صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 21

موضوع: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    کورونا وائرس میں رضاکارانہ خدمات کے لیے خود کو پیش کرنے والو آپ کا بہت بہت شکریہ
    اس وقت جبکہ دنیا ے تمام ممالک کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اس مشکل وقت میں جہاں برطانیہ میں پیرا میڈیکل سٹاف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر وائرس سے متاثرہ مریضوں کی جان بچانے کی انتھک کوشش کر رہے ہیں وہیں حکومت کی اپیل پر 11 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈکل سٹاف نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات قومی ادارۂ صحت نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کی حامی بھری ہے۔ اس کے علاوہ 23 ہزار سے زائد طبی تعلیمی و تربیتی کورسز کے آخری سال کے نرسنگ، کیئر اور پیرا میڈیکل طالب علموں نے بھی نیشنل ہیلتھ سروس میں شامل کیے جانے کہا ہے۔ حکومت کی اپیل پر نیشنل ہیلتھ سروس کی مدد کے لیے کل صرف ایک دن میں اڑھائی لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر ساتھ دینے کی حامی بھری ہے۔ رضاکارو! مشکل کی اس گھڑی میں قوم آپ سب کا یہ جذبہ یاد رکھے گی، آپ سب کو سلام، اللہ پاک آپ سب کا اس مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑا ہونے پر ساتھ دے اور اجر سے نوازے آمین۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    طبی عملے کے لیے میڈیکل کا حفاظتی سامان مہیا کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے
    پنجاب انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کام کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں، طبی عملے اور صفائی کے عملے کو ایک تنخواہ کے برابر سپیشل رسک الاﺅنس دینے کا اعلان کیا ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت اچھا قدم ہے جس کی بہرحال تعریف کی جانی چاہیے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے ppe میڈیکل کا حفاظتی سامان مہیا کیا جانا چاہیے، وگرنہ اس وبا کے مریضوں کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے بھی اس وبا کا شکار ہو سکتے ہیں اور ایسا ہو بھی رہا ہے کہ کئی پیرامیڈیکل سٹاف کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں اور گلگت بلتستان سے ایک ڈاکٹر کے جاں بحق ہونے کی خبر آپ دو دن پہلےپڑھ ہی چکے ہوں گے، اس لیے طبی عملے کے لیے میڈیکل کا حفاظتی سامان مہیا کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    کھول آنکھ
    از حد افسوس ہے آل سعود پر جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے کعبہ اور مدینہ شریف کو بند کر دیا، کبھی یہ سوچا ہے کہ مدینہ پاک جس کی خاک کو خاکِ شفا کہا گیا ہے، اگر اسے بند کر دو گے تو شفا کیسے پاؤ گے؟ مانا کہ کورونا وائرس کی ایک انسان سے دوسرے میں منتقلی کا خطرہ ہے مگر کیا ایسا ممکن نہیں محدود تعداد میں مناسب فاصلہ رکھ کر کے طواف اور نماز کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے تھا۔مسلمان ملکوں میں مساجد بند کر دی گئی ہیں کہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ ایسے میں جبہ 2 گز کی دور رکھ کر دنیا بھر میں خریداری ممکن ہے تو 2 گز کی دوری رکھ کر با جماعت نماز بھی ممکن ہو سکتی ہے ناں۔ ہم مسلمانوں کی اس سے بڑی بدبختی اور بدنصیبی اور کیا ہو گی کہ ہم پر ایسے طبقے کو حاکم بنا دیا گیا ہے کہ جن کا کردار نہ تو مسلمانوں جیسا ہے اور اعمال مسلمانوں جیسے، غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر حرمین شریفین جنہیں مرکز شفا کہا گیا ہے بند کر دیا گیا ہے تو شفا کہاں سے آئے گی؟ اوئے عقل کے اندھو! آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ غیر مسلموں کے ملکوں میں کیا ہو رہا ہے؟ اور ہمارے حکمرانوں نے ہماری مساجد بند کرا دی ہیں۔ کرونا وائرس سے کوئی جگہ محفوظ نہیں لیکن حرمین شریفین کو بند کرنے والو اللہ کی شان دیکھ لو کہ آج یورپ والے سڑکوں پر نکل کر اللہ کو اذان اور کلمے کے ورد کے ساتھ بلند و بالا آواز میں رب کریم کو پکار رہے ہیں اور ہم مسلمان اور ان کے حکمران کیا کر رہے ہیں؟
    https://twitter.com/Kulsoo_m/status/1239862034843435009

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    بین الاقوامی کٹھ پتلی کا تماشا جاری ہے
    ڈوب مرنے کا مقام کہیں یا نااہلی کہ24 ارب روپے کی لاگت سے کرتارپور گردوارہ بنانے والے کی اپنی عوام کو مفت تو کیا 100 روپے میں حفاظتی ماسک دینے کی بھی اوقات نہیں ہے۔سیاسی و بین الاقوامی گیم پلان کے تحت دن رات ایک کر کے 24 ارب روپے کی لاگت سے کرتارپورگردوارہ تو بنا دیا، لیکن کورونا کی وجہ سے آج وہ ویران پڑا ہے اور اوپر بیٹھا دنیا کا اصل مالک اصل پلانر یہ کہہ رہاہے کہ " عقل کے اندھے ذرا دیکھ تو سہی کس کا پلان کامیاب ہوا؟"، ترجیحات عوام کی خدمت ہو تو حکمران کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتا ہے لیکن کٹھ پتلی حکمران کی کورونا کے خلاف تیاری کا یہ حال ہے کہ اقدامات کے لیے ہسپتال بننا تو کجا میڈیکل عملے کے لیے ماسک اور گلوز تک میسر نہیں۔ اس پہ دعویٰ کہ سارے فیصلے میں کرتا ہوں اور ان کے پاس ہسپتالوں اور طبی سامان کے لیے پیسہ نہیں کیونکہ وہ ان کی پہلی ترجیح نہیں، جو تھوڑا بہت پیسہ ہے وہ عوام کی جان بچانے جیسے فضول کام پر خرچ نہیں کرنا کیونکہ ان کی ترجیح صرف اپنی حکومت بچانا ہے عوام چاہے مرتی ہے تو مرے، ویسے بھی جتنے زیادہ مریں گے اتنے جنازے دکھا کر زیادہ سے زیادہ ڈالر اکٹھے کریں گے۔اسی کام کو تیز کرنے کے لیے تفتان کا دروازہ کھولا گیا کہ "آ موت آ،کشتوں کے پشتے لگا کہ ڈالر ملیں"۔بات ہو رہی تھی کرتارپور گردوارہ کی، ارے گدھو عقل کا دروازہ کھولو، اب اس سے کوئی اچھا کام ہی لے لو، اس دور دراز علاقے میں بنائی گئی گردوارے کی اس عظیم الشان مگر خالی ویران عمارت کو ہی کوروناکے علاج کے لیے ایک بڑا قرنطینہ سینٹر بنا لو، بعد میں حالات ٹھیک ہوتے ہی اسے پاک صاف کر کے انتظامیہ کے حوالے کر دینا۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    اس وقت جبکہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ ہے ایسے میں قرنطینہ سینٹر بنانا اچھی بات ہے لیکن 20 تیس پچاس افراد کے ہجوم کے ساتھ ان سینٹرز کا افتتاح کرنا، قرنطینہ سینٹرز کو کنٹیمینیٹ کرنے کے مترادف ہے، پڑھے لکھے لیڈروں سے انپڑھ جاہلوں والی حرکتیں کیوں سرزد ہو رہی ہیں؟ کیا ان کا مقصد نمود و نمائش ہی رہ گیاہے کیا ان کو عوام کی صحت مقصود نہیں؟

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    احتیاب لازم ہے
    شیری رحمان نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں کورونا سے متاثرہ افراد کی عمروں کے حساب سے ایک گراف دکھایا گیا ہے، جس کے مطابق 18 تا 35 سالوں کے درمیان عمر رکھنے والے افراد کی تعداد ٪34 بتائی گئی ہے۔ 35 تا 50 اور پچاس سال سے اوپر کی عمر رکھنے والے دو گروپوں میں ٪24 چوبیس فی صد اور 5 تا 19 سال کے گروپ میں متاثرہ افراد کی تعداد ٪7 دکھائی گئی ہے۔ 18تا 35 سال کے افراد میں زیادہ ہونے کہ وجہ ان کا کام، کھیل کود کے لیے زیادہ باہر رہنا ہو سکتا ہے، اس لیے باہر نکلنے والے افراد کو احتیاط کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔
    https://twitter.com/sherryrehman/sta...86505997930505

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    بھوپال بھارت سے ایک دوست نے پیغام بھیجا ہے کہ "کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد ہم انڈین عوام کو کشمیری عوام کے لاک ڈاؤن کا شدید احساس ہوا ہے یقیناً یہ وبا ہماری مجرمانہ خموشی پر خدا کی طرف سے عذاب ہے، رب کائنات ہمیں اور سب کو اس وبا سے بچائے،آمین"۔
    میری دعا ہے "اے اللہ اس مشکل گھڑی میں ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی مدد فرما جو فاشسٹ مودی کے ظلم و ستم کو ہمت و استقلال سے برداشت کر رہے ہیں، آمین"۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  8. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    حکومت کی لاک ڈاؤن نہ کرنے کی پالیسی اچھی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے غذائی اشیاء کی ترسیل اور قلت کا مسئلہ پیدا جائے گا۔ لیکن پبلک مقامات پر عوام کو اکٹھا ہونے سے بچانے کے لیےمزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے،جوان طبقہ کھیل کود سمیت دیگر روزمرہ کی سرگرمیوں سے باز نہیں آ رہا جس کی وجہ سے مقامی پولیس کی مشکل ڈیوٹی مزید مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ یقیناً اسی وجہ سے کام پر جانے والے مجبوری کی وجہ سے اور نوجوان طبقہ حکومتی احکامات نہ مان کر اس وقت کورونا وائرس کا سب سے بڑا نشانہ بنے ہوئے ہیں، نوجوان طبقے میں اس وقت کورونا وائرس کے متاثر ہونے کی شرح ٪34 ہو چکی ہے جو کہ ایک خطرناک علامت ہے،ان کی ناسمجھی کی وجہ سے ان کے گھروں میں موجود دوسرے اہل خانہ خاص کر بیمار اور عمر رسیدہ افراد کا پہلے سے زیادہ وائرس کا نشانہ بننے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    آج کا احتیاط کل کے کڑے اور سخت تکلیف دہ علاج سے بہتر ہے
    یہ پوائنٹ سکورنگ کی بات نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پھیلا، لیکن جو ہو گیا سو ہو گیا اب ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیسے بچاؤ کریں گے، آپ پر لازم ہے کہ آپ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور دھیان میں رکھیں کہ اگر آپ کے اڑوس پروس میں کوئی دوست رستے دار یا جاننے والا شخص کسی دوسرے شہر یا ملک سے آیا ہے اور خود کو حکومتی احکامات کی روشنی میں self isolate نہیں کر رہا تو 15 پر اطلاع کریں اور ایسے لوگوں سے دور رہیں۔ آپ خود بھی اپنے جذبات پر کنٹرول کریں اور دوست بھائی سے ملنے کی ضد کی وجہ سے بیماری یا وبا کو گھر میں لانے کا ذریعہ مت بنیں۔ یاد رکھیں کہ کورونا وائرس سے آپ صرف اور صرف اپنے گھر میں محدود ہو کر ہی بچ سکتے ہیں۔ انتہائی ایمرجنسی، خریداری، یا ادویات لینے کے لیے ہی گھر باہر جائیں اور باہر جاتے وقت احتیاطی تدابیر اپنائیں، ماسک پہنے رکھیں اور دوسروں سے مصافحے و معانقے سے بالکل پرہیز کریں اور دوسروں سےکم از کم 2 گز کا فاصلہ برقرار رکھیں۔احباب سے التماس ہے کہ کام ختم ہوتے ہی واپس گھر آئیں، ہاتھ دھوئیں اور خود کو اپنے کمرے یا کسی کونے میں محدود کر لیں۔ یاد رکھیں کہ آج کا بروقت احتیاط کل کے کڑے اور سخت تکلیف دہ علاج سے بہتر ہے۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  10. #10
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    845
    شکریہ
    9
    94 پیغامات میں 123 اظہار تشکر

    جواب: تازہ ترین ملکی و غیر ملکی خبریں

    حکومت سندھ کا بہتر فیصلہ
    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور مساجد کو بالکل ویران ہونے سے بچانے کے لیے حکومت سندھ کا ایک بہتر فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت مساجد میں بہت کم تعداد میں نمازیوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت ہو گی۔ فیصلے کے مطابق مساجد میں پانچ افراد سے زائد باجماعت نماز ادا نہیں کر سکیں گے۔ حکومت سندھ کا یہ فیصلہ تمام مکاتب فکر کے علمائے اکرام اور طبی ماہرین کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے جس کے مطابق مسجد کے عملے سمیت پانچ افراد باجماعت نماز پڑھ سکیں گے۔ حکومت نے کہا ہے کہ شہری اس فیصلے کی پابندی کریں تاکہ عوام الناس کی جان و مال محفوظ رہیں۔

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University