گیارہ 11 بدبودار جانور اور پرندے ۔۔۔۔۔ تحریر : وردہ بلوچ

جانوروں کو بدبو کی زیادہ فکر نہیں ہوتی، بلکہ اگر اس سے ان کا شکار کرنے والے دور رہیں تو ان کے لیے بہتر رہتا ہے۔ آئیے ایسے جانوروں اور پرندوں کے بارے میں جانتے ہیں جو سب سے زیادہ بدبودار ہیں۔
سٹنک برڈ: اسے ہوٹزن (hoatzin) بھی کہا جاتا ہے۔ پرندوں کی دنیا میں اس کا نظام انہضام سب سے انوکھا ہے۔ اس کی کھائی ہوئی غذا آنت کے جس حصے میں بیکٹیریا کی مدد سے ہضم ہوتی ہے وہ پچھلے (hind gut) کے بجائے اگلا (fore gut) ہوتا ہے۔ یوں اس کا نظام جگالی کرنے والے میملز مثلاً گائے سے مشابہت رکھتا ہے۔ غذائی نالی میں جہاں اس کی غذا گلتی ہے وہاں سے پرانے گوبر جیسی بو خارج ہوتی ہے۔ اس لیے جنوبی امریکا میں آباد مقامی باشندے پکڑ کر اس کا گوشت تبھی کھاتے تھے جب کوئی اور چارہ نہیں رہتا تھا۔ یہ پرندہ نباتات خور ہے اور پتوں، پھولوں اور پھلوں پر گزارہ کرتا ہے۔
جنوبی ٹمانڈوا: اسے ''چھوٹا چیونٹی خور‘‘ (لیسر آنٹ ایٹر) بھی کہا جاتا ہے تاکہ اپنے قریبی رشتہ دار ''بڑے چیونٹی خور‘‘ سے الگ کیا جا سکے۔ جنوبی ٹمانڈوا اتنا ہی بدبودار ہوتا ہے جتنا سکنک (skunk)۔ عام طور پر اس کا سائز اتنا ہوتا ہے کہ کسی بھوکے جیگوار کا بآسانی شکار بن جائے، لیکن جنوبی امریکا کے اس میمل پر جب حملہ ہوتا ہے تو یہ ہولناک بدبو خارج کرتا ہے۔ شکاری جانور کو بھگانے کے لیے اس کی بو ہی کافی ہوتی ہے، تاہم اس کی مضبوط دُم اور اس کے پنجوں کی پکڑ بھی شکاری کی دوڑ لگوا سکتی ہے۔
بمبارڈیر بھونرا: یہ اپنے اگلے دو حصوں کو رگڑتا ہے۔ ان میں سے ایک میں کیمیکل ہائیڈروکوئینون (hydroquinone) ہوتا ہے جبکہ دوسرے میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ۔ یہ وہی کیمیکل ہے جس سے بالوں کو ڈائی کیا جاتا ہے۔ اگر ان دونوں کو ملایا جائے تو یہ اتنے گرم ہو جاتے ہیں جتنا ابلتا ہوا پانی۔ یہ مرکب دوسروں کو تحلیل کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے بمبارڈیر بھونرے کا یہ کیمیائی ہتھیار حشرات الارض کو موت کے منہ میں ڈال سکتا ہے، انسانوں کو نہیں۔
وُلویرین: یہ دنیا کے سب سے بدبودار جانوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے نام سے لگتا ہے کہ ان کا تعلق بھیڑیوں کے خاندان سے ہے، لیکن ہے نہیں۔ یہ اپنی بدبو اپنا دفاع کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے علاقے کی حدود طے کرنے کے لیے خارج کرتے ہیں۔
کنگ ریٹ سنیک: سانپوں کی بات ہو تو بو کے بجائے زہر اور شکار نگلنے کا خیال آتا ہے۔ لیکن ایشیا کے کنگ ریٹ سنیک (king ratsnake) کو استثنا حاصل ہے۔ یہ اپنی بدبو کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ جب اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے، یہ بدبو چھوڑ دیتا ہے۔
ہوپو: یہ افریقہ اور یوروایشیا میں عام پایا جاتا ہے۔ یہ ہر وقت بدبودار نہیں رہتا۔ البتہ اگر آپ اس کی بدبو سونگھ لیں تو پھر کبھی اسے دیکھنے کی خواہش نہ کریں۔ جب ہوپو مادہ انڈے دے رہی ہوتی ہے یا ان پر بیٹھی ہوتی ہے تو اس کے ''پرین گلینڈ‘‘ میں ایک مائع پیدا ہوتا ہے جس سے گلے ہوئے گوشت کی بو آتی ہے، جو اس کے پروں میں بھی پھیل جاتی ہے۔ اس دوران اگر کوئی اس کی ''رہائش گاہ‘‘ کا دورہ کرے اور ہوپو کو یہ ناگوار گزرے تو وہ اپنی بدبو سے اسے خوب مزہ چکھاتی ہے۔
تسمانی ڈیول: یہ آسٹریلیا کے جزیرے تسمانیہ کا مقامی گوشت خور جانور ہے۔ اسے گھومنے پھرنے کا زیادہ شوق نہیں لیکن شاید بدبو پھیلانے کا ہے۔ یہ اتنی شدید بدبو خارج کرتا ہے کہ اس کا شکار کرنے والا اسے پکڑ کر کھانے کے بارے میں بار بار سوچتا ہوگا۔ البتہ بیشتر انسان اس کے زیادہ قریب اس کی ناپسندیدہ آوازوں کی وجہ سے نہیں جاتے، آوازیں ہی دور بھگانے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
سٹرپٹ پولکیٹ: ان کی مقبولیت کا سبب بھی ان کی بدبو ہے۔ یہ اپنی بدبو سے اپنے علاقے کی سرحدیں طے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شکاریوں کی آنکھوں میں ایک کیمیکل ڈالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مسک بیل: موسم گرما میں نر مسک بیل کے خصوصی غدود سے مائع خارج ہو کر آنکھوں کے راستہ باہر نکلتا ہے اور بالوں تک پھیل جاتا ہے، یہ اتنا بدبودار ہوتا ہے کہ سونگھتے ہی متلی آ جائے۔
سکنک: اس کے قریب نہ جانے میں ہی بھلائی ہے کیونکہ اسے جوں ہی خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ انتہائی ناگوار بدبو چھوڑ دیتا ہے جو ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
سمندری خرگوش: زمین پر بدبو کے معنی پانی میں بدبو سے مختلف ہوتے ہیں۔ مچھلیاں، شارک اور خول دار جانور (crustaceans) زہریلے مواد کو ناپسند کرتے ہیں۔ پانی میں سمندری خرگوش (sea hare) سے زیادہ زہریلا مواد شاید ہی کوئی خارج کرتا ہو۔ جب اسے خطرہ ہوتا ہے تو یہ ارغوانی رنگ کی گیس پھیلا دیتا ہے جو شکاری کے اعصاب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ نیز یہ خود بھی زہریلا ہوتا ہے۔