’’آدھی دنیا ہو تم، آدھی کو تم جنم دیتی ہو‘‘

کتنا بڑا اعزاز ہے!

اور علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:

’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں‘‘

ان الفاظ کے بعد عورت کی تعریف میں کوئی کیا لکھ سکتا ہے لیکن مردوں کوسمجھانے کیلئے بہت کچھ ہے۔

ہم مرد حضرات بس چند دنوں کی لاک ڈاؤن سے پریشان ہو گئے۔ جیسے جیسے لاک ڈاؤن بڑھتا جا رہا ہے ہمارا مزاج بگڑ رہا ہے، موڈ خراب ہو رہا ہے۔

ذرا سوچئے ہماری مسلمان عورتیں کس طرح ساری زندگی گھر کی چار دیواری کے اندر لاک ڈاؤن میں گزار لیتی ہیں۔ جب کوئی مسلمان عورت بیوی بن کر کسی کے گھر آجاتی ہے تو پھر وہ ساری زندگی اسی گھر میں لاک ڈاؤن میں ہی رہتی ہے، کوئی شکایت یا کوئی واویلا نہیں کرتی۔ بس کبھی کھبار میکے یا باہر جانے کی فرمائش کر دیتی ہے، تو اس پر بھی ہم میں سے بعض مرد کا موڈ خراب ہو جاتا ہے اور عذر پیش کرنے لگتے ہیں کہ ابھی تھکا ہوا ہوں، ابھی آفس سے آیا ہوں، ابھی کام ہے وغیرہ وغیرہ اور تمہیں باہر جانے کی سوجھی ہے۔

حالیہ لاک ڈاؤن میں گھر میں رہ کر جب آپ گھبراہٹ یا اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں تو اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی، بہو وغیرہ کی طرف دیکھئے اور مسکرا دیجئے۔ یہ مسکراہٹ آپ کو مثبت انداز میں سوچنے کیلئے آکسیجن فراہم کرے گا جس سے آپ تازگی محسوس کریں گے۔ اس لاک ڈاؤن کے تجربے سے آپ نے یہ تو سمجھ ہی لیا ہوگا کہ 24 گھنٹے گھر میں رہنا بھی آسان نہیں۔

لہذا آج عہد کیجئے کہ اگر آئندہ کبھی آپ کی مومنہ بیوی جو آپ کے گھر میں لاک ڈاؤن میں ہے گھبرا جائے یا اکتاجائے اور تھوڑی دیر کیلئے باہر جانے کی فرمائش کر بیٹھے تو آپ خندہ پیشانی اسکی خواہش پوری کریں گے۔ لیکن اس معاملے میں شریعت کے قوائد و ضوابط کا مکمل خیال رکھا جائے کہ باہر نکلتے وقت پردے کا پورا خیال رکھا جائے اور مخلوط مجالس یا بے حیائی وغیرہ کی جگہ پر جانے سے اجتناب برتیں۔

ہم سب مسلم ملک و معاشرے میں رہنے کے باوجود دین اسلام کی صرف ان باتوں کو جانتے اور مانتے ہیں جو ہمارے فائدے کی ہے۔ عورت تفریح کیلئے باہر تو نکلنا اپنا حق سمجھتی ہیں لیکن پردہ کرکے باہر جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہیں۔ اسی طرح مرد یہ بات کو تو جانتے ہیں کہ ۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ۔ ۔ ۔ (34) سورة النساء
’’مرد عورتوں پر قوام (حاکم، محافظ، منتظم) ہیں‘‘۔ ۔ ۔ (34) سورة النساء

اور اس بنا پر اپنے آپ کو برتر اور بیوی کو کمتر سمجھتی ہے۔ عورت کے ساتھ آج بھی زمانۂ جاہلیت والا سلوک کرتے ہیں۔ جس عورت کو بیوی بناتے ہیں اسے ہی ذلیل اور حقیر سمجھتے ہیں اور اس پر ہی ظلم کرتے ہیں۔ یہ سب دین سے دوری اور منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔

جنہیں دین کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ دین اسلام جس مثبت انداز میں عورت کے حقوق واضح کئے ہیں ویسا نہ کوئی مذہب اور نہ مغربی تہذیب کرسکی ہے اور نہ سکتی ہے۔ اسلام ایک مرد کو اپنی بیوی کے بارے ہمیشہ مثبت سوچنے کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۔ ۔ ۔ (١٨٧) سورة البقرة
” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں“۔ ۔ ۔ (١٨٧) سورة البقرة

یعنی ایک دوسرے کیلئے باعث زینت اور باعث آرام ہیں، ایک دوسرے کے عیوب اور رازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، ایک دوسرے کو گناہوں کی آلودگی اور گندگی بچانے والے ہیں وغیرہ وغیرہ

بیوی اللہ کی طرف سے مرد کو بطور امانت دی گئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے اُنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت لیا ہے‘‘۔ (سنن ابوداؤد: 1905)

اور امانت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور امنت کا حساب لیا جائے گا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر اپنے ماتحت کیا ہے اور اللہ کے کلمہ (نکاح) سے انہیں اپنے لیے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو تمہارا بستر نہ روندنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم اُن کو ایسی سزا دو جس سے چوٹ نہ لگے اور ان کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور (شرعی) کے موافق خوراک اور لباس فراہم کرو۔‘‘ (1صحیح مسلم : 2905، ترقیم فوادعبدالباقی: 1218)

مرد کو عورت کی جملہ ضروریات کا کفیل بنایا گیا ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا (بدصورت) نہ کہو، اور اس سے بطور(تنبیہ)علیحدگی اختیار کرنی ہو تو گھر کے اندر ہی کرو ‘‘۔ (سنن ابی داود: ٢١٤٢)

بیوی کو گالی دینا اور مارنا منع ہے:
فرمایا: ’’چہرے پر نہ مارو، برا بھلا (بدصورت) نہ کہو‘‘۔(سنن ابی داود: ٢١٤٢)
اور فرمایا: ''تم میں سے ایک آدمی اٹھتا ہے اور اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے (اس نادان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ شائد اس دن کے آخر ) اس کے ساتھ وہ ہم بستری بھی کرتا ہے۔ صحیح بخاری(٤٩٤٢)

عورت کے ساتھ خوش اصلوبی سے نبھاہنے کی تلقین کی گئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی مثال پسلی کی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے“۔ (سنن ترمذی، رقم : ١١٨٨)

جس مرد کو نیک بیوی مل گئی اسے دنیا کی سب سے بہترین خزانہ مل گیا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بےشک ساری دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے ‘‘۔ (صحيح مسلم، حدیث نمبر: 3649، ترقیم فوادعبدالباقی: 1467)

سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں میں سے بیتر ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو“۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: ١١٦٢)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: 3895)

آج کی جدید دنیا عورت کے بارے مثبت سوچ رکھنے کا کہتی ہے جبکہ اسلام 1450 سال پہلے ہی عورت کے حقوق کو مثبت انداز میں بیان کیا اور تمام دنیا کے مردوں کو عورت کے بارے میں مثبت سوچ دیا۔

لہذا ضروری ہے کہ تمام مسلمان مرد اپنی مومنہ بیویوں کے حقوق سے واقف ہوں اور ہر مسلمان عورت (چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا کوئی اور ہو) کے بارے میں مثبت سوچ اپنائیں۔ جب ہم اپنی عورتوں کے بارے میں مثبت سوچ اپنائیں گے تو ہمارے گھروں سے فساد اور گھریلو تشدد کا خاتمہ ہوگا اور ہمارا گھر جنت کا نمونہ بنے گا۔

لہذا مثبت سوچ اپنائیے زندگی بناتی ہے۔
تحریر: محمد اجمل خان



’’آدھی دنیا ہو تم، آدھی کو تم جنم دیتی ہو‘‘

کتنا بڑا اعزاز ہے!

اور علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:

’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں‘‘

ان الفاظ کے بعد عورت کی تعریف میں کوئی کیا لکھ سکتا ہے لیکن مردوں کوسمجھانے کیلئے بہت کچھ ہے۔

ہم مرد حضرات بس چند دنوں کی لاک ڈاؤن سے پریشان ہو گئے۔ جیسے جیسے لاک ڈاؤن بڑھتا جا رہا ہے ہمارا مزاج بگڑ رہا ہے، موڈ خراب ہو رہا ہے۔

ذرا سوچئے ہماری مسلمان عورتیں کس طرح ساری زندگی گھر کی چار دیواری کے اندر لاک ڈاؤن میں گزار لیتی ہیں۔ جب کوئی مسلمان عورت بیوی بن کر کسی کے گھر آجاتی ہے تو پھر وہ ساری زندگی اسی گھر میں لاک ڈاؤن میں ہی رہتی ہے، کوئی شکایت یا کوئی واویلا نہیں کرتی۔ بس کبھی کھبار میکے یا باہر جانے کی فرمائش کر دیتی ہے، تو اس پر بھی ہم میں سے بعض مرد کا موڈ خراب ہو جاتا ہے اور عذر پیش کرنے لگتے ہیں کہ ابھی تھکا ہوا ہوں، ابھی آفس سے آیا ہوں، ابھی کام ہے وغیرہ وغیرہ اور تمہیں باہر جانے کی سوجھی ہے۔

حالیہ لاک ڈاؤن میں گھر میں رہ کر جب آپ گھبراہٹ یا اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں تو اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی، بہو وغیرہ کی طرف دیکھئے اور مسکرا دیجئے۔ یہ مسکراہٹ آپ کو مثبت انداز میں سوچنے کیلئے آکسیجن فراہم کرے گا جس سے آپ تازگی محسوس کریں گے۔ اس لاک ڈاؤن کے تجربے سے آپ نے یہ تو سمجھ ہی لیا ہوگا کہ 24 گھنٹے گھر میں رہنا بھی آسان نہیں۔

لہذا آج عہد کیجئے کہ اگر آئندہ کبھی آپ کی مومنہ بیوی جو آپ کے گھر میں لاک ڈاؤن میں ہے گھبرا جائے یا اکتاجائے اور تھوڑی دیر کیلئے باہر جانے کی فرمائش کر بیٹھے تو آپ خندہ پیشانی اسکی خواہش پوری کریں گے۔ لیکن اس معاملے میں شریعت کے قوائد و ضوابط کا مکمل خیال رکھا جائے کہ باہر نکلتے وقت پردے کا پورا خیال رکھا جائے اور مخلوط مجالس یا بے حیائی وغیرہ کی جگہ پر جانے سے اجتناب برتیں۔

ہم سب مسلم ملک و معاشرے میں رہنے کے باوجود دین اسلام کی صرف ان باتوں کو جانتے اور مانتے ہیں جو ہمارے فائدے کی ہے۔ عورت تفریح کیلئے باہر تو نکلنا اپنا حق سمجھتی ہیں لیکن پردہ کرکے باہر جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہیں۔ اسی طرح مرد یہ بات کو تو جانتے ہیں کہ ۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ۔ ۔ ۔ (34) سورة النساء
’’مرد عورتوں پر قوام (حاکم، محافظ، منتظم) ہیں‘‘۔ ۔ ۔ (34) سورة النساء

اور اس بنا پر اپنے آپ کو برتر اور بیوی کو کمتر سمجھتی ہے۔ عورت کے ساتھ آج بھی زمانۂ جاہلیت والا سلوک کرتے ہیں۔ جس عورت کو بیوی بناتے ہیں اسے ہی ذلیل اور حقیر سمجھتے ہیں اور اس پر ہی ظلم کرتے ہیں۔ یہ سب دین سے دوری اور منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔

جنہیں دین کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ دین اسلام جس مثبت انداز میں عورت کے حقوق واضح کئے ہیں ویسا نہ کوئی مذہب اور نہ مغربی تہذیب کرسکی ہے اور نہ سکتی ہے۔ اسلام ایک مرد کو اپنی بیوی کے بارے ہمیشہ مثبت سوچنے کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۔ ۔ ۔ (١٨٧) سورة البقرة
” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں“۔ ۔ ۔ (١٨٧) سورة البقرة

یعنی ایک دوسرے کیلئے باعث زینت اور باعث آرام ہیں، ایک دوسرے کے عیوب اور رازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، ایک دوسرے کو گناہوں کی آلودگی اور گندگی بچانے والے ہیں وغیرہ وغیرہ

بیوی اللہ کی طرف سے مرد کو بطور امانت دی گئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے اُنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت لیا ہے‘‘۔ (سنن ابوداؤد: 1905)

اور امانت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور امنت کا حساب لیا جائے گا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر اپنے ماتحت کیا ہے اور اللہ کے کلمہ (نکاح) سے انہیں اپنے لیے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو تمہارا بستر نہ روندنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم اُن کو ایسی سزا دو جس سے چوٹ نہ لگے اور ان کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور (شرعی) کے موافق خوراک اور لباس فراہم کرو۔‘‘ (1صحیح مسلم : 2905، ترقیم فوادعبدالباقی: 1218)

مرد کو عورت کی جملہ ضروریات کا کفیل بنایا گیا ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا (بدصورت) نہ کہو، اور اس سے بطور(تنبیہ)علیحدگی اختیار کرنی ہو تو گھر کے اندر ہی کرو ‘‘۔ (سنن ابی داود: ٢١٤٢)

بیوی کو گالی دینا اور مارنا منع ہے:
فرمایا: ’’چہرے پر نہ مارو، برا بھلا (بدصورت) نہ کہو‘‘۔(سنن ابی داود: ٢١٤٢)
اور فرمایا: ''تم میں سے ایک آدمی اٹھتا ہے اور اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے (اس نادان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ شائد اس دن کے آخر ) اس کے ساتھ وہ ہم بستری بھی کرتا ہے۔ صحیح بخاری(٤٩٤٢)

عورت کے ساتھ خوش اصلوبی سے نبھاہنے کی تلقین کی گئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی مثال پسلی کی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے“۔ (سنن ترمذی، رقم : ١١٨٨)

جس مرد کو نیک بیوی مل گئی اسے دنیا کی سب سے بہترین خزانہ مل گیا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بےشک ساری دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے ‘‘۔ (صحيح مسلم، حدیث نمبر: 3649، ترقیم فوادعبدالباقی: 1467)

سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں میں سے بیتر ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو“۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: ١١٦٢)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ (سنن ترمذي، حدیث نمبر: 3895)

آج کی جدید دنیا عورت کے بارے مثبت سوچ رکھنے کا کہتی ہے جبکہ اسلام 1450 سال پہلے ہی عورت کے حقوق کو مثبت انداز میں بیان کیا اور تمام دنیا کے مردوں کو عورت کے بارے میں مثبت سوچ دیا۔

لہذا ضروری ہے کہ تمام مسلمان مرد اپنی مومنہ بیویوں کے حقوق سے واقف ہوں اور ہر مسلمان عورت (چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا کوئی اور ہو) کے بارے میں مثبت سوچ اپنائیں۔ جب ہم اپنی عورتوں کے بارے میں مثبت سوچ اپنائیں گے تو ہمارے گھروں سے فساد اور گھریلو تشدد کا خاتمہ ہوگا اور ہمارا گھر جنت کا نمونہ بنے گا۔

لہذا مثبت سوچ اپنائیے زندگی بناتی ہے۔
تحریر: محمد اجمل خان