حکایت سعدیؒ ..... بنیے کا ادھار

بیان کیا جاتا ہے کہ چند صوفیوں نے ایک بنیے سے ادھار لے لیا لیکن بر وقت رقم ادا نہ کر سکے۔ بنیا ہر روز تقاضا کرتا اور انھیں سخت سست کہتا تھا۔ صوفیوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بنیے کی تلخ باتیں سنیں اور خاموش رہیں۔
ایک دانش مند نے انھیں اس ذلت میں مبتلا دیکھا تو کہا کہ آج جس طرح تم لوگ بنیے کا تقاضا سنتے اور اسے ٹال دیتے ہو، اگر اسی طرح اپنی خواہشوں کو ٹال دیتے یعنی اپنے نفس کا کہا مان کر ادھار کی ذلت نہ اٹھاتے تو تمھارے حق میں بہتر ہوتا
دست سوال غیر کے آگے نہ کر دراز
بہتر ہے اس سے بھوک کی سختی ہزار بار
مفلس ہے گر تو گوشت کی حسرت کبھی نہ کر
اک دن عذاب بنتا ہے قصاب کا ادھار
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں قرض لینے کی مذمت کی ہے اور اس سے بچنے کا نہایت آسان اور عمدہ طریقہ بتایا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ جس طرح ایک مفلس شخص قرض خواہ کا تقاضا سن کر خاموش رہتا ہے اور اس کی تلخ باتوں کو بھی برداشت کرتا ہے، اسی طرح اگر وہ اپنے نفس کے تقاضے پر خاموش رہے اور نفس کی ترغیب کا شکار نہ ہو تو ہر طرح کی ذلت سے محفوظ رہ سکتا ہے۔