وجود زن سے ھے تصویر کائنات میں رنگ" - ثمینہ نعمان

عورت حقیقتا کائنات کا حسن، ایک ایسی ہستی جس کا ہونا نہ ھونا معنی رکھتا ھے..... ماں، بہن، بیٹی یا بیوی عورت ہر حیثیت میں ایک اہم اور ناگزیر مقام رکھتی ھے..... عورت کی موجودگی میں گھر ایک پرسکون گوشئہ عافیت کی شکل میں منتج ھوتا ھے ورنہ جس گھر میں عورت نہ ھو، زندگی کی ہر آسائش کی موجودگی بھی وہاں کے رہنے والوں کو سکون و عافیت نہیں دیتی....
انسانی معاشرہ عورت اور مرد سے مل کر تخلیق پاتا ھے. ابتدائے آفرینش میں جب اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق کیا تو آدم علیہ السلام کے ساتھ ان کی بیوی حضرت حوا کو بھی وجود عطا فرمایا..... ہر خاندان کی اکائی ایک مرد اور ایک عورت ھوتے ھیں. ان سے مل کے گھر بنتا ھے.... اور نئی نسل آگے چلتی ھے.... عورت اور مرد گھر کی گاڑی کے دو پہیہ تصور کیے جاتے ھیں .... اللہ تعالی نے مرد و عورت دونوں کی ذمہ داریوں کے دائرے متعین کر دئیے ھیں.... مرد عورت پر قوام ھے کیونکہ گھر اور بیوی بچوں کی تمام تر ذمہ داری وہ اٹھاتا ھے..... گھر سے باہر کے تمام کام اس کے دائرہ اختیار میں آتے ھیں..... اور خواتین کے لئے حکم ھے کہ گھروں میں ٹک کے بیٹھو..... گھر کی چار دیواری عورت کی اصل جگہ ھے.... وہ شمع محفل نہیں بلکہ چراغ خانہ ھے... بیٹی کی شکل میں وہ باپ کا فخر و غرور، بہن کی حیثیت میں بھائیوں کی غیرت کا نشان بیوی بن کر شوہر کا وقار و افتخار اور ماں کی شکل میں تو جنت بھی اس کے قدموں تلے آ جاتی ھے....گھر کے اندر کے تمام کام، چاھے خود کرے یا اپنی نگرانی میں ملازمین سے کروائے، شوھر جب گھر آئے تو اپنی مسکراہٹ اور بناو سنگھار سے اس کا دل لبھائے، شوھر کی اطاعت و فرمانبرداری کرے.... اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے.... یہ تمام اس کی ڈیوٹیز ھیں..... اس کے بچے اس کے لئے انتہائی اھم امتحان ھوتے ھیں، ان کی تعلیم و تربیت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی..... اچھی فرض شناس ماوں ہی کے دم سے ایک اچھی قوم وجود پاتی ھے.... قوم کے معمار نہ صرف جنم لیتے ھیں بلکہ ان کی گودوں میں پرورش پا کے ملک کے محافظ بنتے ھیں.... عورت کے نازک وجود کو آبگینوں سے تشبیہ دی جاتی ھے، بظاہر بہت نازک سراپا اور لطیف وجود رکھنے کے اس کے چٹانوں جیسے پختہ عزم وہمت کے آگے بڑے بڑے پہاڑوں جیسے مسئلے اور مرحلے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ھیں..... عورت میں اللہ تعالی نے کمال کی انتظامی صلاحیتیں رکھی ھیں...... ایک باشعور اور دینی سوچ رکھنے والی عورت اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر ضرورت کے وقت وہ اپنے باپ یا شوہر کا ہاتھ بٹانے کے لئے گھر سے نکلتی بھی ھے تو وہ اپنے حقیقی مقام کار کو بھی نظر انداز نہیں کرتی..... زندگی کے ہر میدان میں عورت نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ھے، اور اپنی محنت و کاوش کے زور سے ہر شعبہ میں ممتاز مقام حاصل کیا ھے.....

عورت کے اندر قدرت نے بڑی لچک رکھی ھے، اس لئے وہ ہر طرح کے ماحول میں اپنی جگہ بنا لیتی ھے... ازدواج مطہرات، دختران رسول، رابعہ بصری یہ وہ روشن ستارے ھیں کہ اگر ھم ان کی سیرت پڑھیں تو حیران ھو جائیں کہ کیسے کیسے نامساعد حالات میں بھی وہ سیسہ پلائی ھوئی دیوار بنی رہیں..... علامہ اقبال کی والدہ بی اماں نے اپنے بیٹے کو حلال نوالہ کھلانے کا اہتمام انتہائی توجہ اور لگن سے کیا، اور یہی سبب تھا کہ ان کی شاعری میں قرآن کے اسباق نظر آتے ھیں.... تحریک پاکستان کے عظیم رہنما اور خلافت موومنٹ چلانے والے بھائی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی پر بھی اپنی والدہ کی اچھی تربیت کا اثر نظر آتا تھا.... فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان، عافیہ صدیقی، آسیہ اندرابی، مروہ الشریبینی اور مریم مختیار جیسی سیکڑوں خواتین اپنی محنت، ہمت اور طاغوت کے خلاف برسر پیکار رہنے کے سبب تاریخ میں اپنے نام سنہری حروف سے لکھوا چکی ھیں.... یہ سب ہمارے لئے مشعل راہ ھیں اور ان کی حیات ہمارے ارادوں کے لئے مہمیز کا کام کرتی ھے.....