کچھ نہ کچھ تو کیا ہوگا ۔۔۔۔ رؤف کلاسرا

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ میرے کالموں میں ڈاکٹر ظفر الطاف کا بار بار ذکر پڑھ کر بور ہو جاتے ہوں گے ۔ اگر ہوتے ہیں تو معذرت‘ لیکن کیا کروں۔ اُن کو فوت ہوئے پانچ برس ہونے کو ہیں لیکن مجال ہے کوئی دن گزرا ہو جب وہ یاد نہ آئے ہوں یا ان کی باتیں۔ ان جیسا ذہین اور انسان دوست میری زندگی میں نہ کبھی آیا تھا نہ شاید اب آئے گا۔ میری رپورٹنگ کی خاطر تین دفعہ ان کے خلاف انکوائریز ہوئیں۔ ان کے وزیر ان سے ناراض ہوتے کہ آپ کا دوست ہمارے خلاف خبریں لگاتا ہے اور آپ کے دفتر میں ہی سارا دن پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے: جی بالکل درست۔ ایک دفعہ پرویز مشرف نے میرے نام سے ایک حکم نامہ نکالا کہ رئوف کلاسرا آئندہ کسی سرکاری دفتر میں نظر نہیں آنا چاہیے۔ مجھے ذرائع نے اس حکم نامے کی کاپی لا دی۔ میں اگلے تین دن ڈاکٹر ظفر الطاف کے دفتر نہ گیا کہ کہیں میری وجہ سے وہ عذاب میں نہ آئیں۔ تیسرے دن ان کا فون آگیا۔ ان کا سٹائل تھا: ہاں بھائی جان کدھر ہو‘ کیا بات ہے تین دن سے آپ کی زیارت نہیں ہوئی؟ اب میں نے سوچا‘ انہیں کیا بتائوں‘ لیکن انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے: جنرل مشرف کے لیٹر سے ڈر گئے ؟ فوراً آئو‘ بھوک لگی ہے چل کر کہیں کھانا کھاتے ہیں۔
اگر زندگی میں کسی کی موت نے مجھے پر بہت گہرے اثرات ڈالے تو وہ ڈاکٹر نعیم بھائی اور ڈاکٹر ظفر الطاف ہیں۔ جب تک دونوں زندہ تھے تو بھی ان کے مجھ پر اتنے ہی گہرے اثرات تھے جتنے ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد۔ ڈاکٹر صاحب کو چینی کھانوںکا جنون تھا۔ اکیلے وہ کھا نہیں سکتے تھے۔ جب تک درجن بھر لوگ ساتھ نہ ہوں‘ نہیں کھاتے تھے۔ بیس برس پہلے کی بات ہے‘ ایک رات میں گھر پر تھا ‘ رات کے دس بجے بیل ہوئی۔ باہر نکلا توڈاکٹر ظفر الطاف کھڑے تھے۔ مجھے غصے سے ایک طرف ہٹا کر اندر داخل ہو گئے۔ غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہورہا تھا ۔ اندر صوفے پر بیٹھتے ہی کہا :یار بھابی سے پوچھو گھر میں کیا پکا ہے‘ بہت بھوک لگی ہے جو بھی ہے فورا ًلے آئو۔ میں اندر گیا‘ بیوی کو بتایا۔ بچوں سے ڈاکٹر صاحب پیار کرتے تھے‘وہ دونوں بھاگ کر ان سے ملنے آئے۔ دونوں کو پیار کیا‘ انہیں گود میں بٹھایا ‘ لیکن مجھے لگ رہا تھا کوئی بہت سیریس بات ہوگئی ہے۔ خیر میں نے انہیں کریدا تاکہ وہ خود ہی کچھ نارمل ہوجائیں ۔ انہیں کافی دیر لگی ٹھنڈا ہونے میں۔ آخر بولے :یار یہ کون لوگ ہیں‘ یہ کہاں سے اس دنیا میں آگئے ہیں؟ ان کا کیا ضمیر ہے ؟ میں چپ رہا۔ ایسے موقعوں پر میں چپ رہتا ہوں تاکہ اگلا بندہ خود اپنی بات مکمل کرے۔ بولے :ابھی دیکھ لو کیا ہوا ہے؟ تھوڑی دیر پہلے طارق سعید ہارون (مشرف دور میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ تھے) ایف سکس تھری گھر میں آئے۔ ڈاکٹر صاحب تیسری دفعہ عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے کیونکہ وہ جنرل مشرف ‘شوکت عزیز اور رزاق دائود کے رعب میں نہیں آتے تھے اور ایک بھونڈے الزام پر انہیں ہٹایا گیا کہ وہ کسانوں کو پھُٹی کا ریٹ کیوں اچھا دلوانے کی کوشش کررہے تھے۔ جنرل مشرف اس وجہ سے بھی ڈاکٹر صاحب سے ناراض تھے کہ وہ بینظیر بھٹو ‘ زرداری اورنواب یوسف تالپور کے خلاف بیلارس ٹریکٹر امپورٹ میں وعدہ معاف گواہ نہیں بن رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے نیب کو جواب دیا تھا کہ میری ماں نے مجھے وہ دودھ نہیں پلایا کہ میں ایک عورت کے خلاف عدالت میں جا کر گواہی دوں۔ وہ ٹریکٹر میری سمری پر امپورٹ ہوئے تھے‘ اگر کوئی ایکشن کرنا ہے تو میرے خلاف کرو۔ نیب نے آڈٹ پیرے اٹھا کر ان پر مقدمات قائم کر دیے اور ان کی بیگم اسما صاحبہ کو فون کر کے ڈرانا شروع کر دیا کہ خاوند کو کہو کہ وعدہ معاف گواہ بنیں ورنہ خیر نہیں ۔ ایک دن نیب کے افسر نے ان کی بیوی کو یہی دھمکیاں فون پر دیں اور وہ وہیں فوت ہوگئیں۔
خیر کہنے لگے کہ طارق سعید کے ساتھ ایک اور بندہ بھی تھا جسے وہ نہیں جانتے تھے۔ وہ ایک نئی مرسیڈیز کار پر سوار تھا ۔ وہ بندہ کہنے لگا: ڈاکٹر صاحب آپ نے مجھے پہنچانا؟ ڈاکٹر صاحب نے نفی میں جواب دیا تو وہ بولا: آج میں جو کچھ ہوں آپ کی وجہ سے ہوں۔ آپ نے تو مجھے اور میرے خاندان کو بچا لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب حیران ہوئے کہ میں نے ایسا کیا کیا تھا۔ وہ بندہ بولا کہ جب آپ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وفاقی سیکرٹری زراعت تھے تو ایک بڑا کنٹریکٹ تھا‘ میں نے دوستوں سے قرض پکڑ کر اور گھر بیچ کر اس کنٹریکٹ میں بولی دی تھی۔ میری آخری امید یہ کنٹریکٹ تھا‘ لیکن میری بدقسمتی کہ میں وہ کنٹریکٹ ہار گیا۔ مجھے کسی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب سے ان کے گھر ملو۔ میں شام کو آپ کے پاس اسی گھر میں آیا تھا۔ آپ کو میں نے پوری بات بتائی تھی۔ آپ نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا‘ چائے پانی پلایا اور بات پوچھی۔ آپ نے کوئی دوسری بات کیے بغیر فون اٹھایا اور اس کنٹریکٹر کو فون ملایا اور اسے کہا کہ وہ اپنا آدھا کنٹریکٹ مجھے دے دے۔ اس کنٹریکٹر نے کہا: ڈاکٹر صاحب آپ کہتے ہیں تو پورا دے دیتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا: نہیں تم دونوں آدھا آدھا کر لو۔ دونوں کا کام ہوجائے گا۔ یوں مجھے آپ نے اس بندے سے آدھا کنٹریکٹ لے کر دیا اور میری زندگی بدل گئی۔ میرا گھر بچ گیا‘ میرے پاس دولت آگئی اور آج میں گاڑیوں کا مالک ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سب سنا تو مسکرائے اور اتنا کہا: شاید کہا ہو‘ مجھے تو یاد نہیں۔ اس پر طارق سعید نے انہیں کہا : چلو za یار کہیں کھانا تو کھلائو۔ جب وہ ایک چینی ریسورنٹ پہنچے اور بیٹھے تو ڈاکٹر صاحب اور طارق سعید ہارون نیب کے مقدمات پر بات کرنے لگے جو اِن پر نیب قائم کررہا تھا۔ وہ بندہ چپ چاپ ان دونوں کے درمیان نیب کے مقدمات کی گفتگو سنتا رہا۔ پرویز مشرف اور جنرل(ر) امجد کوشش کررہے تھے کہ کسی طرح ایک بڑے بیوروکریٹ کو گرفتار کیا جائے تاکہ پوری بیوروکریسی ڈر جائے اور اس کے لیے انہوں نے ڈاکٹر ظفر الطاف کا انتخاب کیا تھا‘ جنہیں بیوروکریسی میں بہت عزت دی جاتی تھی۔ جنرل امجد ایک دفعہ تو ان کے گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط بھی کر چکے تھے‘ لیکن وہ تو بھلا ہو کراچی کی ایک خاتون وکیل کا جو نیب میں کام کررہی تھیں‘ جنہوں نے وہ کیس فائل پڑھ کر جنرل امجد کو مشورہ دیا تھا کہ اس بندے کو مت چھیڑنا۔ اس خاتون وکیل کو قائل کرنے میں قابلِ احترام بیوروکریٹ محمد اقبال دیوان نے بھی بہت کردار ادا کیا اور سمجھایا تھا کہ اصل دبائو کس کا تھا کہ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنو۔ یہ اور بات کہ جب زرداری صدر بنے تو ان کے سیکرٹری ملک آصف حیات تھے‘ اور انہوں نے زرداری کے حکم پر ڈاکٹر صاحب کو چارج شیٹ کیا‘ کیونکہ انہوں نے ان کی ایک سیاسی سیکرٹری خاتون کے کہنے پر تبادلے نہیں کیے تھے۔
خیر وہ بندہ کچھ دیر سنتا رہا‘ پھر اچانک بولا : ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں: یہ نیب آپ پر اتنے مقدمات کیوں بنا رہا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے اسے بتایا کہ وہی وجہ کہ بینظیر بھٹو‘ زرداری اور نواب یوسف تالپور کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنو۔ وہ بندہ بولا: جناب یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ آپ پر صرف اس وجہ سے مقدمات قائم ہورہے ہوں۔ آپ اتنے برس سیکرٹری زراعت رہے ہوں‘ آپ نے کچھ نہ کچھ کیا توہوگا‘ ایسے کوئی کسی پر تھوڑی مقدمے قائم کرتا ہے۔
یہ سن کر ڈاکٹر صاحب کا دماغ الٹ گیا اور انہوں نے وہیں اسے گالی دی اور کہا: تم نے خود اپنی ساری رام لیلا مجھے سنائی ‘ مجھے تو یاد ہی نہیں تھا۔ اب تم بتائو میں نے تم سے کتنے پیسے لیے تھے وہ کنٹریکٹ دلوانے کے؟ پورے ریستوران میں سناٹا چھا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے میز الٹائی اور طارق سعید ہارون کو بھی برا بھلا کہتے نکل کر سیدھے میرے گھر آگئے۔ مجھے آنسوئوں بھری آنکھوں سے کہا: یار بتائو اب وہ بندہ کہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو کیا ہوگا۔ پتہ نہیں کیوں بیس برس بعد یہ واقعہ مجھے آج اپنے حالات دیکھ کر یاد آگیا اور ڈاکٹر صاحب کی اس رات کی تکلیف محسوس کر کے دل پھر اداس ہوگیا۔ کچھ نہ کچھ تو کیا ہوگا!