ملکہ کیتھرائن نے شوہر سے کیسے جان بچائی؟.... تحریر : شفقت رسول


ظالم بادشاہ اپنی دو بیویوں کا سر قلم کر چکا تھا
برطانیہ میں بادشاہت کئی سو سال تک جاری رہی۔ اس دوران کئی بادشاہ آئے جن کا نام تاریخ میں ملتا ہے۔ کئی ملکائیں بھی ایسی تھیں جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی۔
ان میں سے بادشاہ ہنری viii بہت ظالم اور سفاک بادشاہ تھا۔ 1543ء میں اس نے کیتھرائن پار سے شادی کی اور وہ انگلینڈ کی ملکہ بن گئی۔ دراصل کیتھرائن پار خود ہنری viii سے شادی کی آرزو مند تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ کیتھرائن پار کو اس حقیقت کا علم تھا کہ ہنری viii اس سے پہلے اپنی دو بیویوں کا سر قلم کر چکا ہے۔ لیکن جب ایک موقع پر ایسا ہوا کہ اس کے شوہر ہنری viii نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا تو اس نے اپنی جان کیسے بچائی؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کیتھرائن پار کتنی عقل مند اور ہوشیار تھی۔ اس نے اپنے سفاک شوہر سے بچنے کے لیے جس عقل و فراست کا مظاہرہ کیا، اگر اسی فراست اور تدبر کا مظاہرہ ہنری viii کی پہلی دو بیویاں کرتیں تو شاید ان کی بھی جان بچ جاتی۔ کیتھرائن پار کے بعد الزبتھ 1 انگلینڈ کی ملکہ بنی۔ان دنوں ہندوستان میں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی حکومت تھی۔
بہر حال کیتھرائن پار شروع سے ہی ہنری viii کے قریب تھی۔ اس کی ماں بھی اس انتظار میں تھی کہ اس کی بیٹی انگلینڈ کی ملکہ بنے۔ اس لیے اس نے کیتھرائن کا نام بھی ہنری viii کی پہلی بیوی کے نام پر رکھا۔ہنری viii سے شادی کرنے سے پہلے کیتھرائن دو شادیاں کر چکی تھی۔ 1529ء میں جب کیتھرائن 17 برس کی ہوئی تو اس نے تھامس بارو کے بیٹے سر ایڈورڈ بارو سے شادی کر لی ۔ہنری viii کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس نے چھ شادیاں کی تھیں۔
کیتھرائن پار کا پہلا شوہر ایڈورڈ بارو 1533ء میں انتقال کر گیا ۔ پھر اس نے جان ینولی کے ساتھ شادی کر لی۔ دس برس بعد جان ینولی بھی وفات پا گیا اور کیتھرائن پار پھر بیوہ ہو گئی۔ دونوں شوہروں سے اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر 30 برس سے زائد تھی۔ جس سال کیتھرائن پار کے دوسرے شوہر کا انتقال ہوا اسی سال ہی اس نے ہنری viii سے شادی کر لی۔
ہنری سے 1543ء میں شادی کے وقت اسے تھامس سیمور بھی پسند تھا۔ وہ بادشاہ کا برادر نسبتی تھا۔
اس نے سیمور کو خط میں لکھا ''میں تم سے شادی کرنے کی خواہش مند تھی لیکن ہنری کی شادی کی پیش کش نے مجھے مصیبت میں ڈال دیا۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ہنری کی پیش کش ٹھکرا کر اس کے برادر نسبتی سے شادی کرلوں۔‘‘
کیتھرائن پار نے ہنری سے شادی کا فیصلہ کیتھرائن ہاورڈ کی موت کے بعد کیا۔ 13 فروری 1543ء کو ہنری viii نے اپنی دوسری بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے شک تھا کہ اس کی دوسری بیوی کے شادی سے پہلے کسی اور سے مراسم تھے۔ جب بادشاہ نے کیتھرائن پار کو ایک سال بعد شادی کی پیشکش کی تھی تو کیتھرائن کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے تھا کہ ہنری اپنی پہلی دو بیویوں کا سر قلم کر چکا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیتھرائن پار نے ہنری viii کی طرف سے شادی کی پیشکش کیوں قبول کی؟ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کیتھرائن پار چونکہ ملکہ بننا چاہتی تھی اس لیے اس نے یہ خطرہ مول لیا۔ کیتھرائن نے اپنے آپ کو مذہب کے لیے وقف کر دیا۔ ایک موقع پر جب پروٹسٹنٹس حمایت کھو رہے تھے تو کیتھرائن پار نے ملکہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے مذہب کی ترویج کی۔وہ غیر ملکی سفیروں سے ملتی تھی اور کئی بار اس نے ریاست کے نائب سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے ۔جب بادشاہ فرانس پر حملہ کے دوران زخمی ہوا تو اسی نے زخموں کا علاج بھی کیاتھا ۔ اس کے باوجود وہ سکینڈل سے نہ بچ سکی۔
ہنری viii کو کیتھرائن کے سیمور کے ساتھ سابقہ معاشقے کا علم ہو گیا۔ اس کے بعد ہنری viii نے کیتھرائن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔ 1546ء میں ہنری کی صحت خراب ہو گئی اور وہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہ رہا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب اس کا دور ختم ہونے کو ہے۔ جب ملکہ کیتھرائن پار کو اپنی گرفتاری کے وارنٹ کے بارے میں علم ہوا تو وہ صدمے سے بے ہوش ہو گئی۔ فوری طور پر اپنے شوہر کے پاس پہنچی جو بستر علالت پر تھا۔ اس نے رحم کی درخواست کی۔ ہنری نے یاد دلایا کہ اس نے پروٹسٹنٹ نظریات کا ذکر کیا تھااب ان کے مطابق اپنا دفاع کرے ۔ ملکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے بادشاہ کے سامنے مذہب کے بارے میں اس لیے باتیں کی تھیں کیونکہ اس کی فراست سے سیکھنا چاہتی تھی۔
''آخر کار میں ایک عورت ہوں اور مجھ میں خامیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اس لیے میں نے بادشاہ کے سامنے تمام گزارشات پیش کر دیں تاکہ وہ بہتر فیصلہ کر سکے۔‘‘
اگلے روز لارڈ چانسلر ملکہ کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گیا لیکن ہنری نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تھا اور اس نے تمام سپاہیوں کو روک دیا۔ اس طرح ملکہ کیتھرائن پار اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئی۔
1546ء میں ہنری viii کے انتقال کے بعد ایڈورڈ vii بادشاہ بن گیا۔ کیتھرین پار نے تھامس سیمور سے شادی کر لی۔ عقل و فراست سے بھرپور ایسی ملکہ شاید انگلینڈ کی تاریخ میں کوئی اور نہ ہو گی۔