آؤ دامن بھرلیں .... حافظ محمد ادریس

اللہ اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے‘ وہ ہر دن شب آخر بندوں کو پکار کر فرماتا ہے: ہے کوئی‘ گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کردوں؟ ہے کوئی‘ سوال کرنے والا کہ میں اس کا دامن بھر دوں؟ یہ صدائے دل آویز سننے والے دنیا سے چلے گئے۔ وہ راتوں کو جاگتے تھے۔ آج راتوں کو جاگنے والوں کو ٹی وی ڈراموں اور لغوپروگراموں میں وقت ضائع کرنے کے علاوہ کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ خال خال خوش نصیب بندے آج بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ اپنے اشکوں سے وضو کریں اور اللہ سے رشتہ جوڑیں۔ ماہِ رمضان المبارک میں تو بالخصوص رات ہی نہیں‘ دن کی ہر گھڑی میں بھی دربارِ ربّانی سے دعوت عام دی جاتی ہے کہ اللہ کے بندو! سنہری موقع ہے‘ اپنا دامن نیکیوں سے بھر لو‘ وہاں کسی چیز کی کمی نہیں‘ کمی اگر ہے تو ہماری طرف سے ہے۔ ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
ماہ ِصیامِ ‘اعتکاف اور لیلۃ القدر کی تلاش اتنا عظیم عمل ہے کہ آنحضورؐ نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان مواقع پر اللہ اپنے بندوں پر فخرکرتا ہے۔ امام بیہقی نے حضرت انس بن مالکؓ کی روایت نقل کی ہے‘ جس کا ترجمہ یوں ہے: ''رسول کریم ﷺنے فرمایا:جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل ؑ ملائکہ کے ایک جھرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دعا کرتے ہیں‘ جو اس وقت کھڑاہوا یا بیٹھا ہوا اللہ عزوجل کا ذکر کر رہا ہو(جاگ رہا ہو اور عبادت کر رہاہو)‘پھر عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور انہیں مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو!اس اجیر (مزدور)کی جزا کیا ہے ‘جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کردیا۔فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اے میرے ملائکہ ! میرے ان بندوں نے اپنا وہ فرض ادا کردیا‘ جو میں نے ان پر عائد کیا تھا‘پھر اب یہ گھروں سے(عید کی نماز ادا کرنے اور)مجھ سے گڑگڑا کر مانگنے کے لیے نکلے ہیں اور میری عزت اور میرے جلال کی اور میرے کرم اور میری علوِّشان کی‘اور میری بلند مقامی کی قسم ہے کہ میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا‘ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے:جائو میں نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا۔حضور ؐنے فرمایا کہ پھر وہ اس حالت میں پلٹتے ہیں کہ انہیں معاف کر دیا جاتا ہے۔‘‘(سنن بیہقی )
سید مودودیؓ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں : ''اللہ تعالیٰ سال کے سال اپنے مومن بندوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے‘ کیونکہ انہوں نے رمضان کے روزے رکھے اور لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو عبادت کرتے رہے‘پھر عید کے روز نماز کیلئے نکلے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس کے ہاں سے مغفرت اور مہربانیاں حاصل کرکے پلٹتے ہیں۔‘‘ (کتاب الصوم‘ص266)
نبی اکرم ﷺ عام دنوں میں بھی عبادت کا بڑا اہتمام فرمایا کرتے تھے‘ مگر رمضان میں تو شان ہی نرالی ہوتی تھی‘شعبان ہی میں کمرِ ہمت باندھ لیتے اور رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ نیکیوں میں یوں مشغول ہو جاتے‘ جیسے تند و تیز ہو اچلنے لگتی ہے‘ پھررمضان المبارک کا آخری عشرہ تو بالخصوص آپ ؐکے انہماک و وارفتگی کی ایسی تصویر پیش کرتا کہ سبحان اللہ!حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زبانی امام مسلم نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ رمضان کے آخری عشرے میں عبادت الٰہی میں جس قدر محنت و مشقت فرمایا کرتے تھے‘اس کی مثال کسی اور زمانے اور ایام میں نہیں ملتی۔
جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف رسول کریمﷺ کی سنت مؤکدہ ہے۔ آپؐ نے ایک سال کے سوا ہمیشہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارا۔ ایک سال آپ ؐ جہاد پر نکل جانے کی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے اور اگلے سال آپ ؐنے دس کی بجائے بیس روز کا اعتکاف فرمایا۔اتفاق سے یہی حضور ﷺ کا آخری اعتکاف تھا۔ آج کل کورونا وائرس کی وجہ سے جو عمومی صورتِ حال ہے‘ اس میں مساجد کے اندر اگر عام لوگوں کو اعتکاف کی اجازت نہ ہوتو عملۂ مسجد یعنی امام‘ خطیب‘ موذن اور خادمین میں سے ایک یا زیادہ افراد کو لازماً اعتکاف کا اہتمام کرنا چاہیے‘ جس مسجد میں پانچ وقتہ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو‘ اس میں اعتکاف نہ کیا جائے تو ساری بستی گناہ گار شمار ہوتی ہے‘ اگر ایک شخص بھی اعتکاف کرلے تو ثواب کا مستحق وہی ہوگا‘ مگر پوری بستی پر کوئی بوجھ اور مواخذہ نہ ہوگا۔ بحالات موجودہ مردوں کا گھروں میں نماز اور تراویح پڑھنے کا تو جواز ہے‘ مگر اعتکاف مساجد ہی میں کرسکتے ہیں۔ گھروں میں اعتکاف کا صرف خواتین کیلئے جواز ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر سال ہمارے اوپر سایہ فگن ہوتاہے‘اس میں امت مسلمہ کیلئے اللہ نے اپنی بے پایاں رحمت سے لیلۃ القدر کی نعمت ِ عظمیٰ مقدر کر رکھی ہے۔اس کی تلاش پورے رمضان المبارک میں ہونی چاہیے‘ مگر آخری عشرہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے‘جو مسلمان بھی اعتکاف کر سکتا ہو ‘اُسے اپنا دامن بھرنے کیلئے ضرور اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔آپ دس روز اعتکاف نہ بھی کرسکیں تو مسجد میں کچھ دیر کے لیے بھی اعتکاف کی نیت سے بیٹھ سکتے ہیں۔بہرحال مطلوب تو یہی ہے کہ آپ اعتکاف میں دس روز لگائیں۔یہی مسنون اعتکاف ہے۔یہ اعتکاف اجتماعی ہو تو اس کے نتائج و ثمرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔یہ بات قابل ترجیح ہے کہ اپنے محلے یا بستی کی مسجد میں آپ اعتکاف کریں۔اعتکاف کیلئے اپنے ساتھی پہلے سے تلاش کرلیجیے‘ جو ساتھی آپ کی نظرمیں ہیں اور جن کو آپ دین حق کا کارکن بنانا چاہتے ہیں‘ ان سے رابطہ کر لیجیے۔اعتکاف کے دنوں میں آپ اپنے اندر جتنا ذہنی انقلاب برپا کر سکتے ہیں ‘شاید پورے سال ممکن نہ ہو۔
اعتکاف کے دوران دنیوی باتوں اور دلچسپیوں سے مکمل اجتناب کیجیے۔ اعتکاف سنت کے عین مطابق ہونا چاہیے۔معتکِفانتہائی اشد ضرورت کے تحت اپنے معتکَف (اعتکاف کے لیے مختص گوشہ) سے باہر نکل سکتا ہے‘ مثلاً قضائے حاجت اور وضو وغیرہ کے لیے یا غسل واجب ہو جائے تو غسل کے لیے‘ اگر کوئی شخص کھانا پہنچانے والا نہ ہو تو کھانا لانے کیلئے جا سکتا ہے‘ مگر کسی سے کوئی غیر ضروری بات وغیرہ نہیں کرسکتا۔ یہ سارا عرصہ ذکروفکر‘نفل و عبادت‘مطالعہ و تلاوت‘ تعلیم و تعلّم اور خیر و بھلائی کیلئے وقف کردینا چاہیے ۔سہولت کے مطابق پورے چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل پہلے سے ہی بنا لیجیے۔ دوران اعتکاف اس میں ردوبدل کرنا پڑے تو بھی مضائقہ نہیں۔اعتکاف کو محض استراحت اور نیند کا ذریعہ نہ بنائیے۔اس کے دوران خیر و برکت سے اپنا دامن بھرنے کی فکر کیجیے۔لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو بیشتر حصہ عبادت اور تلاوت میں گزاریے۔دل میں یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے آپ کو لیلۃ القدر کی نعمت عطا فرمائے گا۔ لیلۃ القدر نصیب ہوجائے تو سنت کے مطابق خوب دعائیں کیجیے۔
خواتین کا اعتکاف: خواتین بھی اعتکاف کر سکتی ہیں‘ مگر ان کا اعتکاف گھروں میں ہوتا ہے۔ اپنے حالات کے مطابق اپنے گھروں میں دوران اعتکاف جن باتوں کے اہتمام کا تذکرہ بالائی سطور میں ہواہے‘ خواتین کوانھی پر عمل کرناچاہیے‘ اگر خواتین کا کوئی ادارہ یا مرکز ہو اور وہ وہاں مقیم ہوں تو وہ بھی اجتماعی اعتکاف کرسکتی ہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ‘تاہم خاتون کا بہترین اعتکاف اس کے اپنے گھر ہی میں ہوتاہے۔اس حوالے سے سیدمودودیؒ فرماتے ہیں:ازواجِ مطہرات کا اعتکاف مسجد نبوی میں نہیں ‘بلکہ اپنے حجروں میں ہی ہوتا تھا۔ تمام ازواج مطہرات کے حجرے مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ تھے اور ہر ایک کا دروازہ مسجد کے اندر کھلتا تھا۔ نبی ﷺ ازواج مطہرات میں سے جس کے ہاں بھی قیام رکھتے تھے‘ وہاں سے آپ ﷺمسجد کے اندر تشریف لاتے تھے؛ چونکہ یہ حجرے مسجد سے متصل تھے ‘اس لیے ازواج مطہرات کو مسجد کے اندر آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے بھی عورتوں کا اعتکاف مسجد میں نہیں ہوتا‘ بلکہ گھروں ہی میں ہوتا ہے۔ اس لیے ازواجِ مطہرات بھی رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اپنے حجروں میں اعتکاف کرتی رہیں۔ (کتاب الصوم‘ ص268)
اعتکاف مرد کا ہو یا عورت کا‘اس میں روزہ ضروری شرط ہے۔ جو روزہ نہ رکھ سکے‘ اس کا اعتکاف جائز نہیں۔ رمضان کی ہر گھڑی ہمیں اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکر دعائیں مانگنی چاہئیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کردے۔ اس کے ساتھ آج کورونا وبا نے پوری انسانیت کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہر دنیوی طاقت بے بس ہوگئی ہے‘ اس کے مداوے کے لیے بھی ایک ہی دربار ہے‘ جہاں ہمیں عجز وانکسار کے ساتھ مناجات کرنی چاہئیں کہ وہ ذات عالی‘ قادرمطلق اس عالمی مصیبت سے انسانیت کو نجات عطا فرمائے۔ (آمین)