حکومت کے 2 سال اور تنازعات

وزیراعظم عمران خان نے 18اگست 2018کو قومی اسمبلی میں حلف اٹھایا تھا اور اپنے نئے پاکستان کے دعوے کے ساتھ ملکی اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ آج حکومت اپنے دو سال مکمل کرچکی ہے۔ ان دوسالوں میں اگرچہ اپوزیشن کے غیر فعال رہنے یا یوں کہہ لیں کہ حکومت کے خلاف کوئی مشترکہ حکمت عملی نہ بنا نے کی وجہ سے ، حکومت کو کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

تاہم موجودہ حکومت اس کے باوجود مختلف مواقع پر کئی معاملات میں اس طرح الجھی کہ اس کے حوالے سے منفی افواہیں گردش کرنا شروع ہوگئیں۔ عوامی ایشوز کو انتظامی طور پر سنبھال نہ سکنے کی وجہ سے صورتحال بد سے بدتر ہوتی رہی اور کپتان کی ٹیم کی خراب کارکردگی نے اسے مزید خوفناک بنا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کپتان کو الیکشن کے دوران کیے گئے اپنے وعدوں اور دعووں سے ایک ایک کرکے پیچھے ہٹنا پڑا جس کے باعث موجودہ حکومت کے حوالے سے یو ٹرن کی اصطلاح عام ہوگئی۔کئی موقعوں پر حکومت گرنے اور معاملات کو نہ سنبھال سکنے کی صورت میں مکمل ناکام ہونے کے تبصرے اکثر اوقات ماہرین کی جانب سے جاری ہوتے رہے۔ صورتحال کی سنگینی اس درجہ بھی بڑھی کہ وزیراعظم عمران خان خود مائنس ون فارمولے کا تذکرہ کر بیٹھے اور اسمبلی فلور میں تو یہاں تک کہہ گئے کہ میرے سوا کوئی آپشن نہیں ہے جس کا دلچسپ جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے یہ دیا کہ آپشن موجود تو ہیں مگر دستیاب نہیں ہے۔بات یہیں تک محدود نہ رہی ، مائنس ون کی بحث کو وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے یہ کہہ کر کہ مائنس ون نہیں ہوگا اگر ہوا تو مائنس تھری ہوگا، کو ایک نیا موڑ دے دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ کسی نا کسی حوالے سے مائنس ون یا مائنس تھری زیر غور ہے جس کی وجہ حکومتی بدانتظامی ہے۔

حکومت اور تنازعات

صرف دوسال کے عرصے کے دوران جس قدر تنازعات کا شکار موجودہ حکومت رہی اس بڑی تعداد میں شاید ماضی میں کسی حکومت نے تنازعات کا سامنا نہ کیا ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ ایک جانب تو حکومت کی انتظامی نااہلی تھی تو دوسری جانب کپتان کی کابینہ میں شامل وزراء کا غیر سنجیدہ رویہ تھا۔کپتان نے اپنی ٹیم کا انتخاب کیا تو کچھ ہی عرصے میں واضح ہوگیا کہ ٹیم کے کئی اراکین اس قابل نہیں ہیں کہ ان پہ انحصار کرتے ہوئے لمبی اننگز کھیلی جائے اس لیے کپتان نے ٹیم اراکین میں اکھاڑ پچھاڑ جاری رکھی، جن کی تفصیلات درجہ ذیل ہیں۔

شہریار آفریدی

وزیر اعظم کے قریب ترین ساتھی سمجھے جانے والے شہریار آفریدی کو بطور وزیر مملکت برائے داخلہ تعینات کیاگیا تھا۔ وہ اگست 2018 سے اپریل 2019 تک تعینات رہے۔وزیر اعظم نے کارکردگی نہ دکھانے والے وزراء کے حوالے سے کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کیا تو اس اعلان کے بعد جن وزراء کی وزارتیں تبدیل کی گئیں ان میں شہر یار آفریدی بھی شامل تھے۔ ان سے وزیرمملکت برائے داخلہ کا قلمدان واپس لے کر انھیں وزیر مملکت برائے سیفران بنا دیا گیا ۔اس کے علاوہ مئی 2020 میں ان کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بھی منتخب کر دیا گیا۔

غلام سرور خان

غلام سرور خان کو اگست 2018 میں وفاقی وزیر پیٹرولیم تعینات کیا گیاتھاتاہم پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث وہ تنقید کی زد میں آئے اور پھر وزیراعظم کی جانب سے جن وزراء کے قلمدان تبدیل کیے گئے ان میں غلام سرور خان بھی شامل تھے۔ مبینہ طور پرکارکردگی نہ دکھا سکنے کی وجہ سے ان سے وزارت پیٹرولیم کا قلمدان واپس لے کر اپریل 2019 میں وزیر برائے ہوابازی تعینات کردی گیا تھا۔

علیم خان

تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت بننے کے بعد علیم خان کابینہ میں بطور سینئر وزیر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور انہیں وزیر بلدیات کا قلم دان سونپا گیا،تاہم فروری 2019 کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثے اور دیگر کیسز میں انہیں گرفتار کیا ،جس کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفی ٰ دے دیا۔ گذشتہ برس مئی میں علیم خان ضمانت پر رہا ہوئے،تاہم وہ صوبے کے سیاسی منظرنامے سے اوجھل رہے اور حکومت کے زیادہ معاملات میں نظر نہیں آئے۔رواں سال آٹا بحران کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد پنجاب کے وزیرخوراک سمیع اللہ چوہدری نے استعفی ٰ دیا تو علیم خان کو اپریل 2020 میں محکمہ خوراک کا قلمدان سونپ دیا گیا۔

فیاض الحسن چوہان

فیاض الحسن چوہان نے گزشتہ برس مارچ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ہندو برادری کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس کے باعث ان کو وزارت اطلاعات سے استعفیٰ دینا پڑا۔تاہم ، دسمبر 2019 میں ان کی پھر واپسی ہوئی اور ان کو ایک بار پھر وزارت اطلاعات کا قلمدان مل گیا۔

رزاق داؤد

زراق داؤد کو اگست 2018 میں وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس،ٹیکسٹائل،سرمایہ کاری اور صنعت تعینات کیا گیاتھا، اپریل 2020 میں کابینہ میں رد و بدل کے دوران ان کو اس عہدے سے ہٹا کر مشیر برائے تجارت لگا دیا گیا۔ساتھ ہی، ان کو آٹا اور چینی بحران کی رپورٹ کے سبب چیئرمین شوگر ایڈوائزری بورڈ کے عہدے سے بھی ہٹایا گیا۔

فواد چوہدری

فواد چوہدری کو اگست 2018 میں وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ،تاہم مستقل تنازعات کا شکار رہنے پر ان سے یہ قلمدان واپس لے لیا گیا اور اپریل 2019 میں انہیں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا۔

خسرو بختیار

اگست 2018 میں خسرو بختیار کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی بنایا گیا ۔تاہم ایک سال بعد ان کی وزارت تبدیل کی گئی اور انہیں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا قلمدان دے دیا گیا۔ ان کے دورِ وزارت میں ملک میں آٹا اور چینی کابحران پیدا ہوا،جس کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ان کو اپریل 2020 میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کا قلمدان دے دیا گیا۔

بابر اعوان

بابر اعوان نے ستمبر 2019 میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیانی امور کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ان کے استعفیٰ دینے کی وجہ نیب کی احتساب عدالت میں جاری نندی پور پاور پراجیکٹ کیس تھا۔ تاہم ،نندی پور پاور پروجیکٹ کیس میں احتساب عدالت سے بری ہونے کے بعد بابر اعوان کو دوبارہ اپریل 2020 میں کابینہ میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور تعینات کیا گیا۔

اعظم سواتی

اعظم سواتی کو کابینہ میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی دی گئی تھی۔ وزیر بننے کے کچھ عرصے بعد ہی ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے اپنے حلقے کے ایک غریب خاندان کو اثرورسوخ استعمال کرکے نہ صرف گرفتار کرایا بلکہ اس خاندان کے افراد کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ اس نجی معاملے میں آئی جی اسلام آباد کی جانب سے مددنہ ملنے پر آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کرانے کا بھی الزام تھا ۔ اس واقعہ کا سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لے لیا گیا تھا جسکے بعد اعظم سواتی کودسمبر 2018 میں مستعفی ہونا پڑا۔اپریل 2019 میں انہیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور تعینات کیا گیا مگر ایک بار پھر کپتان کی جانب سے کارکردگی نہ دکھانے کی بنیاد پر کابینہ میں کی جانے والی تبدیلی کی زد میں آئے اور ایک سال بعد اپریل 2020 میں ایک بار پھر ان کی وزارت تبدیل کر کے انہوں وفاقی وزیر اینٹی نارکوٹکس تعینات کر دیا گیا۔

ناصر درانی

سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن بناتے ہوئے پولیس میں اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا گیا۔ تاہم ناصر درانی پنجاب میں آئی جی کی تبدیلی اور پولیس میں سیاسی مداخلت کے معاملے پر اکتوبر 2018 میں استعفیٰ دے بیٹھے۔ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں بہتری لانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور اس سلسلے میں پولیس میں عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

کرپشن کے الزامات

تحریک انصاف کی حکومت کے دو سالہ دور میں کپتان کی ٹیم کے کئی کھلاڑی ایسے بھی تھے جنھیں کرپشن کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ ان میں سے چند کھلاڑی مندرجہ زیل ہیں۔

عامر کیانی

عامر کیانی اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی وزیر صحت کے عہدے پر تعینات تھے۔ انہیں وزیر اعظم نے ادویات کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافے کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔ تاہم دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جولائی 2019 میں انہیں پی ٹی آئی کا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا۔ جون 2020 میں نیب نے ان کے خلاف اپریل 2019 میں ادویات کی قیمتوں میں ہونے والے غیر قانونی اضافے کی انکوائری کی منظوری دے دی تھی ،جو تاحال جاری ہے۔

فردوس عاشق اعوان

اپریل 2019 میں فردوس عاشق اعوان کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کیا گیاتھا۔ ایک سال بعد اپریل 2020 میں فردوس عاشق اعوان کو مبینہ کرپشن کے الزام میں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے حکومتی اشتہارات کے بجٹ سے کمیشن لینے کی کوشش کی تھی اور سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم رکھے جانے کا الزام بھی تھا۔

اجمل وزیر خان

جولائی 2020 میں خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو مبینہ آڈیو لیک ہونے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس آڈیو میں اجمل وزیر کی جانب سے اشتہاری ایجنسی سے کمیشن لینے کی بات سامنے آئی تھی۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے آڈیو ٹیب منظر عام پر آنے کے بعد فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا، جو تاحال انکوائری کر رہا ہے۔ اجمل وزیر کی برطرفی کے بعد کامران بنگش کو بطور مشیر اطلاعات تعینات کیا جا چکا ہے۔

تانیہ ایدروس

دوہری شہریت کے معاملے پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس 29 جولائی 2020کو مستعفی ہوئیں۔تانیہ ایدروس ،جن کو رواں سال فروری میں اس منصب پر فائز کیا گیا تھا ،نے دوہری شہریت کے معاملے پر تنقید کی زد میں آ کر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔مبینہ طور پر تانیہ ایدروس نے ڈیجیٹل پاکستان فاونڈیشن کے نام سے این جی او بنائی جسے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان میں رجسٹرڈ کرایا گیا، جس کی بنا پر انھیں کرپشن کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اس این جی او کے ڈائریکٹرز میں جہانگیر ترین اور تانیہ ایدروس شامل تھے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا

ڈاکٹر ظفر مرزا کو اپریل 2019 میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت مقرر کیا گیاتھا۔ تاہم 29 جولائی 2020 کو انہوں نے معاون خصوصی برائے صحت کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق انہوں نے استعفیٰ معاونین خصوصی کے کردار سے متعلق منفی بحث اور حکومت پر تنقید کے باعث دیا۔ان پر مبینہ طور پر بھارت سے خلاف ضابطہ ادویات درآمد کرنے میں کردار کا الزام تھااور وہ اسلام آباد کے اسپتالوں اور میڈیکل اداروں کے سربراہ تعینات کرنے میں بھی ناکام رہے۔

جہانگیر ترین

جہانگیر ترین جو وزیراعظم کے دیرینہ دوست سمجھے جاتے تھے آٹا و چینی بحران تحقیقاتی رپورٹ کے باعث تنقید کی زد میں آئے اور اپریل 2020 میں عمران خان کی جانب سے بنائی گئی زرعی ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ سے ہٹا دئیے گئے۔ ان پر ملک میں آٹا و چینی بحران پیدا کرنے اور حکومتی معاملات میں مداخلت کا الزام تھا، جس کے باعث ان کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ دوریاں بڑھنے لگیں۔آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد جہانگیر ترین کے خلاف ابھی تک کسی قسم کی انکوائری کا آغاز نہیں ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کی افواہیں

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پہلے دن سے ہی تنقید کی زد پر ہیں۔ شاید وہ پہلے ایسے وزیراعلیٰ ہیں کہ جن کے متعلق ہر روز ہی ان کے جانے کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھیں توعثمان بزدار کے متعلق دو سال میں درجنوں بار یہ افواہیں پھیل چکی ہیں کہ انھیں تبدیل کیا جارہا ہے۔ 7بار تو صورتحال اس قدر کشیدہ ہوئی اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں اتنی اہمیت اختیار کرگئیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو ان پر اعتماد کا اظہار کرکے ان افواہوں کا خاتمہ کرنا پڑا۔ اس دوران 4 بار وزیراعظم پاکستان نے لاہور آکر وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اعتماد کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف افواہیں پھیلانے میں شامل افراد کی سرزنش بھی کی۔

حکومتی شخصیات اور ٹک ٹاک اسکینڈلز

وفاقی و پنجاب حکومت کی کئی اہم شخصیات ٹک ٹاک اسکینڈلز کی زد میں آکر بھی عوامی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنیں، جس کے حکومت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان اسکینڈلز کی ابتداء اس وقت ہوئی جب ایک ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ گزشتہ سال دسمبر میں ملک کی انتہائی حساس عمارت میں داخل ہوئیں اور بغیر کسی روک ٹوک کے براہ راست دفتر خارجہ کے کانفرنس ہال میں جاپہنچیں۔ دفتر کا دروازہ حریم شاہ نے پائوں مار کر کھولا اور کمرے میں ویڈیو بنانے کے بعد وزیراعظم کی نشست پر بیٹھ کر ویڈیو مکمل کی، ایک ویڈیو پر اکتفا کرنے کے بجائے حریم شاہ نے اس عمارت کے مختلف حصوں میں ویڈیوز بنائیں۔ جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر نہ تو تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی اس بات کی کھوج لگائی جاسکی کہ ملک کی حساس ترین عمارت میں داخلہ کس طرح ممکن ہو پایا۔حکومت ابھی حریم شاہ کی اس ویڈیو سے سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ اس ٹک ٹاک اسٹار نے دسمبر 2020 میں ہی موجودہ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض چوہان کے ساتھ بنائی گئی ایک مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔ اس ویڈیو میں حریم شاہ کے ساتھ ایک اور ٹک ٹاک اسٹار صندل خٹک بھی صوبائی وزیر سے ’’اٹھکیلیاں ‘‘ کرتی نظر آئیں۔ ان ویڈیوز کے باعث وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کو ایک بار پھر ’’غیرسنجیدہ ‘‘ حکومت کا الزام سہنا پڑا۔ویڈیو کے چند روز بعد ہی ایک آڈیو کال بھی جاری کی گئی جس کے متعلق حریم شاہ کا دعویٰ تھا کہ وہ وزیر اطلاعات فیاض چوہان کی ہے۔ ان ویڈیوز کے حوالے سے حکومت کوئی بھی جواب دینے سے قاصر نظر آرہی تھی۔ حیرت انگیز طور پر اسی مہینے کے دوران حریم شاہ نے تحریک انصاف کی حکومت پر تیسرا ’’ٹک ٹاکی‘‘ حملہ کیا اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے ساتھ ویڈیو گفتگو کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کردی۔ ابتدائی طور پر تو اس ویڈیو کے حوالے سے شیخ رشید کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی مگر پھر تین ہفتے بعد شیخ رشید نے حریم شاہ سے گفتگو کا اعتراف کرلیا ۔حریم شاہ کی ان ویڈیوز کے حوالے سے ابتدائی طور پر تو حکومت کی جانب سے تحقیقات کیے جانے کی خبریں گردش کرتی رہیں مگر پھر شاید یہ ’’عام سی بات‘‘ ہوگئی۔البتہ، ان ویڈیوز کا یہ اثر ہوا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر ایک ٹک ٹاک اسٹار کا نام پہلی بار اراکین اسمبلی کی جانب سے پکارا جاتا رہا۔

جعلی پائلٹس تنازعہ

مئی 2020 میں پی آئی اے کا ایک طیارہ کراچی میں گرکرتباہ ہوا تو اس کی تحقیقات شروع کی گئیں۔ ان تحقیقات کے دوران وفاقی وزیربرائے ہوا بازی غلام سرورخان نے اسمبلی میں بتایا کہ پاکستان میں860 میں سے 260سے زائد کمرشل پائلٹس ہوابازی کا جعلی یا مشکوک لائسنس رکھتے ہیں۔ وزیر موصوف کے اس ’’انکشاف‘‘ کے بعد ایک جانب تو پاکستان کو عالمی سطح پر سخت تضحیک کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا کے مختلف خطوں پر پاکستانی پروازوں پر پابندی لگ گئی تو دوسری جانب اندرون ملک حکومت پر سخت تنقید کی گئی۔

دوہری شہریت تنازعہ

وزیراعظم عمران خان حکومت سنبھالنے سے قبل دوہری شہریت رکھنے والی ماضی کی حکومتی شخصیات پر سخت تنقید کیا کرتے تھے، مگر جب یہ انکشاف ہوا کہ وزیراعظم عمران خان کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت رکھتے ہیں تو سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا۔ اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی گئی اور دوہری شہریت رکھنے والے معاونین کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔

حکومت کے اہم یوٹرنز کی تاریخ

موجودہ حکومت صرف تنازعات کی ہی زد میں نہیں رہی بلکہ اس حکومت کو اس حوالے سے بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ عام انتخابات سے قبل جتنے بھی وعدے اور دعوے کیے گئے تھے ان میں سے بیشتر سے حکومت کو ناصرف پیچھے ہٹنا پڑا بلکہ اس کے برعکس قدم اٹھایا گیا۔ اس طرح کے فیصلوں اور اقدامات نے عوامی سطح پر تحریک انصاف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو حکومتی یوٹرنز کی فہرست بہت طویل ہے مگر ان میں سے چند اہم یوٹرنز کا جائزہ لیتے ہیں۔

٭ وزیرا عظم عمران خان نے انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا کہ اگر وہ وزیر اعظم بن گئے تو وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے تاہم ان کی حتمی رہائش گاہ وزیر اعظم ہاؤس ہی قرار پائی۔

٭ انتخابات سے قبل انہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی بھی پروٹوکول نہیں لیں گے مگر ناصرف وہ وزیر اعظم کیلئے مخصوص چھ پرتعیش گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے تمام پروٹوکول بھی انہیں دئیے جارہے ہیں۔

٭ عمران خان نے ہالینڈ کے وزیر اعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ سائیکل پر سفر کرسکتے ہیں تو ہمارے وزیر اعظم کیوں نہیں کرسکتے مگر ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اب وہ خود وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ کا سفر ہیلی کاپٹر میں کرتے ہیں۔

٭انتخابات سے قبل بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر بیوروکریسی میں سیاسی حوالوں سے اکھاڑ پچھاڑ آئے دن اخبار کی شہہ سرخیوں میں شامل ہوتی ہے۔

٭عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ پیٹرول ، ادویات، اشیائے خوردونوش کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا مگر ان اشیاء کی قیمتیں جس سطح پر آج ہیں اس پر تاریخ میں کبھی نہیں رہیں۔

٭سونا اور ڈالر کے نرخ کم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے مگر دونوں نرخ بلند ترین سطح پر ہیں۔

٭کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنے کے دعوے کیے گئے تھے مگر قومی سطح پر کھیلوں کے حوالے سے ایسی قدغن لگائی گئی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں کھلاڑی بے روزگار ہوگئے ہیں۔

٭ماضی کی حکومتوں کی جانب سے منصوبوں کے افتتاح پر تنقید کرنے والے کپتان عمران خان آج آئے روز منصوبوں کے افتتاح کرتے نظر آتے ہیں۔

٭میٹرو بس سروس کی مخالفت کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے چند روز قبل پشاور میٹرو بس سروس کا افتتاح کیا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا حکومت نے بسیں چلانے کیلئے بجٹ میں دو ارب روپے بھی رکھے ہیں۔جبکہ تحریک انصاف خود ماضی میں سبسڈی پر بسیں چلانے کی مخالفت کر تی رہی ہے۔

٭ موجودہ وفاقی کابینہ نے دہری شہریت والوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دیدی حالانکہ ماضی میں تحریک انصاف کا یہ واضح موقف رہا ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک کا پاسپورٹ رکھنے والے شخص کو اسمبلی تک رسائی نہیں ملنی چاہیے۔

٭عمران خان حکومت کے پہلے کابینہ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی کابینہ بیرون ملک سفر کیلئے خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے بلکہ کمرشل فلائٹس کے ذریعے سفر کریں گے لیکن وزیر اعظم اور ان کی کابینہ بیرون ملک دوروں کیلئے خصوصی طیارے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

٭ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین پر اقرباء پروری کیلئے تنقید کیا کرتے تھے، انہوں نے ہمیشہ وعدہ کیا کہ وہ اہم عہدوں پر اہل افراد مقرر کریں گے کیونکہ وہ اقرباء پروری کے مخالف ہیں تاہم ان کے تمام قریبی دوستوں بشمول زلفی بخاری، نعیم الحق، عون چوہدری کو حکومت میں کوئی نہ کوئی کردار دیا گیا ہے۔

٭ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پولیس میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور پنجاب پولیس میں اصلاحات لائیں گے، انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کو پولیس اصلاحات کمیٹی کا سربراہ مقرر کریں گے تاہم ڈی پی او پاکپتن کے واقعے کے بعد ناصر درانی نے کمیٹی کی سربراہی سے پولیس میں سیاسی مداخلت کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔

٭ عمران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی ٹیم میں کرپٹ افراد کو نہیں رکھیں گے مگر ان کی صوبائی اور وفاقی کابینہ کے کئی اہم ارکان نیب مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ کئی شخصیات کو وہ خود کرپشن کے الزامات کے باعث فارغ کرچکے ہیں۔

٭ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت افغانیوں اور بنگالیوں کو شہریت دے گی مگر بعد میں اس فیصلے کو وجوہات بتائے بغیر واپس لے لیا گیا۔

٭ تحریک انصاف نے تقریباً 200 ارب ڈالرز کی لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لانے کا دعویٰ کیا تھا مگر واپس لانے کے بجائے ان اعدادوشمار کے مصدقہ ہونے کے حوالے سے ہی شکوک شبہات کا شکار ہوگئے۔

٭ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاوسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کردیا جائے گا مگر یہ صرف وعدہ ہی رہا۔

٭عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 200 ماہرین کی ٹیم لائیں گے جو تمام حکومتی اداروں اور محکموں کی رہنمائی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے حکومتی اداروں میں ناصرف اصلاحات آئیں گی بلکہ کارکردگی بھی بہتر ہوگی مگر وزیراعظم اہم اداروں میں ایسے ماہرین کا تقرر کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب انہوں نے اپنے ہی قریبی دوستوں کو حکومت میں چند اہم عہدوں پر مقرر کردیا ہے۔

٭وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میں مختصر کابینہ رکھنے کا عزم کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ حکومت اپنے ہی دعوے سے آنکھیں پھیرتی نظر آئی۔ گذشتہ دو سال کے دوران وفاقی کابینہ میں وزیروں کی تعداد 26 ہے،اس کے ساتھ کابینہ میں 4 وزیر مملکت ،5 مشیر اور 14 معاونین خصوصی ہیں۔یوں، کابینہ ارکان کی کل تعداد 49 ہے۔

٭حکومت میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ تاہم، گزشتہ سال سے پاکستان اور سعودی عرب کے آپسی تعلقات میں بھی سرد مہری شروع ہوگئی ہے۔ پاک سعودیہ حالات میں کشیدگی کا آغاز ستمبر 2019 میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہوا جب پاکستان ، ترکی اور ملیشیاء نے نیا مسلم اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں دسمبر 2019 میں کوالا لمپور سمٹ کا انعقاد کیا گیا۔تاہم سعودی عرب کے دباؤ کے باعث پاکستان نے کوالا لمپور سمٹ میں شرکت سے معذرت کر لی۔ گذشتہ دنوں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مؤثر کردار ادا نہ کرنے پر سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا،جس کے سبب سعودی عرب نے پاکستان کو سنہ 2018 میں دیئے گئے 3.2 ارب ڈالر قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس کرنے کا تقاضا کیا، جو پاکستان کو واپس کرنا پڑا۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے قرض کی عدم ادائیگی کے سبب رواں برس مئی سے پاکستان کو ادھار تیل دینا بند کر دیا ہے۔

٭عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ پارلیمانی سیشنز کے دوران ہر ہفتے پارلیمنٹرینز کے سوالات کے جواب دیں گے تاہم قومی اسمبلی کے 29سیشنز میں ہونے والے 182اجلاسوں میں سے صرف 22 اجلاسوں میں شرکت کی اور کسی ایک میں بھی سوالات کے جواب نہیں دئیے۔

٭وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل قومی اسمبلی میں آرڈیننس کی بجائے قانون سازی کو ترجیح دینے پر زور دیا، مگر اقتدار میں آتے ساتھ ہی تحریک انصاف نے وفاق کو چلانے کیلئے آرڈیننس کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ قومی اسمبلی کے نومبر 2019 میں ہونے والے سیشن میں حکومت نے11 آرڈیننس ایک ہی دن میں متعارف کروا دئیے۔گذشتہ دو سال میں تحریک انصاف حکومت نے کل38 آرڈیننس جاری کیے۔