میں تو لاہور بھی ہندوستان کو دینے والا تھا: ریڈکلف

ہندوستان اور پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے سیرل ریڈکلف کبھی اس خطے کے تفصیلی دورے پر نہیں آئے۔ تقسیم ہند کے لیے انہوں نے انڈیا کے شمالی حصے کا صرف ایک مرتبہ دورہ کیا۔ اس کا بھی زیادہ تر جائزہ ڈاکوٹا طیارے میں فضائی طور پر لیا۔
اس بارے میں کیے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’’ اگر کچھ لوگوں کی خواہشات پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں تو خامی سیاسی انتظامات میں ہے، میرا اس سے کیا تعلق‘‘۔ ا نہیں برطانیہ میں ذمہ داری سونپی گئی، مختصر عرصے کے لیے متحدہ ہندوستان میں قیام کیا اور ایک ایسی تقسیم کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں 1.20 کروڑ سے 1.50 کروڑ تک لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ،شہیدوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ بڑے پیمانے پر نفرتوں نے جنم لیا اور 70 ہزار مسلمان خواتین اغوا کر لی گئیں۔ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا ،تاریخ خاموش ہے۔ ریڈکلف نے تقسیم کا فیصلہ بظاہر ذاتی سوچ کے مطابق کیا، بھارتی دانشور کلدیپ نائر کو دیا جانے والا انٹرویو اس کا ثبوت ہے۔ریڈکلف اور کلدیپ کے دوران یہ ملاقات 1971ء میں ہوئی۔ کلدیپ نائر ماؤنٹ بیٹن سے ملنے پہنچے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں کی تعین کے لیے باؤنڈری کمیشن کی تحقیق ان کے پیش نظر تھی۔ ہندوستان کو ملنے والے علاقے کس بنیاد پر شامل ہوئے اور بھارت کو دیے گئے علاقوں کی تکنیکی بنیاد کیا تھی۔ اگرچہ باؤنڈی کمیشن میں پاکستان کے دو جج دین محمد اور محمد منیر بھی شامل تھے لیکن وہ ریڈ کلف کے سامنے بے بس رہے۔ بقول کلدیپ نائر ریڈکلف ہی وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں کا تعین کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین لکیریں کھینچ دیں لیکن تمام متعلقہ معلومات اکٹھی کرنے میں ناکام رہے۔ ‘‘کلدیپ کے مطابق دونوں فریقین نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے جامع دلائل پیش کیے، دو چار نقشے نہیں، ٹنوں کاغذات کا ڈھیر تھا جو ریڈکلف کے پیش نظر تھا لیکن کچھ فیصلے انہوں نے ان تمام دلائل سے ہٹ کر کیے۔ کلدیپ نائر نے یہ بھی لکھا کہ باؤنڈری کمیشن کے سربراہ کے طور پر ریڈکلف کا نام قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پیش کیا تھا لیکن اگر یہ ایسا ہوتا تو ہندوستان کو دئیے گئے متعدد علاقے آج پاکستان میں شامل ہوتے۔ انہوں نے کلدیپ نائر کو کیا کہا ،آئیے ذیل میں پڑھتے ہیں۔

ریڈ کلف کہتے ہیں ،’’میں تو لاہورہندوئوں کو تقریباً دے چکا تھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ نوزائیدہ پاکستان میں ایک بھی بڑا شہر نہ ہو گا، اس لیے میں نے لاہور پاکستان میں شامل کر دیا کیونکہ میں کلکتہ جیسا اہم ساحلی شہر پہلے ہی ہندوستان کو دے چکا تھا‘‘۔

کلدیپ نائر اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ تعجب ہے کہ ریڈکلف نے اتنا بڑا فیصلہ کرتے وقت کوئی ضابطہ پیش نظر نہ رکھا۔جب ریڈ کلف سے پوچھا گیا کہ تقسیم پر آپ متفق ہیں تو ان کا جواب انتہائی تعجب خیز تھا، فرماتے ہیں، ’’میرے پاس تو کوئی دوسرا راستہ نہ تھا، وقت کی کمی تھی، اتنے کم وقت میں متبادل کی عدم موجودگی میں میں اس سے اچھا کام کر ہی نہیں سکتا تھا۔ جتنا وقت ملا ویسا کام کر دیا۔ ہاں اگر مجھے دوبارہ بھی اتنا ہی عرصہ ملا تو میں دوبارہ بھی ایسا ہی کام کروں گا۔ لیکن اگر دو سے تین برس دئیے گئے تو میں اپنے کام کو بہتر بنا سکتا ہوں‘‘۔

ریڈ کلف کو کم وقت ملنے کی وجہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا انعقاد تھا۔ پنجاب اور بنگال کی اسمبلیوں نے ووٹ کے ذریعے تقسیم کا فیصلہ کرنا تھا، یہ قانونی تقاضا تھا۔ ریڈکلف نامزدگی کے وقت شملہ میں تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں جولائی میں کام شروع کرنے کے حق میں تھا کیونکہ گرمی شدید تھی اور فیلڈ سروے جون میں ممکن نہ تھا۔ تاہم مولانا عبدالکلام آزاد نے ماؤنٹ بیٹن کو دھمکی دے رکھی تھی کہ وہ ایک دن کا التوا بھی نہیں چاہتے۔ پھر باؤنڈری کمیشن کے دیگر ارکان ریڈکلف کی مرضی کے ناطے وہ ان کے کام سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ وہ اپنے اپنے ملک کے نقطہ نظر کو سامنے رکھنے کے سوا کسی بات پر راضی نہ تھے۔ریڈ کلف کہتے ہیں ’’ ایک جو ممبر مشرقی بنگال سے تعلق رکھتے تھے، میرے پاس آئے اور دارجیلنگ کو پاکستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان ہر موسم گرما میں دارجیلنگ جاتا ہے، اگر یہ بھارت میں شامل ہو گیا تو وہ موسم کہاں انجوائے کریں گے‘‘۔

کلدیپ نائر نے ریڈکلف پر واضح کیا کہ مسلمان ان سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے کئی علاقے ہندوؤں کو دے دئیے ہیں جس پرریڈ کلف بولے ، ’’میں تو لاہور بھی انڈیا کو دینے والا تھا، انہیں تو میرا مرہون منت ہونا چاہیے‘‘۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے جموں کشمیر پر بھارت کو قبضہ کرنے کے لیے فیروز پور ہندوؤں کو دے دیا۔ اس پر ریڈکلف نے مضحکہ خیز جواب دیا ، ’’مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ کشمیر کیا ہے، میں نے بہت عرصہ پہلے لندن جاتے ہوئے کبھی نام سنا تھا‘‘۔ تاہم انہیں کشمیر تنازع کے بارے میں علم ضرور تھا۔