نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: ڈاکٹر بشیر علی قریشی (مرحوم) ۔ ایک شفیق محبت وطن انسان

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    ڈاکٹر بشیر علی قریشی (مرحوم) ۔ ایک شفیق محبت وطن انسان

    ڈاکٹر بشیر علی قریشی (مرحوم)

    پاکستان اور سعودی عرب میں جماعت اسلامی پاکستان کا ایک تاریخی اور مرکزی کردار جو دنیا سے رخصت ہو گیا۔
    تحریر: حافظ عبدالوحید فتح محمد (الریاض۔ سعودی عرب)
    ڈاکٹر بشیر علی قریشی مرحوم جو کئی دہائیوں تک پاکستان اور سعودی عرب میں ایک مربی اور محسن کی حیثیت سے جماعت اسلامی پاکستان کے ایک تاریخی اور مرکزی کردار رہے ہیں، گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    اللہ تعالی مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے اور لواحقین اور احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
    ڈاکٹر بشیر علی قریشی مرحوم سے راقم کا تعارف 1977میں ہوا جب ہم تین طلباء جن میں راقم کے علاوہ میاں حسن فاروق (پسر میاں طفیل محمد مرحوم) اور سعید احمد پراچہ (پسر مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم سربراہ جمعیت اتحاد العلماء، برادر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ و ڈاکٹر حسین احمد پراچہ) شامل تھے، جامعة الریاض (موجودہ جامعہ الملک سعود، الریاض) میں حصول تعلیم کی خاطر پاکستان سے سعودی عرب پہنچے جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ دار العروبہ کے انچارج استاذ خلیل احمد الحامدی مرحوم کے معاون خصوصی فیض الرحمن ہمدانی مرحوم ہم سے چند سال قبل جامعہ الریاض سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس جا چکے تھے۔ انہوں نے دار العروبہ سے تعلیم کی غرض سے رخصت حاصل کی تھی اور پاکستان واپس پہنچ کر دوبارہ شعبہ العروبہ سے منسلک ہو چکے تھے۔ استاذ خلیل احمد الحامدی اور فیض الرحمن ہمدانی مرحوم اپنے آخری سانس تک شعبہ دار العروبہ سے منسلک رہے۔ اللہ تعالی ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
    جب ہم بحیثیت طلباء پاکستان سے الریاض، سعودی عرب کے لئے عازم سفر ہوئے تو منصورہ، لاہور میں قائم مرکز جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ دار العروبہ کی طرف سے الریاض میں مقیم مربی اور سماحة الشیخ علامہ سید ابی الاعلی المودودی کے معاون خاص ڈاکٹر بشیر علی قریشی(المغفور لھم باذن اللہ) کے نام ایک تعارفی خط دیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر بشیر علی قریشی ان دنوں الریاض کی شارع سلام پر واقع ایک عمارت میں پریکٹس کرتے تھے اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اسی عمارت میں رہائش پذیر بھی تھے۔ واضح ہو کہ فضیلة الشیخ محترم استاذ خلیل احمد الحامدی مرحوم نے تقریباً نصف صدی تک مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒکی خدمت کی، ان کی کئی کتب کا عربی میں ترجمہ کیا اور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودی ؒکا تعارف اور اشاعت اسلام کے لئے جدوجہد سے روشناس کرایا اور اس سلسلے میں ان ممالک کے دورے بھی کئے۔ یہ بھی واضح ہو کہ شعبہ دار العروبہ کا موجودہ نام امور خارجہ ہے جو آج کل برادر عبدالعزیز غفار کی سربراہی اور انجینئر عبدالقدوس منہاس کی معاونت میں سرگرم عمل ہے۔
    ہم تینوں طلباء ساتھیوں کا قیام جامعہ الریاض کے ہوسٹل میں تھا جبکہ ہم ہر ہفتے چھٹی والے دن یعنی جمعہ کو جامعة الریاض سے ڈاکٹر بشیر علی قریشی کے گھر پہنچ جاتے جہاں سے ہم پاکستان میں اپنے اہل خانہ کو فون کر لیا کرتے تھے کیونکہ ان دنوں انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولیات دستیاب نہ تھیں حتی کہ ٹیلیفون کی سہولت بھی عمومی طور پر میسر نہ تھی اور متمول حضرات ہی ٹیلیفون سے استفادہ کرتے تھے جبکہ ٹیلیفون کال بھی آپریٹر ہی کے ذریعے ممکن ہوا کرتی تھی۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم ہم سب ساتھیوں کے لئے دوپہر کے کھانے کا اہتمام بھی فرماتے تھے۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم ہمارے ساتھ ہر قسم کا مربیانہ برتاو کرتے اور زندگی کے ہر معاملے میں ہماری مکمل راہنمائی فرماتے تھے۔
    ڈاکٹر قریشی مرحوم شاہ سعود مرحوم کے آخری زمانے میں سعودی عرب تشریف لائے تھے اور شاہ سعود کی وفات کے بعد شاہ فیصل مرحوم اور شاہ خالد مرحوم کے محلات میں دیگر اطباء اور عملہ کے ہمراہ طبی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد زاں ان سب کو اختیار دے دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنا اپنا ذاتی سلسلہ روزگار (مطب وغیرہ) اپنا لیں اور چاہیں تو شاہی محلات میں ہی اپنی خدمات جاری رکھیں۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم الریاض میں تقریباً 5 دہایوں تک طبی ،فلاحی اور سماجی خدمات سر انجام دیتے رہے اور بعد ازاں ایبٹ آباد، پاکستان منتقل ہو گئے۔ آپ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے سوشل پروگراموں میں شرکت اور دروس قرآن کا بھی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم نہایت ہی شفیق، ملنسار ، خوش گفتار اور ہر ضرورت مند کے لئے مشاورت، دامے، درمے اور دستر خوان کا دست تعاون خاموشی سے فرما دیا کرتے تھے۔ تعلیم مکمل ہونے پر راقم کی رہائش کا بندوبست بھی ڈاکٹر قریشی مرحوم نے اپنے پڑوس میں ہی کر دیا تھا جہاں راقم ابھی تک اپنی فیملی کے ہمراہ مقیم ہے البتہ کرائے میں کمی بیشی کا عمل اور اتار چڑھاو مرور زمانہ کے ساتھ جاری ہے۔
    ڈاکٹر قریشی مرحوم نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ مولانا مودودیؒ الریاض تشریف لائے اور ان کے مکان پر مہمان بنے کہ اس دوران شاہ عبدالعزیز کے سگے بھائی امیر عبداللہ بن عبدالرحمن آل سعود کو مولانا مودودی ؒ کے قیام کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اہلکاروں کے ذریعے اپنے محل میں ان کے قیام کا بندوبست کر دیا کہ جب تک ارادہ ہو قیام فرمائیں۔
    ڈاکٹر بشیر علی قریشی کا الریاض والا یہ گھر جماعت اسلامی پاکستان کے راہنماوں میاں طفیل محمد مرحوم، قاضی حسین احمد مرحوم، استاذ خلیل احمد حامدی مرحوم اور دیگر عمائدین جو سعودی عرب تشریف لایا کرتے تھے، کی قیام گاہ ہوتی تھی۔ یہیں سے وہ سعودی عمائدین اور علماءسے ملاقاتوں کے پروگرام ترتیب دینے کے علاوہ دیگر مختلف امور سرانجام دیا کرتے تھے۔ سعودی عرب میں جماعت اسلامی کے پروگرام محض قرآن کریم، حدیث اور لٹریچر پر مشتمل درس و تدریس تک ہی محدود ہوتے تھے البتہ کوئی خصوصی اجتماع یا پروگرام منعقد کرنا ہوتا تو اس کے لئے ڈاکٹر قریشی مرحوم سعودی حکومتی اداروں سے خود ہی خصوصی اجازت نامہ بھی حاصل کر لیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کی اہلیہ مریم عبدالواحد بھی ڈاکٹر تھیں۔ ان کا تعلق لاہور شاد باغ کے ایک پنجابی خاندان سے تھا۔ وہ اسلامی جمعیت طالبات کی تاسیسی اراکین یاسمین حمید، زاہدہ حمید اور سلمی حمید کی سگی خالہ تھیں۔ تاسیسی اراکین میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی ، نگہت ہاشمی، میری بہن محمودہ خاتون اور ڈاکٹر ام کلثوم وغیرہ بھی شامل تھیں۔
    ڈاکٹر قریشی مرحوم کی اہلیہ راقم اور راقم کے اہل خانہ کے لئے سگی خالاوں سے بھی بڑھ کر تھیں اور ہماری ہر معاملہ زندگی میں ہماری رہنمائی فرمایا کرتی تھیں۔واضح رہے کہ ڈاکٹر مریم ڈاکٹر قریشی مرحوم کی وفات سے چند برس پہلے اللہ تعالی کو پیاری ہو گئی تھی۔ حافظ محمد ادریس صاحب کا بھی ڈاکٹر قریشی مرحوم سے گہرا رابطہ اور مشاروت رہتی تھی۔
    ڈاکٹر قریشی مرحوم نے مکہ مکرمہ میں ایک مکان خرید رکھا تھے، جس میں تمام سہولیات اور باورچی خانہ میں گیس کا سلنڈر تک موجود ہوتا تھا، جسے انہوں نے عمرہ زائرین اور حاجیوں کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور وہ ہر واقف کار کو جسے عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ جانا ہوتا اپنے اس مکان کی چابی وہاں پر صفائی ستھرائی اور ہر چیز کے احتیاطی تدابیر کے ساتھ استعمال کی ہدایات کے بعد عنایت کردیتے تھے ۔ راقم بھی عمرہ کی غرض سے دو تین مرتبہ اس مکان سے استفادہ حاصل کر چکا ہے۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کو اللہ تعالی نے وافر رزق عطاء فرمایا تھا اور وہ اسی طرح اللہ تعالی کی راہ میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر قریشی فرمایا کرتے تھے کہ وہ الریاض میں جس عمارت میں سکونت پذیر تھے وہ اس سڑک یعنی شارع حجاز (موجودہ نام شارع سلام) کی قدیم ترین عمارت ہے اور اس عمارت کے علاوہ اس شارع پر اور کسی عمارت کا وجود تک نہ تھا۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کی دینی و سماجی خدمات کا مکمل احاطہ مشکل ہے تاہم تذکیر کے طور پر عرض ہے کہ الریاض میں قیام کے دوران آپ مختلف کمپنیوں کے کیمپوں میں تشریف لے جاتے اور پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کے حل اور ان کے علاج معالجہ کے لئے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے ۔ اس کے علاوہ ان افراد میں سے جو بھی عالم اور قابل فرد معلوم ہوا اسے دینی و تربیتی کاموں کی ترغیب دی یہاں تک کہ ان میں سے بعض کے ذریعے ان ہی کے کیمپوں میں ہی جمعہ کی نماز کا اور حلقات دروس کا اہتمام بھی فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح الریاض کے مضافات میں قائم کیمپوں میں بھی پاکستانیوں کے مسائل کو حل کر دیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں آپ پاکستان سے تعلیم کی غرض سے آئے ہوئے طلباء کے ساتھ نہایت ہی شفقت کا برتاو کرتے اور ان کی ہر قسم کی مشکلات اور مسائل کو حل فرمانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ راقم کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی مشفقانہ تھا۔
    افغان جہاد کے ابتدائی ایام میں افغان مجاہدین کے راہنماوں گل بدین حکمت یار صاحب، عبدالرسول سیاف صاحب، برہان الدین ربانی صاحب، مولوی یونس خالص صاحب، گیلانی صاحب، مجددی صاحب، امریکہ سے ڈاکٹر غلام نبی فائی صاحب، لندن سے طفیل صاحب، یوکے اسلامک مشن سے ایوب ٹھاکر صاحب، مولانا نثار صاحب ہری پور ہزارہ سے وغیرہم (ان میں سے جو لوگ فوت ہو گئے ہیں اللہ تعالی ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور جو لوگ زندہ ہیں اللہ تعالی انہیں مزید ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین)۔ یہ تمام صاحبان جب بھی سعودی عرب کا دورہ کیا کرتے تھے تو ان کا قیام ڈاکٹر قریشی مرحوم کے مکان پر ہوتا تھا اور ان کی مہمان نوازی کے لئے ڈاکٹر قریشی مرحوم نے راقم اور اپنے بچوں کی مستقل ڈیوٹی تفویض کی ہوئی تھی جس کے لئے ڈاکٹر قریشی مرحوم نے اپنی کار کی چابی بھی راقم کے حوالے کی ہوئی تھی۔ اسی طرح ڈاکٹر قریشی مرحوم جب کبھی راولپنڈی اپنے کاموں کے سلسلے میں آتے تھے تو ان کا قیام تو ان کے اپنے ذاتی ہوٹل میں ہوتا تھا جبکہ اپنی آمد و رفت کے لئے اپنی کار کی چابی مجھے دے دیتے تھے اور انہیں جہاں کہیں جانا ہوتا راقم کو ساتھ لے جاتے اور اپنے بچوں اور بھائیوں کی طرح خاطر مدارت کرتے۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران انہوں نے اور ان کی بیگم نے راقم اور راقم کی فیملی کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا یہاں تک کہ راقم کے بیٹے ضیغم الاسلام کی پیدائش پر راقم کی عدم موجودگی میں ختنے بھی کر دئیے اور راقم کی بچیوں کے کانوں میں کان چھیدنے کے بعد سونے کی بالیاں بھی ڈال دیں۔
    ایک مرتبہ راقم اپنے فلیٹ کا کرایہ بر وقت ادا نہ کر سکا تو ڈاکٹر مرحوم نے مالک مکان کو اپنی جیب سے کرایہ مکان ادا کر دیا اور بعد ازاں راقم کو اس بابت بتایا کہ جب کرایہ کا بندوبست ہو جائے تو مجھے ادا کر دینا۔ اسی طرح انہوں نے راقم کے ساتھ برتاو کیا۔ سن 1987 میں ایک مرتبہ انہوں نے راقم سے دریافت کیا کہ ہمارے پاس پاکستان میں کوئی مکان ہے تو راقم کے نفی کے جواب پر ڈاکٹر قریشی مرحوم نے منصورہ لاہور میں اپنے تین کنال اور تین مرلہ کے ذاتی پلاٹ کے کاغذات یہ کہہ کر میرے اور میرے والد مرحوم کے حوالے کر دئیے کہ یہ پلاٹ آپ لے لیں۔ ہم نے معذرت کی کہ ہمارے پاس رقم کا بندوبست نہیں ہے لیکن ان کے اصرار کے بعد ہم نے اس پلاٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک تہائی اپنے پاس رکھ کر باقی دو تہائی راقم کے سسر حافظ شریف الحسن مرحوم اور اکرم رانجھا صاحب کو دے دیا اور بعد ازاں کوشش کر کے ڈاکٹر قریشی مرحوم کو ان کے پلاٹ کی رقم واپس ادا کر دی۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کی یہ نیکی ہم تمام خاندان کے لئے ایک ایسی نیکی اور صدقہ جاریہ ہے جسے ہم کبھی بھی نہیں بھلا سکتے ۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم ہر ضرورت مند کو قرض دے دیا کرتے تھے لیکن ان سے اس قرض کی واپسی کی کوئی شرط طے نہیں کیا کرتے تھے تاہم وہ ایسے قرض کی تحریر ضرور کر لیا کرتے تھے۔ راقم کے سوال کے جواب میں کہ ڈاکٹر صاحب آپ قرض دے کر تحریر لکھوا لیتے ہیں لیکن قرض کی واپٍسی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے تو ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ میں اس لئے لکھوا لیتا ہوں کہ یہ قرآن کریم کا حکم ہے تاکہ اگر مقروض وہ رقم واپس دے دے تو اس کی تحریر واپس کر دوں تاہم میں قرض واپس لینے کے لئے نہیں دیتا بلکہ میں قرض دے کر بھول جاتا ہوں اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہوں اور اگر کوئی قرض واپس کرنے آتا ہے تو میں اس سے معلوم کرتا ہوں کہ آپ کے پاس رقم ہے تو واپس دے دیں اور اگر نہیں ہے تو اسے بھول جائیں۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کارکنوں کے باہمی تعلقات کی ہو بہو تصویر تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی تحریک اسلامی کے کارکنوں کے لئے نمونہ کی صورت میں گزاری۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم کی زندگی مثالی کارکن کا عمدہ نمونہ ہے اور پاکستان اور بیرون پاکستان تحریک اسلامی کا کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ تصور کی جا سکتی ہے۔
    1990 میں کویت پر قبضہ کے بعد عراق کی طرف سے سعودی عرب پر بھی میزائلوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر قریشی مرحوم اس سے قبل ہی اپنی رہائش الریاض کے پوش علاقے میں اپنے ذاتی وسیع مکان میں منتقل کر چکے تھے جبکہ ان کا کلینک اور شارع سلام والی رہائش ابھی تک ان ہی کے تصرف میں تھی لہذا ڈاکٹر قریشی مرحوم نے عراقی میزائلوں اور کیمیکل ہتھیاروں سے بچنے کے لئے اپنی سابقہ رہائش اور کلینک کی تمام کھڑکیوں اور دروازوں پر کالے رنگ کے پردے لگوا دئیے تھے اور اس مکان کی چابیاں راقم کو دے دی تھیں تاکہ خطرے کے وقت راقم اپنی اور اپنی ہمشیرہ کی فیملی کو احتیاط کے طور پر فوری طور پر وہاں منتقل کر سکے۔ جب کبھی بھی الریاض میں عراقی حملے کے خطرے کا سائرن بجتا ڈاکٹر قریشی مرحوم راقم کو فوری طور پر بذریعہ فون اپنے کلینک میں پناہ لینے کے لئے تاکید فرماتے تھے۔
    ڈاکٹر بشیر قریشی مرحوم نے اپنے گھر کے تمام افراد کی تربیت بھی بہت اچھے طریقے سے کی تھی۔ ان کے گھر کے تمام افراد بھی ماشاءاللہ خوش خلق اور ادب و آداب کا خیال رکھنے والے ہیں ۔ انہوں نے اپنے تمام بچوں کی شادیاں بھی دین اور تحریک کے مشن کو سامنے رکھ کر کی ہیں۔ آپ کے تمام بیٹے ڈاکٹر عبداللہ، ڈاکٹر احمد، ڈاکٹر یوسف اور ڈاکٹر عمران ہیں جبکہ ان کی ایک ہی بیٹی فاطمہ بشیر علی قریشی ہیں جو کلیہ الشریعہ سے فارغ التحصیل ہیں اور ڈاکٹر طاہرصاحب کے عقد نکاح میں ہیں۔ ڈاکٹر طاہرغالباً آجکل الخدمت ہسپتال پشاور میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ (ختم شد)

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (09-16-2020)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    جواب: ڈاکٹر بشیر علی قریشی (مرحوم) ۔ ایک شفیق محبت وطن انسان

    bashir1.jpgbashir2.jpg

    ڈاکٹر بشیر علی قریشی مرحوم ایک شفیق انسان تھے
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (09-16-2020)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,913
    شکریہ
    649
    709 پیغامات میں 735 اظہار تشکر

    جواب: ڈاکٹر بشیر علی قریشی (مرحوم) ۔ ایک شفیق محبت وطن انسان

    ماشاءاللہ
    اہم اور مفید معلومات شیئر کرنے کا شکریہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University