غذا سے تیزابیت کا تدارک ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : محمد ریاض

معدے میں تیزابیت کا مسئلہ یوں تو پوری دنیا میں ہے لیکن ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں مرغن، مصالحے دار اور تیزابی غذائیں رغبت سے کھائی جاتی ہیں۔ بعض غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کوکم کیا جا سکتا ہے۔
ادرک
: ادرک تیزابیت کے خلاف بہت مؤثر ہے۔ ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اور رد سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اور پیٹ کے دیگر امراض میں بھی مفید ہے۔ اگر کسی کو تیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے میں جلن کی شکایت بھی ہے، توادرک کا قہوہ بنا کر قدرے ٹھنڈا کرنے کے بعد پینے سے افاقہ ہو سکتا ہے۔ تازہ ادرک کاچھوٹا ٹکڑا دیگر غذاؤں کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔
سبز پتوں کی سبزیاں
: سبز پتوں کی سبزیاں جیسا کہ پالک، پودینا، دھنیا، میتھی اور بندگوبھی وغیرہ کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنا کر تیزابیت کو دور بھگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر انہیں مرغن اور مصالحے دار بنا کر کھایا جائے گا تو فائدہ نہیں ہو گا۔
دہی
: سینے میں جلن اور تیزابیت کی شکایت ہو تو ایک پیالہ دہی استعمال کر لیں۔ دہی میں کیلا یا خربوزہ ڈال کر آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
کیلا
:کیلے میں الکلائن موجود ہوتا ہے اسی لئے یہ تیزابیت میں مفید رہتا ہے۔ کسی بھی ایسے مسئلے کی صورت میں آپ ایک سے دوکیلے کھا سکتے ہیں۔ ذائقے میں کیلا مزیدارہوتا ہے اس لئے رغبت سے کھایا جاتا ہے۔
جوکا دلیہ
: جن افراد کو تیزابیت کا مسئلہ درپیش ہو، انہیں ناشتے میں جوکا دلیہ کھانا چاہیے۔ اس میں پایا جانے والا ریشہ اپھارہ کے خاتمے میں مدد دیتا ہے۔ یہ پیٹ میں موجود اضافی تیزاب کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس مسئلہ کیلئے کچھ اور ریشے سے لبریز غذائیں بھی مفید ہیں۔
خربوزہ
: خربوزہ الکلائن پھل ہے۔ تیزابیت کی صورت میں اسے استعمال کیجیے، فائدہ دے گا۔ یہ نظام انہضام کے لئے بہت مفید ہے اس کے استعمال سے فوری آرام آتا ہے۔
آلو
: آلو بھی مفید ہیں، لیکن یہ تلے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں۔ جڑ والی دیگر سبزیاں بھی فائدہ دیتی ہیں۔
مچھلی اور سمندری خوراک
: مچھلی اور سمندری خوراک (سی فوڈ) معدے کی تیزابیت میں فائدہ مند ہیں لیکن انہیں تلا ہوا یا مصالحے دار نہیں ہونا چاہیے۔
پارسلے:پارسلے کو ڈشز سجانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ تیزابیت سے نجات دلانے میں بھی اہم ہے۔ دراصل اسے سیکڑوں برسوں سے اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔