نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,862
    شکریہ
    949
    878 پیغامات میں 1,104 اظہار تشکر

    اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا

    اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا
    تجھ پہ حادثۂ شوق جو گزرا ہوتا
    تو نے ہر چند زباں پر تو بٹھائے پہرے
    بات جب تھی کہ مری سوچ کو بدلا ہوتا
    رکھ لیا غم بھی ترا بار امانت کی طرح
    کون اس شہر کے بازار میں رسوا ہوتا
    جب بھی برسا ہے ترے شہر کی جانب برسا
    کوئی بادل تو سر دشت بھی برسا ہوتا
    آئینہ خانے میں اک عمر رہے محو خیال
    اپنے اندر سے نکل کر کبھی دیکھا ہوتا
    میری کشتی کو بھلا موج ڈبو سکتی تھی
    میں اگر خود نہ شریک کف دریا ہوتا
    تجھ پہ کھل جاتی مری روح کی تنہائی بھی
    میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا
    شاعر ن م راشد

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا

    واہ بہت خوب ۔ شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. انسان بُرا ہوتا ہے زمانہ نہیں
    By ساجد تاج in forum قلم و کالم
    جوابات: 8
    آخری پيغام: 12-23-2012, 12:15 PM
  2. سوالوں کی گرہ میں سوال
    By بےباک in forum قلم و کالم
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 11-30-2012, 09:49 AM
  3. 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج
    By نذر حافی in forum پاکستان کے مجرم
    جوابات: 8
    آخری پيغام: 08-15-2012, 01:59 AM
  4. جوابات: 0
    آخری پيغام: 04-05-2012, 09:36 AM
  5. اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-03-2012, 01:42 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University