لاک ڈاؤن ۔۔۔۔۔ نزیر ناجی

کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے دنیا بھر میں غیر معمولی اقدامات کیے جارہے ہیں۔کہیں کرفیو کا سماں ہے تو کہیں جزوی لاک ڈاؤن۔کئی ممالک نے تو انٹرنیشنل فلائٹس پر پابندی لگا دی ہے ۔پاکستان میں بھی انٹرنیشنل فلائٹس پر پابندی کا اطلاق کردیا گیا ہے۔مسلح افواج سرحدوں سے ہٹاکر شہروں تک محدود کردی گئی ہے۔سائنسی ترقی کے اس دور میں دنیا یوں بے بس ہو جائے گی‘ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔آج دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانے والے‘ وقت کے ہاتھوں مجبور دکھائی دیتے ہیں۔اکیسویں صدی میں فقط ایک لمحے کا انتظار ہے کہ کب کوئی دوا ایجاد ہوتی ہے‘جواس وبا کے لیے کارآمد ثابت ہو۔
فوج کا بنیادی کردار سرحدوں کی حفاظت کرنا اور ضرورت کے تحت جنگ میں لڑنا ہوتاہے‘ مگراب فوج کو بڑی تعداد میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک مختلف مہم میں طلب کیا جا رہا ہے۔ فوجی اہلکاروں کو شہروں میں طلب کرنے کا ایسا رجحان پیدا ہو چکا کہ ایک بعد دوسرا ملک ایک دوسرے کی تقلید کر رہا ہے‘اگر کہا جائے کہ ہر ملک میں فوج سے منسلک روایتی فرائض میں تبدیلی آ چکی‘ تو غلط نہ ہوگا؛ برطانیہ میں نئی بھرتیوں کی ٹریننگ رُک گئی ہے۔ نیٹو کی ڈیفینڈر یورپ 20 نامی بین الاقوامی فوجی مشقیں محدود ہوگئی ہیں۔ ان میں گزشتہ برسوں کے دوران امریکی فوجی دستوں کو ایک بڑی تعداد کو یورپ میں تعینات کیا جاتا تھا۔جدید ترین نظام مواصلات بند پڑا ہے۔ تعلیمی ادارے‘سرکاری دفاتر بند ہیں‘کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں اورہو کا عالم ہے۔
ہیلتھ پالیسی اور انسانی حقوق کے کارکن حکومتوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ انہیں شخصی آزادیوں اور صحت کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا۔اس صورتحال میں مختلف ممالک قرنطینہ اور لاک ڈاؤن پر عمل کروا رہے ہیں؟قرنطینہ اور لاک ڈاؤن پر کتنا عمل ہورہا ہے؟ کیا قرنطینہ میں موجود افراد کو بنیادی سہولیات دستیاب ہیں یا نہیں؟ وہ الگ سوال ہے ۔چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے چین میں پورے کے پورے شہر قرنطینہ میں تبدیل کر دئیے گئے تھے اور لوگوں کو کسی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اٹلی اور فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک بدستور لاک ڈاؤن میں ہیں۔چین کی اپنے شہریوں کی زندگیوں پر گہری نظر ہے اور اس کا اپنے وسائل تیزی سے استعمال کرنے میں کوئی ثانی نہیں۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 10 روز میں تعمیر ہونے والا ہسپتال بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ چین میں ریاستی کنٹرول زیادہ ہے اور یہ دیگر ملکوں سے مختلف ہے‘ لہٰذا یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا باقی دنیا چین کی حکمت ِعملی کی پیروی کر سکتی ہے؟
یہاں مزید کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ کیا مغربی معاشرے‘ جہاں انفرادی آزادی پر زور دیا جاتا ہے‘ شہریوں کی نقل و حرکت روکی جا سکتی ہے؟ دور نہ جائیں‘ ہمارے وطن ِ عزیز(پاکستان) کو دیکھ لیں ‘حکومت کئی دنوں سے اپنی سرگرمیاں محدود رکھنے ‘گھروں میں رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے‘ مگر کس قدر عمل ہوا؟کون نہیں جانتا بالآخر جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیااور اب مکمل لاک ڈاؤن کی طرف بڑھا جا رہا ہے ۔مختلف صوبے اپنی استطاعت اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں۔یہاں سندھ حکومت کے اقدامات کو خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔سندھ متاثرہ صوبوں میں سر فہرست تھا‘جہاں سب سے بڑا مسئلہ عوامی آگہی کے ساتھ لوگوں تک ضروریات زندگی کی اشیا کی فراہمی کاتھا۔یہ بات بھی قابل ِذکر ہے کہ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر سندھ لاک ڈاؤن کرنے والا پہلا صوبہ بھی بنا اور یہی وہ پہلا صوبہ تھا ‘جہاں فروری میں پہلا کیس سامنے آیا اور تب سے یہاں کی صوبائی حکومت متحرک دکھائی دیتی ہے۔
پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں دفعہ 144نافذ ہے ۔وقت اور کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کی بہت بڑی آبادی پہلی بار کسی وبا یا بیماری کی وجہ سے شہر کو بند ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے دیگر ممالک کی جانب دیکھیں توچین کے بعدجنوبی کوریا کے حوالے سے امریکی حکام نے یہ تک کہہ دیا تھاکہ جنوبی کوریا کے پاس اچھی خاصی تربیت یافتہ فوج ہے اور وہ کورونا سے بچنے کے لیے 30 دن تک لاک ڈاؤن نافذ کرے‘ مگر کوریا نے ایسا نہیں کیا اور جلد ہی دوسرے طریقے استعمال کرکے وائرس پر قابو پایا۔جنوبی کوریا کے بعد جب کورونا وائرس ایران پہنچا تو وہاں کی حکومت بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی اور اہم مراکز‘ عبادت گاہیں‘ تعلیمی اور حکومتی ادارے بند کردئیے گئے۔ لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کی گئیں ‘ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایران میں تیزی سے کورونا وائرس پھیلنے لگا اور وہاں24 مارچ کی شام تک مریضوں کی تعداد 24 ہزار سے زائد اور ہلاکتوں کی تعداد 1934 سے زائد ہو چکی تھی‘ مگر ایران نے اس وقت تک کسی بھی علاقے میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا تھا۔ایران کے بعد جب کورونا وائرس اٹلی پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے اٹلی میں مذکورہ وائرس تیزی سے پھیلنے لگا تو اٹلی نے وائرس کے دوسرے ہی ہفتے لاک ڈائون کے نفاذ کا اعلان کردیا‘ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور وہاں پر مریض حد سے زیادہ رپورٹ ہونے لگے۔ایسی کئی دیگر ممالک کی مثالیں موجود ہیں‘ مگر پاکستان کی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یہاں پچیس فیصد ایسا طبقہ ہے ‘جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے‘جن کے ایک وقت کی روٹی کمانا بھی دشوار ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشکل کے اس وقت میں ہم ان پچیس فیصد عوام کو سپورٹ نہیں کرسکتے؟ یقینا حکومت کے پاس وہ وسائل نہیں‘ مگر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر زنجیر بنتی ہے‘ اگر ہم سب مل کر ان غربا کو بھی ساتھ لے کر چلیں‘ توصرف چند دنوں کے لیے لاک ڈائون پر عمل کرکے اس بیماری سے لڑیں تو کامیاب ہوسکتے ہیں۔چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔