جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو
میں نہیں کہتا کتابوں میں لکھا ہے یارو

مڑ کے دیکھوں تو کدھر اور صدا دوں تو کسے
میرے ماضی نے مجھے چھوڑ دیا ہے یارو

اس سزا سے تو مرا جی ہی نہیں بھرتا ہے
زندگی کیسے گناہوں کی سزا ہے یارو

شب ہے اس وقت کوئی گھر نہ کھلا پاؤ گے
آؤ مے خانہ کا دروازہ کھلا ہے یارو

کوئی کرتا ہے دعائیں تو یہ جل جاتا ہے
میرا جیون کسی مندر کا دیا ہے یارو

میں اندھیرے میں رہوں یا میں اجالے میں رہوں
ایسا لگتا ہے کوئی دیکھ رہا ہے یارو

حال کا زخم تو ماضی سے بہت گہرا ہے
آج زخمی مرا سایہ بھی ہوا ہے یارو

انتظار آج کے دن کا تھا بڑی مدت سے
آج اس نے مجھے دیوانہ کہا ہے یارو