بڑی عید اور رضائے الٰہی کا حصول ...... تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی

ہم سب کی دعا ہے کہ اس عید کے موقع پر اللہ تعالیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اتفاق واتحاد عطا فرمائے
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ

(سورۃ الکوثر)

(ترجمہ) توتم اپنے رب کے لئے نمازپڑھواورقربانی کرو۔

’’عیدالا ضحی‘‘ نویدومسرت کا دن ہے جسے تین دن تک منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ دراصل ذوالحجہ کا مہینہ نہایت ہی عظمت اور مرتبے والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ اس جلیل القدر پیغمبرکی یادگار ہے جن کی زندگی قربانی کی عدیم المثال تصویر تھی، یہ پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل علیہ السّلام ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر مسلمانانِ عالم اپنے خالق و مالک کے ساتھ اظہارومحبت کرتے ہوئے اس کے نام پر جانور قربان کرتے ہیں اورسنت ابراہیمی ؑ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ آقائے دو جہاں سرورکون و مکاںصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات طیبہ اپنے جدامجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اورحضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی طرح آزمائشوں اور امتحانوں میں ثابت قدمی سے عبارت ہے۔

امت مسلّمہ کے فرد ہونے کے ناطے ہمارا یہ اوّلین فرض ہے کہ ہم میں سے ہر ایک دین اسلام کی بلندی اورعروج کے لئے جان ودل سے کام کرے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی حیات مقدسہ میں حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی وجہ سے انہیں بارگاہ خداوندی سے شرف امامت بھی عطا کیا گیا۔ باپ بیٹے نے تسلیم جاں کا یہ اظہار صرف زبانی کلامی نہیں کیا، بلکہ عملاًحکمِ الٰہی کی بجاآوری کے لئے بیٹے کی قربانی کی غرض سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں چھری بھی لے لی تھی۔ لیکن حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی زندگی محفوظ رہی کیونکہ ان کی نسل پاک سے جن کی خاطر یہ بزم کونین سجائی گئی، نبی آخرالزّماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت باسعادت ہونی تھی۔ اللہ رب العزت نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کوذبح عظیم کا فدیہ قراردے دیا۔

قربانی کا ثواب

حضوراکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ،ترجمہ :جو آدمی قربانی کرے گااس کا ثواب یہ ہے کہ ہر ایک بال کے عوض میں دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلندکردیے جاتے ہیں۔(غنیۃ الطالبین)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جوشخص خالص نیت سے راہ خدامیں جانور قربان کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کو اس طرح اجردیتا ہے جس کا علم باری تعالیٰ کے سواکسی کونہیں۔ البتہ قربانی کاادنیٰ ترین ثواب تویہ ہے کہ قربانی کے جانورکے خون کاقطرہ زمین پرگرنے کے بدلے پہلے قطرے کاثواب یہ ہے قربانی کرنے والے کو ستر درجے دئیے جاتے ہیں، دوسرے قطرے کے بدلے ستر نیکیاں پاتا ہے اور تیسرے قطرے پر اس کے سترگناہ مٹا دیئے جاتے ہیں، چوتھے قطرے کے بدلے ثواب یہ ہے کہ قربانی کے وقت جو تکبیراللہ اکبرپڑھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوشبوئے مشک سے زیادہ خوشبو دار ہوتی ہے، پانچویں قطرے پراس کے جسم اور زبان کے گناہوںسے یوں پاک کردیا جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، چھٹے قطرے پر اس کے لئے بہشت میں ایک شہر تیارکیا جاتا ہے ساتویں قطرے پر روزمحشر سرداری کے لئے چنا جاتا ہے۔ یہ سرداری مخلوقا ت کی سرداری ہوگی۔ آٹھویں قطرے پراسکو اس کے والدین اور اہل خانہ کو بخش دیاجاتاہے نویں قطرے پر اسکے اور دوزخ کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت کے برابرایک خندق حائل کر دی جاتی ہے ، دسویں قطرے کے بدلے اسکا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا گیارہویں قطرے پراسکی نمازیں اور نیک دعائیں قبول ہونگی بارھویں قطرے پر اسکے لئے آتش دوزخ سے رہائی لکھ دی جاتی ہے۔ ہرقطرے پریہ ثواب بڑھتاچلاجاتا ہے ۔

اللہ پاک اسکی قبرکوروشن فرماتاہے۔اسکی قبرکواتنافراخ کرتاہے جس قدرکہ ستربرس کی راہ ہوتی ہے جب محتاجو ں کوگوشت دینے کے لئے لے جاتاہے تواسکو پہلاقدم اٹھانے پر سفرحج کا ثواب ملتاہے دوسرے قدم پراسکی عمر اوررزق میں برکت ہوتی ہے تیسرے قدم پر اسکے نامہ اعمال میں کوہ ابوقیس کے برابر ثواب لکھ دیا جاتا ہے چوتھے قدم پراسکی آنکھوں میں حضرت عثمان ذوالنورینؓ کی مانند حیاپیدا ہوتی ہے پانچویں قدم پراسکاقلب نرم ہوتاہے چھٹے قدم پراللہ تعالیٰ اسکوفرزندصالح عطافرمائیں گے جو قیامت میں اسکاشفیع ہوگا ساتویں قدم پراسکی قبر آسمان کی چوڑائی کے برابر فراخ کر دی جائیگی۔ اوراسطرح ہرقدم پرثواب بڑھتا چلا جاتاہے اوراس قدر بڑھے گاکہ جسکاعلم سوائے اللہ رب العزت کے کسی کوبھی نہیں۔ پھرجب اپنے بال بچوںکے ساتھ بیٹھ کرقربانی کاگوشت کھاتا ہے تو اسکو ملتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اسکوایمان کامل نصیب فرمائیں گے ، اسکی قبرمیں ایک کھڑکی کھل جائے گی جوقیامت تک روشنی کا باعث ہوگی۔ ہرلقمہ پرثواب بڑھتاچلا جاتا ہے جوشخص قربانی کے گوشت میں سے کسی کو کھلائے گاتو ستر شہیدو ں کاثواب پائے گا، اور موت کے وقت فرشتہ اسکوبشارت سنائے گاکہ اے شخص اللہ تعالیٰ نے تجھے عذاب سے بالکل آزاد کر دیا ہے۔ (تذکرۃ الواعظین)

مالدار کے لئے وعید

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاجوقربانی کرنے کی طاقت رکھتاہوپھروہ قربانی نہ کرے تووہ ہمارے مصلی کے پاس نہ آئے۔محمدابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا قربانی واجب ہے ؟

آپ ؓ نے فرمایا،

ترجمہ: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قربانی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرام ؓنے بھی قربانی کی ، اوریہ سنت جاری ہے۔(سنن ابن ماجہ)

عید الاضحی:عید الاضحی کے دن صبح سویر ے اٹھنا ،غسل ومسواک ،نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،خوشبولگانا، صبح کی نمازاپنے محلہ کی مسجدمیں اداکرنا،عیدکی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا،عیدگاہ کی طرف پیدل چل کر ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا،نماز عید پڑھنے کے لئے جاتے ہوئے تکبیر تشریق بلند آواز سے پڑھنا مسنون ہے۔ عید کی نمازکے لئے خطبہ سنت ہے خطبہ نمازکے بعد ہو گا، عیدکی نمازکسی بڑے میدان میں ادا کرناسنت ہے لیکن بڑے شہریااس جگہ جہاں زیادہ آبادی ہو،ایک سے زائدمقامات پر عیدین کے اجتماع بھی درست ہیں اورمیدان کی بھی شرط نہیں بڑی مساجدمیں بھی یہ اجتماع صحیح ہیں جیساکہ آج کل ہورہاہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگرکسی ایک جگہ اجتماع ہوگاتوبہت سے لوگ نمازعیدسے محروم رہ جائیں گے کچھ توحقیقی مشکلات کی وجہ سے اور کچھ اپنی سستی کے باعث۔

میں اللہ پاک سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہماری تمام جانی و مالی عبادات کواپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرماکرہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔ ملک پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بروزقیامت شفاعت نصیب فرمائے ۔

مسلمانوں کوآپس میں اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے ،اللہ رب العزت عالمِ اسلام اورملک پاکستان کی خیر فرمائے۔ مالک کائنات ارض وسماوات آقائے دوجہاں سرورکون و مکاںؐ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے، کفارو مشر کین ، منافقین، حاسد ین کو ناکام بنائے،حضورپاکصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلاموں کا دونوں جہانوں میں بول بالافرمائے ، آمین۔