حکایت سعدیؒ ..... لالچی سوداگر

حضرت سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار ملک ایران کے جزیرہ کیش میں میری ملاقات ایک مال دار سودا گر سے ہوئی۔ اس کا سامان تجارت 40 اونٹوں پر لدا ہوا تھا۔
کارواں سرائے میں یہ سوداگر آرام کرنے کے لیے ٹھہرا تو مجھے اپنے ساتھ اپنی کوٹھڑی میں لے گیا اور ساری رات باتوں کا چرخہ چلائے رکھا۔ کبھی کہتا میرا ایسا مال ترکستان میں ہے۔ فلاں شے ہندوستان میں ہے۔ میں نے اتنی زمین سکندر یہ میں خریدی ہے اور فلاں شخص کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔
پھر بولا، اے سعدی ان دنوں تو مغربی سمندروں میں طوفان ہے۔ موسم ٹھیک ہو گا تو میں اپنی زندگی میں بس ایک سفر اور کروں گا۔ اس کے بعد اطمینان سے اپنی دکان پر بیٹھ جاؤں گا اور باقی عمر یاد خدا میں گزار دوں گا۔
میں نے پوچھا، وہ کون ساسفر ہے جس کا تو نے ارادہ کر رکھا ہے؟ اس نے جواب دیا، میں ایران کی گندھک چین لے جاؤں گا۔ وہاں سے چینی کے برتن خرید کر روم پہنچاؤں گا۔ روم کا ریشہ ہندوستان اور ہندوستان کا کوئلہ حلب لے جانے کا ارادہ ہے۔ حلب کا شیشہ یمن اور یمن کی چادریں ایران میں فروخت کروں گا۔
اس حریص سوداگر کے لمبے چوڑے ارادے سن کر میں تو حیران رہ گیا سچ ہے۔
مال کتنا بھی ملے ہوتا نہیں یہ مطمئن
اپنی محرومی کا سوتے جاگتے کرتا ہے شور
کچھ بھی کر لیں چشم دنیا دار رہتی ہے حریص
یا قناعت اس کو پُر کرتی ہے یا پھر خاص گور
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں اس سچائی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مال کی حرص میں مبتلا ہو جانے والا شخص کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ اس کی حالت استقسا کے مریض کی سی ہوتی ہے کہ وہ خواہ کتنا بھی پانی پی لے اس کی پیاس نہیں بجھتی۔