دوران گنے کے بیلنے، رس نکالنے کے بعد بچ جانے والے پھوگ کا بھی کاروباری استعمال کیا ہے۔ ایک تو گنے کے پھوگ کو گتہ بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ کر مال کمایا گیا اور باقی بچ جانے والے پھوگ سے معینہ مدت سے زائد بجلی بنا کر بجلی کمپنیوں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کر کے ایک گنے اور اس کے بائی پراڈکٹس سے چا چار مدات میں پیسہ بنایا گیا اور اس کاکوئی اضافی ٹیکس تک ادا نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ شوگر مل مالکان اس پھوگ سے چلنے والے بجلی گھر وں سے سارا سال کروڑوں روپے الگ سے کما رہے ہیں جبکہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار صرف اور صرف کرشنگ سیزن میں ہی حاصل ہے۔
    پاکستانی قوم ، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن
    نااہل جرنیلیہ، سیاسیہ، عدلیہ، میڈیا اور کرپٹ اداروں کیلئے کوئی معافی نہیں

  2. #162
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,569
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    دل کی بات
    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدلنا اس تناظر میں درست ہے کہ ایک قومی پروگرام کا نام کسی سیاسی جماعت سے منسلک شخصیت سے یا اس کی فیملی سے نہیں جڑا ہونا چاہیے، اب اس کا نام بدل کر احساس کفالت پروگرام رکھا گیا ہے جو بالکل درست بات ہے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھیں تو وزیراعظم کس حیثیت میں شوکت خانم ہسپتال کا نام اپنی مرحومہ ماں کے نام پر رکھ سکتے ہیں جبکہ ان کا اس پروگرام میں ذاتی حصہ ٪001 بھی نہیں بنتا، یہ سارا عوام کی زکوٰۃ، عطیات، چندے اور ٹی وی ٹیلی تھون پروگرامز سے حاصل شدہ عطیات سے چلتا ہے۔ میں نے بھی 15 سال عطیات دئیے میں بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ اس ہسپتال کا نام بدلا جائے اور اس کے بورڈ آف گورنرز میں سے عمران خان کے خاندان کے افراد کو نکالا جائے جو مفت کی تنخواہیں اور مراعات سمیٹ رہے ہیں، عمران خان جب تک کسی حکومتی عہدے پر ہیں تب تک انہیں ہسپتال کے کسی کام کے لیےامدادی کاموں کے لیے حصہ لینے کے لیے عدالت سے اجازت لینے پر پابند کیا جائے کیونکہ انہوں نے ماضی و حال میں شوکت خانم ہسپتال کو اور ہسپتال کے لیے اکٹھی کی جانے والی فنڈنگ کو ذاتی و خاندانی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔
    پاکستانی قوم ، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن
    نااہل جرنیلیہ، سیاسیہ، عدلیہ، میڈیا اور کرپٹ اداروں کیلئے کوئی معافی نہیں

  3. #163
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,569
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    پھر یہ کہتے ہیں ہم لفافہ نہیں دیتے
    فیاض الحسن چوہان کہہ رہا تھا کہ "کورونا وائرس سے متاثر ہو کر مرنے صحافی کے انتقال پر اہلِ خانہ کو 10 لاکھ دیں گے"۔میرا سوال یہ ہے کہمانا کہ صحافیوں کا کام بروقت خبر رسانی ہے لیکن کیا وہ کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں؟ کہ ان کو ایسی مراعات دینے جا رہے ہو یا لفافے کا نام بدل کر ان کی خاندانی پنشن رکھ دیا ہے؟ موجودہ حالات میں ایسا حق صرف پیرامیڈیکل سٹاف،پولیس، رینجرز اور افواجِپاکستان کے جوانوں کا ہے کہ جو نہتے اس وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کورونا کے نام پر میڈیا کی مخالفت کو اپنے حق میں کرنے کے لیے ان کو ہڈی مت ڈالو، گورنس پہ توجہ دو وگرنہ یہ وبا قابو سے باہر ہوئی تو تم تو گیئو۔
    پاکستانی قوم ، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن
    نااہل جرنیلیہ، سیاسیہ، عدلیہ، میڈیا اور کرپٹ اداروں کیلئے کوئی معافی نہیں

  4. #164
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,569
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    جواب: سیاسی خبروں کی مکس پلیٹ

    کرکٹ کا جغادری کھلاڑی سے سیاست کے اناڑی تک کا پستی کا سفر
    میں نے اپنی زندگی میں کسی حکومت کو اتنی جلدی پستی میں گرتے نہیں دیکھا جتنا کرکٹ کے جغادری کھلاڑی کی قیادت میں موجودہ حکومت نے طے کیاہے، بڑے کھلاڑی سے سیاست کے اناڑی تک کا پستی کا سفرطے کرنے میں انہیں 22 ہفتے بھی نہیں لگے لیکن اس کے حتمی نتائج پچھلے 6 ماہ میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ خلاسۂ مضمون یہ ہے کہ 22 سال کی سیاسی محنت کو گٹر میں گرتے 22 ماہ بھی نہیں لگے۔قارئین آپ کو یاد ہو گا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے متاثرہ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو فی خاندان 12 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم کا کام بدھ 8 اپریل سے شروع شروع کر دیا گیا تھا تاہم رقوم کی تقسیم وزیر اعظم کے بار بار اعلان کردہ طریقہ کار کے تحت موبائل فون اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی بجائے ملک بھر میں سرکاری عمارات/بنکوں میں مراکز قائم کر کے تقسیم کی جا رہی ہے۔ ان مراکز میں محدود جگہوں پر مستحقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے رش بڑھ جاتا ہے اور 2 میٹر کا فاصلہ قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ انہیں کنٹرول میں رکھنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ ہو رہا ہے کہ اس بے ہنگم طریقے سے مجبور شہریوں خاص کر عورتوں کی عزت نفس سخت مجروح ہو رہی ہے۔ بہت سارے شہری خاص کر پردہ دار عورتیں اپنی عزت نفس کی خاطر گئے ہی نہیں یا جا کر بے ہنگم ہجوم کو دیکھ کر واپس آ گئے۔ ان کے مطابق "حکومت نے تو کہا تھا کہ انہیں موبائل فون اکاؤنٹس میں رقوم منتقل کر دی جائیں گی جبکہ اب حکومت ایک پھر یو ٹرن لیتے ہوئے اپنی اعلان کردہ طریقۂ کار میں ترمیم کرتے ہوئے شہریوں کو رقوم کی وصولی کے لیے احساس پروگرام کے تحت قائم کردہ مراکزمیں بلایا جا رہا ہے"۔ باقی تفصیل خبر کے لنک میں پڑھیۓ اور سر دُھنیۓ۔
    https://www.urdupoint.com/daily/live...s-2342323.html
    پاکستانی قوم ، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن
    نااہل جرنیلیہ، سیاسیہ، عدلیہ، میڈیا اور کرپٹ اداروں کیلئے کوئی معافی نہیں

صفحہ 17 از 17 اوليناولين ... 7151617

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University