کورونا ۔۔۔ ایسا بھی ہونا تھا ...... تحریر : طیبہ بخاری

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کیا سے کیا ہو گئی ، آج کے دور کے انسان نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ اسے کورونا وائرس کا سامنا کرنا ہو گا اور جدید دور میں جدید سہولیات کیساتھ زندگی بسر کرنیوالوں کیساتھ'' ایسا بھی ہونا تھا ‘‘جیسا آجکل ہو رہا ہے اور جیسا آئندہ مستقبل میں ہونیوالا ہے ۔ ترقی کی دوڑ میں بڑے بڑے نام رکھنے والے ممالک کورونا کے سامنے ہتھیار ڈالتے نظر آ رہے ہیں ، ہر کوئی مدد کا محتاج ہے ذرا غور کریں کہ کیا کبھی آپ نے سوچا تھا کہ دنیا خاص کر امریکہ سپر پاور کیساتھ ایسا بھی ہونا تھا ۔ ۔ چند ایسے ہی تلخ حقائق حاضر ہیں۔
٭:آج سپر پاور امریکہ کی معیشت ہی نہیں بیٹھی کورونا پوری عالمی معیشت کو لے بیٹھا ہے۔۔۔
٭:دنیا بھر میں تیزی سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔
٭:یورپی یونین تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہو چکی ہے۔۔۔
٭: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ'' امریکہ میں معاشی سرگرمیوں کو کب بحال کرنا ہے یہ میرے لیے سب سے بڑا فیصلہ ہوگا۔ میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ درست ہو، لیکن میں بغیر سوال کے یہ کہوں گاکہ مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لیناہے۔ ‘‘
٭:صرف اریاست نیویارک میں کورونا سے ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد کئی ممالک سے زیادہ ہو چکی ہے ۔وائس آف امریکہ کے مطابق نیویارک میں ہلاکتیں 8ہزار کے قریب ہوچکی ہیں جبکہ کیسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے تاہم مقامی حکام اور ڈاکٹرز کو یقین ہے کہ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ گھروں پر ہونیوالی اموات میں 8 گنا اضافہ ہوچکاہے،لاوارث میتوںکے قبرستان میں قبریں کھودنے کے بجائے بڑی خندقوں میں متعدد تابوت ایک ساتھ دفن کیے جا رہے ہیں ۔
٭:کینسر کو شکست دینے والے امریکی گلوکار جان پرائن بھی کورونا سے ہار گئے اور 73 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو ئے۔ پرائن چند روز قبل عالمی وباء میںمبتلا ہو ئے تھے انکا فنی سفر 50برس کے قریب جاری رہا، وہ امریکہ میں فوک موسیقی کا نمایاں ترین نام شمار ہوتے تھے۔گریمی ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات جیتنے والے پرائن زندگی میں 2 بار سرطان میں مبتلا ہوئے پہلی بار 1988 ء اور دوسری بار 2013ء میں وہ کیسنر سے متاثر ہوئے تھے تاہم دونوں مرتبہ انہوں نے سرطان پر غلبہ پا لیا تھا لیکن وہ کورونا کو شکست نہ دے سکے۔ انکا پہلا میوزک البم 1971ء میں ریلیز ہوا تھا ۔
٭:کیا آپ جانتے ہیں کہ کورونانے دنیا کی طاقتور ترین معیشت رکھنے والے ملک امریکہ کے شہریوں کو بھی راشن کیلئے قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور کرد یاہے ۔ ریاست کیلیفورنیا میں مفت راشن بانٹنے والے سٹور کے سامنے گاڑیاں اور لوگوں کی لمبی قطار یں دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کرنے کیلئے کافی ہیں ۔لاس اینجلس میں ایک فوڈ سٹور نے ضرورت مندوں کیلئے اشیائے خوردو نوش کے جب پیکٹ تقسیم کیے تومفت راشن لینے کیلئے سٹور کے باہر ڈیڑھ کلومیٹر تک گاڑیوں کی طویل قطار لگ گئی، گذشتہ دنوں میڈیا یہ مناظر دکھانے پر مجبور ہو گیا کہ بارش کے باوجود راشن لینے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد قطاربنائے کھڑی رہی اور بارش میں بھیگتی رہی۔ ان لمبی لمبی قطاروں کو دیکھ کر صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا کے باعث امریکہ میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر 10 میں سے 1 امریکی بے روزگار ہوگیا ہے اورامریکہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے جہاں 33 ہزار نئے مریضوں کے ساتھ مجموعی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 18 ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
٭:کیا ایسا بھی ہونا تھا کہ ۔۔۔ ریاست نیویارک میں کورونا سے جاں بحق ہونیوالوں کیلئے قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور ہزاروں افراد کی اجتماعی قبریں ایک مضافاتی جزیرے ہارٹ آئس لینڈ میں بنائی جا رہی ہیں۔ اس جزیرے پر روزانہ کم از کم2درجن افراد کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جارہا ہے اور یہ کام ہفتے کے 5دن جاری رہتا ہے ۔ دیہاڑی پر لائے گئے متعدد مزدور حفاظتی لباس پہن کر قبروں کی کھدائی اور تابوت اجتماعی قبروں میں رکھتے ہیں۔ نیو یارک کے مردہ خانوں میں گنجائش کم ہو رہی ہے،عام طور پر نیویارک شہر سے باہر چھوٹے چھوٹے جزائر پر ان غریب افراد کو دفن کیا جاتا تھا جن کے لواحقین اپنے پیاروں کی شہری قبرستانوں میں تدفین کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔کوورونا سے جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین اگر 2 ہفتوں میں لاش وصول نہیں کرتے تو میت کو اس جزیرے پر دفنا دیا جاتا ہے۔آئس لینڈ جزیرے پر قبروں کی کھدائی کیلئے عام طور پر جیل سے قیدیوں کو لایا جاتا ہے لیکن کورونا کے سبب یہ عمل روک دیا گیا ہے،شہر میں لاک ڈائون کے سبب لواحقین کو تجہیزوتکفین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں اور یہ کام کنٹریکٹ پر رکھے ملازمین کر رہے ہیں۔
٭:برطانیہ کا ذکر کریں تو وہاںکورونا کی وجہ سے مسلمانوں کو دفنانے کیلئے اجتماعی قبریں وسیع پیمانے پر کھودی جا رہی ہیں ایک پلاٹ جو 10 میٹر لمبا اور 2میٹر چوڑا ہے اور جنوب مشرقی لندن میں واقعہ ہے اس میں مشینوں کے ذریعے قبریں کھودنے کا سلسلہ جاری ہے۔مسلم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا سے زندگی کی بازی ہارنے والے مسلمانوں کی میتیں جلانے کی بجائے قبرستان بھجوا دی جائیں تاکہ ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہو سکے۔
٭:میڈیا رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا کے تیزی سے پھیلائو کے باعث برطانیہ میں انسانی اعضا ء کی پیوند کاری کا نیٹ ورک مجبوراً بند کیا جا سکتا ہے۔ نیٹ ورک چلانے والی باڈی این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ (این ایچ ایس بی ٹی) نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا ایک اہم سبب انتہائی نگہداشت کے شعبے پر دبائو ہے تاہم پیوند کاری کرانے والے مریضوں کو بھی خدشہ ہے کہ مدافعتی نظام کمزور پڑنے کے باعث یہ ممکن ہے کہ ان کے جسم نئے اعضاء کو مسترد کر دیں۔گذشتہ سال برطانیہ میں ان مہینوں کے دوران یومیہ 80 سے زائد ٹرانسپلانٹ کئے گئے تھے۔ تاہم آج کل بہت کم تعداد میں ایمرجنسی ٹرانسپلانٹ کئے جا رہے ہیںجن میں سے بیشتر دل اور جگر کے ہوتے ہیں۔این ایچ ایس بی ٹی پر ٹرانسپلانٹ اور ڈونیشن کیلئے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر جان فورسیتھ نے تسلیم کیا کہ وباء جاری رہنے تک ٹرانسپلانٹ سسٹم کو دبائو کا سامنا کرنا پڑیگا۔ جن ممالک میں کورونانے پنجے گاڑھے ہوئے ہی سنا ہے وہاں بھی ٹرانسپلانٹ ممکن نہیں ہے ہم بھی اس انتہا تک پہنچ سکتے ہیں، اعضا ء کے عطیات جمع کرنے اور پیوندکاری کیلئے ہم مسلسل سخت محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اعضا ء عطیہ کرنیوالوں اور پیوند کاری کا انتظار کرنیوالوں، دونوں کو انتہائی دیکھ بھال کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ بہت کم ڈونر فیملیز رابطہ کر رہی ہیں تاہم سرجنز بھی ایسے مریضوں کی پیوندکاری کرتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہوکیونکہ قریب ہی کوویڈ19 کے مریض موجود ہوتے ہیں۔
٭:اٹلی میں کورونا سے اب تک 100 ڈاکٹرز اور 30 نرسز جان گنوا چکے ہیں۔
غریب اور ترقی پذیر ممالک کیلئے موجودہ غمناک حالات اپنے اندر بہت سے اسباق سموئے ہوئے ہیں ، انسانیت جس بڑے اور بُرے امتحان سے گزر رہی ہے اس میں دعا ، ہمت اور حوصلے سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے ۔