مقبوضہ کشمیر کے 3پرشکوہ مغل باغات ۔۔۔۔ صہیب مرغوب

ان دنوں انڈینز مغل بادشاہوں کا نام و نشان مٹانے کا ہر حربہ آزما رہے ہیں ،معروف ریلوے سٹیشنز اور سرکاری عمارات کے ناموں کی تبدیلی کا عمل پورے انڈیا میںرکنے کا نام نہیں لے رہا،وہیں اب مغلوں کے نام کی ضرورت پڑنے پر 6باغات اور جیسی تاریخی جگہوں ( نشاط باغ،شالیمار باغ، چشمہ شاہی باغ، پری محل،اچھابل اور ویرناگ )کی عالمی معیار کے مطابق بحالی اور آرائش و تزئین کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔مغلوں کے اس تاریخی ورثے کو یونیسف کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں واقع یہ باغات اور آثار قدیمہ عالمی سطح پر بے حداہمیت کے حامل ہیں۔
ایک مدت سے نظر انداز کئے جانے ،بدلتے زمانے اور حوادث سے اس تاریخی ورثے کا ڈھانچہ بری طرح برباد ہو گیا ہے، کچھ عمارات پر تو انڈین بیوروکریسی نے قبضہ جما لیا تھا ،بھلا ہو یونیسف کا، جس کی جانب سے دل چسپی لینے کی دو چار خبروں سے ہی انڈین حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے، اور مغلوں کے کمروں کو ان سے خالی کرا لیا گیا ہے۔آئیے، ہم سب مل کر ان مقامات کی تاریخی حیثیت اور اہمیت پر باتیں کرتے ہیں۔
پری محل
پری محل ، نام سے ہی ظاہر ہے، پریوںکا محل ہے۔ یہ سات منزلہ باغ سرینگر میں ''زبروان ‘‘ (Zabarwan mountain) کے پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر واقع ہے۔ یہاں سے سرینگر کے پہاڑی سلسلے کاہی نہیں، بلکہ شہر بھر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔جنوب مغرب میں جھیل لیک دل (Dal Lake) کا پرکشش مگر،ذہن سے کبھی نہ ہٹنے والا منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ باغ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے ذوق جمال اور قدرتی حسن کا حسین ملاپ ہے۔ شاہ جہاں نے یہ محل شہزادہ دارا شکوہ کی فیملی کے لئے بڑی چاہت سے تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔نقشہ اور محل و وقوع کے چنائو میں بھی انہوں نے خاص دل چسپی لی۔ شاہ جہاں نے یہاں ایک شاندار لائبریری تعمیر کرنے کاحکم دیا تھا۔ بادشاہ کوعلم فلکیات میں بھی خاص دل چسپی تھی ، اس زمانے کی عالمی میعار کے مطابق رصد گاہ بھی قائم کی گئی تھی،ماہرین فلکیات اور جوتشی بھی یہیں جمع ہوا کرتے تھے۔انڈین حکومت نے یہاں خفیہ اجلاس بھی منعقد کرنا شروع کر دیئے تھے۔ چین اور پاکستان کے خلاف کئی منصوبوں کے تانے بانے اسی پری محل میں بنے گئے تھے۔
نشاط باغ
چنار اور صنوبر کے درختوں میں ڈھکا ہوا ،وادی کشمیر کا سب سے بڑا باغ ''نشاط باغ ‘‘ جھیل دل کے مشرق میں ، پیر پنجل کے پہاڑی سلسلے کے زیریں حصے میں واقع ہے۔یہ باغ شہزادی نور جہاں کے بڑے بھائی شہزادے آصف خان نے بڑی محبت سے بنوایا تھا۔ستاروں کی چالوں پر یقین رکھنے والے مغل بادشاہوں کی روایات پر عمل کرتے ہوئے آصف خان نے اس باغ کی بھی ایک زائچے میں 12خانوں کی طرح 12 منزلیں یا بالکونیاں بنانے کا حکم دیا تھا۔ نشاط باغ دو بڑے حصوں پر مشتمل تھا، عام باغ میں عوام آ جاسکتے تھے ،اور دوسرا''حرم‘‘ شاہی خواتین کے لئے مخصوص تھا۔1633ء میں تعمیر مکمل ہونے کے بعد شاہ جہاں خود بھی یہاں تشریف لائے تھے، عظمت شان و شوکت پر نظر پڑتے ہی بادشاہ کا دل باغ باغ ہو گیا تھا۔کچھ عرصے کے لئے باغ کا پانی بند ہونے سے اس کاحسن جاتا رہا۔ایک روز درباری نے پانی بحال کر دیا،چشمے ابلنے لگے۔آصف خان خوشی سے نہال ہو گیا۔ نشاط باغ کی خوب صورتی کے بادشاہ بھی اسیر تھے، پانی کی بحالی کا سنتے ہی ان کے دل میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں یقین ہی نہیں ا ٓرہا تھا کہ اپنی بند کیا گیا تھا۔ شا ہجہاں نے پانی بحال کرنے والے درباری کو انعام و اکرام سے نواز ۔ کیوں نہ نوازتے،آصف خان ان کے وزیر اعظم بھی تھے اور سسر بھی۔مغل بادشاہ عالم گیر کی بیٹی زہرہ بیگم اور شہنشاہ جہاں دار کی پوتی کی قبریں بھی یہیں واقع ہیں۔ ایک سال بیت گیا،''خوشی اور مسرت‘‘ کے اس باغ کو کشمیریوں کو غلام دیکھتے ہوئے۔سیاسی آزادی تو 1947ء میں ہی سلب کر لی گئی تھی،سماجی اور مذہبی حقوق بھی 5اگست 2019ء کو چھین لئے گئے ۔
شالیمار باغ
سرینگر میں واقع شالیمار باغ مغل ہورٹیکچر کا نادر نمونہ ہے۔ '' سرینگر کی شان‘‘ ، ''سرینگر کا موتی ‘‘اور ''سرینگر کا ہیرہ ‘‘ اس کے دوسرے نام ہیں۔ 1619ء میں توسیع کے بعد باغ '' فرحت بخش‘‘ کہلایا ۔1630ء میں شاہ جہاں نے گورنر کشمیر ظفر خان کو آرائش و تزئین کا حکم دیا۔تب باغ کا نام '' فیض بخش ‘‘ پڑ گیا۔ہر دور میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اس کا نام بھی بدلتا رہا لیکن شالیمار باغ ہمیشہ مستعمل رہا۔
شالیمار باغ جھیل دل کے شمال مغرب میں واقع ہے۔1619ء میں پائی تکمیل کو پہنچنے والا یہ باغ مغل شہنشاہ جہانگیر کا اپنی شریک حیات نور جہاں کو دیا گیا ایک عالی شان تحفہ تھا۔موسم گرما میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں یہیں قیام فرمایا کرتے تھے۔ اسے ان کا گرمائی صدر مقام بھی کہا جا سکتا ہے ۔ بعد میںآنے والے سکھ حکمران بھی یہاں اقتدار کے مزے لیتے رہے۔رنجیت سنگھ نے باغ کے کمروں کو سرائے میںبدل دیا۔یورپی مہمان یہیں قیام کرتے تھے ۔