اسلام کے خلاف سازشوں کا سدِ باب ۔۔۔۔۔ تحریر : لیاقت بلوچ


سات 7ستمبر1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تو مولانا مودودیؒ نے فرمایا تھا : ’’اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عوام ، علماء، مشائخ اور دینی و سیاسی جماعتوں اور قومی اسمبلی کی متفقہ کوششوں سے قادیانی مسئلہ بالآخر حل ہو گیا جو 90سال سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے اندرونی خطرہ بنا ہو اتھا‘‘
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قیام پاکستان کے بعد فتنہ قادیانیت کا صحیح صحیح اندازہ لگایا اور نظریاتی مملکت کے لئے پہلی دستورساز اسمبلی کے سامنے چار نکاتی مطالبہ پیش کیا کہ اسمبلی اعلان کرے کہ

۔1۔حکومت پاکستان کادین اسلام ہے ۔

۔2۔مملکت پاکستان کا بنیادی قانون اسلامی شریعت ہے ۔

۔3۔حکومت پاکستان تمام خلاف شریعت قوانین کو منسوخ کرے ۔

۔4۔پاکستان کے حکمران حدودالٰہی کے اندر رہ کر کام کریں ۔

مولانا مودودیؒ نے ریڈیوپاکستان سے ’’اسلام کا نظام حیات ‘‘کے سلسلہ میں 5 تقاریر میں سارے پہلو واضح کر دیئے ۔ جنوری 1951ء میں مولانا سید سلمان ندویؒ کی زیر صدارت مختلف مکاتب فکر کے علماء کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس میں نظم مملکت کو قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کے لئے علماء نے 22 نکات منظور کئے ۔ اس اجلاس کے معتمد مولانا ظفر احمد انصاری نے کہا کہ ’’یہ نکات کم و بیش مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ نکات پر مشتمل ہیں ‘‘۔

۔1953ء میں تحریک ختم نبوت کا دوبارہ آغاز ہوا ۔ مارچ 1953ء میں مولانا مودودیؒ کو ایک بار پھر گرفتار کر لیاگیا اور’’قادیانی مسئلہ ‘‘نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی ،اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں شدید رد عمل ہوا۔ مولانا مودودیؒ سے رحم کی درخواست دائر کرنے کا کہا گیا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حکومت نے ہمہ گیر احتجاج سے مجبور ہو کر ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ،لیکن بالآخر 29 اپریل 1955ء کو آپ رہاہوئے ۔

۔7ستمبر1974 ء کو قومی اسمبلی نے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کے لئے آئین میں ترمیم کر کے مسئلہ قادیانیت پاکستان میں ہمیشہ کیلئے حل کر دیا۔مسلم اور غیر مسلم کی تعریف مولانا مرحوم کی تحریر سے اخذ کی گئی۔ مولانا مودویؒ قوم کو بار بار متنبہ کرتے رہے کہ اسلامیان پاکستان کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہو جانا چاہیے کہ اب ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی ہے اور قادیانی مسئلہ پورے کا پورا حل ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا یہ پہلا قدم ہے جو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ابھی قادیانیت اور اس کی پشت پر جاری سازشوں کے سد باب کے لئے بہت سے ضروری اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں جن کے بغیر یہ قضیہ کسی نہ کسی شکل میں پھر سراٹھائے گا اور زیادہ پیچیدگیوں کا باعث بنے گا ۔ اسلامیان پاکستان کی عقیدت ومحبت اور طویل قربانیوں کو بے ثمر کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

اس زمانے میںاکوڑہ خٹک دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق ؒنے قادیانی مسئلے کے حوالہ سے مولانا مودودیؒ کو خط لکھ کرچند سوال دریافت کئے تو مولانا صاحب نے 6 نومبر1974ء کو جواب تحریر کیا۔ خیبر پختونخوا کے محقق،دانشور اور استاد پروفیسر نور ورجان نے اپنی کتاب ’’مکاتیب سید مودودیؒ‘‘ میں اس تاریخی خط کو شامل کیا ہے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا دارالعلوم اکوڑہ خٹک کے سربراہ مولانا سمیع الحق ؒ کے خط کو اس تحریر کا حصہ بنا رہا ہوں ،یہ بذات خود مکمل ،ہمہ گیر شافی تحریر ہے ۔

’’آپ کا عنایت نامہ ملا،جس میں آپ نے قادیانی مسئلے سے متعلق چند سوالات دریافت کیے ہیں ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ قادیانی مسئلے کے حل پر احساسات کیا ہیں۔ بلا شبہ اسمبلی اور حکومت کا یہ فیصلہ نہایت مستحسن اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مسرت انگیز ہے ۔ ہم جتنی بھی خوشی منائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، بالکل جائز ہو گا۔ لیکن ہماری حکومت،نیشنل اسمبلی اور عامۃ المسلمین کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوناچاہیے کہ اس سلسلے میں ان کی ذمہ داری اب ختم ہو چکی ہے۔ اور اس فیصلے سے قادیانی مسئلہ پورے طور پر حل ہوگیا ہے اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف پہلا قدم ہے جو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ہے ۔ بہت سے ضروری اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں جن کے بغیر یہ قضیہ جوں کا توں باقی رہے گا بلکہ خدشہ یہ بھی ہو سکتا ہے خدانخواستہ مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوجائیں اور ہم اس اہم فیصلے کے فوائدسے محروم نہ ہوجائیں۔چند ضروری کام درج ذیل ہیں:

۱۔7ستمبر1974ء کو قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے علاوہ ایک قرارداد یہ بھی منظور کی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ الف کے بعد دفعہ ب کا اضافہ کیا جائے جس میں درج ہو کہ ’’ایک مسلمان جو حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے مفہوم مندرجہ آئین پاکستان دفعہ۲۶۰شق نمبر۳ کے خلاف عقیدے کا اعلان یا اس کے خلاف عمل یا تبلیغ کرے ،وہ قابل سزاو تعزیر ہو گا۔‘‘ یہ قرار دادا غالباََ عجلت میں مرتب اور پاس کر دی گئی ہے ،اس کی ابتدا میں مسلمان کا لفظ رکھنے کی وجہ سے اس میں ابہام و اشتباہ پیدا ہو گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ کسی مسلمان کے متعلق یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس جرم شنیع کا مرتکب ہو گا اور مرتکب ہونے کے بعد وہ مسلمان کہلانے کا مستحق رہ سکے گا۔خود دستوری ترمیم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا،خواہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ۔چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ اس سزا کے اطلاق میں دشواری کا سامنا ہو گا۔لہٰذا تعزیرات پاکستان میں اس مجوزہ ترمیم کو واضح اور غیر مبہم بنانے اور اس کے مقصد تنفیذ کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مسلمان(A Muslim) کی بجائے ایک مدعی اسلام کیاجائے تاکہ کوئی فرد مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ و مفہوم کے خلاف کسی قوم و عمل کا اظہار نہ کر سکے ۔

نیشنل اسمبلی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کچھ مزید قانون سازی ناگزیر ہے ۔ ووٹروں کے فارم میں نام درج کراتے وقت ہر لاہوری اور ربوی مرزائی کیلئے یہ لازم قرار دیاجائے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کے خانے میں مرزائی یا احمدی لکھوائے ،رجسٹریشن ایکٹ کے تحت شناختی کارڈز بن رہے ہیں ،ان میں بھی ترمیم ہونی چاہیے جس کی رو سے کارڈ میں بھی ایسی تصریح لازم اور غلط بیانی موجب سزا ہو ۔اسی طرح ہر ملازم حکومت پر بھی یہ لازم ہونا چاہئے کہ اگر وہ قادیانیوں کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی باقاعدہ اطلاع اپنے محکمے کے توسط سے حکومت کو دے، جو ایسا نہ کرے یا غلط اطلاع دے ،اسے ملازمت کیلئے نااہل قرار دے دیا جائے۔ پاسپورٹ میں بھی اسی قسم کا اندراج اور اس کی خلاف ورزی پر سزامقرر ہونی چاہئے ۔قادیانیوں نے ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق پر قبضہ کر رکھا ہے ، اس کا تدارک اور تلافی کرنا بھی ضروری ہے ۔

قادیانی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے باوجود وہ مسلمان ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کو اسلامی عقائد کہہ کر ملک کے اندر اور باہر ان کی تبلیغ و تلقین کر رہے ہیں ۔ یہ مسئلہ بڑا سنگین اور حکومت اور عامۃ المسلمین کے لیے حد درجہ غور طلب ہے ۔یہ دستور کی بھی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے باعث دل آزاری بھی ہے ۔جس گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے ،اسے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور اسلام کا مبلغ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

قادیانیوں کے بالمقابل مسلمانوں نے جس اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیاہے، اسے قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جزوی اختلافات اگر ہوں تو انہیں مناسب حدود کے اندر رہنا چاہیے ، اختلاف کو مخالفت کا رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر اختلاف کو حق و باطل اور کفر واسلام کا اختلاف نہیں بنا لینا چاہئے ورنہ اس کا فائدہ قادیانیوں ہی کو پہنچے گا، جیسا کہ پہلے پہنچتا رہا ہے۔

ایک ضروری کام یہ بھی کیا جائے کہ انہیں حکمت اور موعظہ حسنہ کے اسلوب و انداز میں قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے جن لوگوں کے ہاتھ میں قادیانیوںکی قیادیت و سیادت ہے اور جن کے مفادات ان قائدین سے وابستہ ہیں ، ممکن ہے کہ وہ اسلام لانے میں تامل و تذبذب سے کام لیں ، لیکن عام قادیانی جو ’’قصر خلافت‘‘ کے نزدیک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام آبادیوں میں مقیم ہیں ،ان کے سامنے اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو صحیح طریق پر پیش کیاجائے اور قادیانیت کے حقیقی خدوخال بھی ان پر اچھی طرح واضح کیے جائیں تو وہ ان شاء اللہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں توقف اور پس و پیش نہیں کریں گے ۔ ان میں بہت سے لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں جوان کی بہت سے تحریروں سے واقف نہ تھے، اور جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ وہ تحریریں آئیں، تو وہ حیران اور دم بخود ہوئے اور قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے ۔

اس سلسلے میں ہماراایک مطالبہ یہ بھی مسلسل ہونا چاہئے کہ ’’صمدانی رپورٹ‘‘ کو من و عن شائع کیاجائے اور جولوگ اس رپورٹ کی رو سے مجرم ہیں ، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ نیز جو مزید سیاسی اور انتظامی اقدامات اس رپورٹ کی روشنی میں ناگزیر ہوں ،ان کو عمل میں لایا جائے ۔اگر ہماری حکومت نے غفلت اور تساہل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ اس سازشی گروہ کے ہاتھوں ہمیں مزید زخم نہ کھانے پڑیں ‘‘۔ خاکسار، ابولاعلیٰ ۔