واسکو ڈی گاما ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد ندیم بھٹی


واسکو ڈی گاما کی موزمبیق اور تاجروں پر گولہ باری

۔1460ء میں پیدا ہونے والے واسکو ڈی گاما کو ہم سب ایک سیاح کے طور پر جانتے ہیں، انڈیاکو سب سے پہلے اسی نے دریافت کیاتھا۔لیکن اس عام شہرت سے ہٹ کر وہ ایک فوجی بھی تھا ،پرتگالی حکومت نے اسے وائسرائے برائے انڈیا بھی مقررکیا تھا۔دوران سیاحت وساکو ڈی گاما نے کئی سمندری جہازوں پر حملے کئے ،مسلمانوں کو قتل کیا ،پرتگالی تجارت کو محفوظ راستہ دینے کے لئے فرانسیسی تاجروں پر گولہ باری کی،ان کے سمندری جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا، اور جب مسلمان اس سے راضی نہ ہوئے تو اس نے ان پر بھی حملے شروع کر دیئے۔دوران سفر راستے میں نظر آنے والے حاجیوں کے جہاز پربھی حملہ کر دیا اور اس میں سوار تمام افراد کو شہید کر کے ہی دم لیا۔اس روح فرساء واقعے کی تفصیل عینی شاہد تھامس لوپس اور گاسپر کوریا کی زبانی منظر عام پر آئیں۔لوپس کے مطابق گاما نے تمام مسافروں کو کمروں میں بند کر کے 50خواتین سمیت 400مسافروں کوزندہ جلا دیا تھا۔اور جب وہ موزمبیق گیا تو سلطان سے ان بن ہو گئی ۔ وہاں سے نکل گیا لیکن جاتے جاتے موزمبیق کے ساحلی علاقے پر بھی گولہ باری شروع کر دی۔
وہ 2 سے29مارچ 1498ء تک جزائر موزمبیق کے قرب میں رہا۔ اس اہم تجارتی راستے پربھی اس کی نظر تھی۔ چنانچہ اس نے سلطان آف موزمبیق سے بھی رابطے قائم کئے ۔ وہ کافی ہوشیار اور چالاک تھا۔ سلطان آف موزمبیق سے ملاقات کی خاطر گاما نے ایک مسلمان تاجر کا روپ دھار لیا۔گاما سلطان کے دربار میں خالی ہاتھ پہنچ گیا،اس کی تجارتی تجاویز بھی لائق توجہ نہ تھیں، لہٰذا سلطان نے واسکو ڈی گاما کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔وہ ا پنی شرائط پر تجارت کرنے کے حق میں تھے۔ جلد ہی یہ راز بھی کھلنے لگا کہ گاما مسلمان نہیں بلکہ بہروپیا ہے ۔ایک ہجوم اس کی جانب حملہ آورہوا۔ قریب تھا کہ یہ لوگ اسے پکڑ لیتے ،وہ بھاگ نکلا ۔ سلطان کی سرد مہری گاما کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ موزمبیق سے روانہ ہوتے وقت اس نے اپنی توپوں کے منہ کھول دیئے، اور موزمبیق کے ساحلی علاقوں پر شدید بمباری کی۔
یہاں سے نکلنے کے بعد بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا ، مومباسا کے ساحلی علاقے کے قریب موجود تجارتی کشتیوں پر دھاوا بول دیا، یہ غیر مسلح عرب تاجروں کو اپنی توپوں کی مدد سے قابو کرنے کے بعد لوٹ مار کی۔وہ سیاح کم او رسمندری قذاق زیادہ لگ رہا تھا۔ یہیں یورپی باشندے بھی گاما کے نام سے واقف ہوئے ۔ وہ 7سے 13اپریل 1498ء تک وہاں رہا۔یہاں سے وہ شمال کی جانب روانہ ہوا، اس کی منزل مالیندی تھی۔مقامی رہنمائوں کے مومباسا سے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے، لہٰذا یہاں اس کی خوب آئو بھگت ہوئی،دوستانہ ماحول مل گیا۔ یہاں اسے انڈین تاجروں کی آمد کی بھی اطلاع ملی۔چنانچہ اس نے مون سون ہوائوںکے رخ سے واقفیت رکھنے والے کپتانوں سے روابط قائم کئے۔انڈیا جانے کیلئے وہ مون سون ہوائوں کو فالو کرنا چاہتا تھا،یہی ہوائیں اسے انڈیا پہنچا سکتی تھیں۔ اس کی منزل انڈیا کے جنوب مغرب میں واقع کالی کٹ کی بندرگاہ تھی۔اس سفرمیں ایک کپتان نے اس رہنمائی کی مورخین کپتان کے نام پر متفق نہیں۔ کسی نے اسے مسیحٰ بتایا تو کسی کے نزدیک وہ مسلمان تھا۔ایک رائے میں وہ گجراتی نکلا!۔کچھ کے نزدیک اس کا پائلٹ مشہور سیاح ابن ماجد تھا۔ دوسرے مورخین کے نزدیک ماجد نے کسی اور سفر میں اس کی مدد کی تھی۔کسی پرتگالی مورخ نے ماجد کا نام درج نہیں کیا۔
مالیندی سے 24اپریل کو اس نے انڈیا کی جانب رخت سفر باندھا۔یہ قافلہ 20مئی 1498کو کالی کٹ کی بندر گاہ پرلنگر انداز ہوا۔یہاں اس کا پرتپاک خیر مقدم ہوا اور وجہ آمد دریافت کی گئی۔ کہنے لگا ''میں یہاں مصالحہ جات کی کھوج میں پہنچا ہوں‘‘۔
اسے نوجوانی میں ہی بحریہ میں جاب مل گئی تھی۔ 20برس کی عمر میں ہی سمندری جہاز اس کی کمان میں دے دیا گیا تھا۔ گاما سے پہلے بحری راستوں کی کھوج کا کام ہنری سرانجام دیا کرتے تھے، بعدازاں یہ کام اس کے سپرد کر دیا گیا۔کچھ آبی راستے بارتولومیو نے بھی دریافت کئے تھے۔لیکن بادشاہ تمام اسلامی ممالک پر قبضہ کر کے اپنی مملکت کو بیت المقدس تک وسعت دینے کا خواہش مند تھا۔تجارت سے ملنے والا منافع الگ تھا۔اسی لئے واسکو ڈی گاما کی مد دلی گئی تھی۔
پرتگالی بادشاہ جان ٹو نے سیاسی طاقت بننے کے لئے 1487ء پیرو ڈا کوویلہا اور افسونسو ڈی پائیوا کو مصر،مشرقی افریقہ اور دیگر ممالک کے دورے پہ روانہ کیا۔انہوں نے واپسی پر کیپ آف گڈ ہوپ میں سفر کے دوران شمال مغرب میں کسی بڑے ملک کے بارے میں علم ہوا۔ بعد ازاں واسکو ڈی گاما کو بھیجا گیا۔کیونکہ اس کا باپ ایستیوائو (بھی سیاح تھا اور اسے بھی آبی راستوں کی کافی پہچان تھی ۔گاما کا پہلا مشن ناکام رہا لیکن دوسرے مشن میں کامیابی نے قدم چومے۔
واسکو ڈی گاما کا اولین مقصد پرتگال کی تجارت کے لئے قدیم اور روایتی سمندری راستوں کی بجائے نئے اور محفوظ تر سمندری راستوں کی تلاش تھا ۔چنانچہ انڈیا کی جانب ا س کا پہلا سفر 1497سے 1499تک جاری رہا۔یوں اس نے اٹلانٹک اور بحر ہند کو بھی 'ملا‘دیا تھا۔یوں اس نے مغرب کے لئے ایک بڑا راستہ دریافت کیا۔ وہ توپیں اور توپ کے گولوں کے ساتھ سفر پر نکلتا تھا اسیلئے اسے بحری فوج کا سربراہ بھی مقررکر دیا گیا تھا۔اس کا واحد مقصد انڈیا دریافت کرنا نہیں تھا بلکہ انڈیا سمیت معاشی اہمیت کے حامل ممالک کو پرتگالی کالونی میں بدلنا او روہاں سے تمام اہم اشیاء کی تجارت کو آسان بنانا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا، اس نے یہ کام نہایت اچھے طریقے سے ادا کئے۔ بطورمشیر بھی اس نے پرتگالی حکومت کو کئی ممالک کو اپنی کالونیاں بنانے کے لئے مشورے دیئے،وہ چاہتا تھا کہ قیمتی معدنیات اور زرعی مصنوعات پیدا کرنے والے ممالک کو پرتگال کی کالونی میں بدل دیا جائے ، اور کوئی یورپی ملک بھی اس کی تجارت میں رکاوٹ نہ بنے۔