چند دانے کھائیں،بیماری سے نجات پائیں ۔۔۔۔ تحریر : انیلا ثمن

ہمارے ہاں بیشتر افراد نہیں جانتے کہ کشمش کا ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر کیسے کیسے قیمتی فوائد سموئے ہوئے ہے۔عام طور پر لوگ اسے کھانے پینے کی چیزوں میں شامل کرتے ہیں،لیکن کسی چیز میں ڈالے بغیر ثابت دانے کھانا کس قدر فائدہ مند ہے، آئیے اس بارے میں آپ کو تفصیل سے بتائیں۔
خون کی کمی جیسے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہایت کم قیمت اور آسانی سے دستیاب کشمش کو بہترین مانا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس میں وٹامن بی کمپلیکس اور آئرن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، یہ دونوں اجزاء خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں، اس لیے ہر عمر کے افراد کو چاہیے کہ اپنی خوراک میں کشمش ضرور شامل کریں۔اس کے روزانہ چند دانے کھا لینے سے نہ صرف جسم میں خون کی کمی پوری ہو گی بلکہ کمزوری بھی دور ہونے لگے گی اور خون کی رفتار سست ہو جانے جیسے مسائل سے بھی نجات ملے گی۔

نظر کی کمزوری آج کل ہمارے ہاں ہر عمر کے افراد کا مسئلہ ہے اور ایک بار یہ کمزور ہو جائے تو اسے پوری طرح ٹھیک کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔علاج کے طور پر آپ کو نظر کی عینک یا لینز استعمال کرنا پڑتے ہیں اور اگر ان سے نجات حاصل کرنی ہو تو واحد حل آپریشن ہوتا ہے جو بعض لوگ تو کروانے سے ہی ڈرتے ہیں اور جو کروا لیں انہیں بھی لمبے عرصے تک احتیاط کرنا پڑتی ہے، اس کے بارے میں سو فیصد وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اب نظر مزید کمزور ہو گی یا نہیں۔اگر کسی بھی وجہ سے خدا نخواستہ آپریشن کے بعد بھی نظر کمزور ہو جائے تو کوئی حل باقی نہیں رہتا۔ آپ کو جان کر یقینا حیرت ہو گی کہ نظر کی کمزوری جیسے سنگین مسئلے کو کشمش استعمال کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ کشمش میں پولیفینولک فائیٹو نیوٹرنٹ کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے،اور یہ کیمیکلز بینائی کو کمزور کرنے کے عمل کو روکتے ہیں۔ کشمش میں وٹامن اے بھی پایا جاتا ہے جو کلر بلائنڈنس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔اگر کسی کو اپنی نظر کمزور ہوتی ہوئی محسوس ہو تو وہ کشمش کو اپنی خوراک میں شامل کرلے ۔

کینسر جیسے مئوذی مرض سے نجات کے لیے بھی کشمش کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ پولیفینولک فائیٹو نیوٹرنٹ نامی کیمیکل کشمش میں پایا جاتا ہے تو یہ کیمیکل جسم میں موجود چند نقصان دہ ذرات کا خاتمہ کرکے کینسر سے بچاتا ہے۔یہ ذرات جسم میں بننے والے نقصان دہ خلیوں کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔

چند غذائی اجزاء ایسے بھی ہیں جن کی ہمارے جسم کو بہت معمولی مقدار درکار ہوتی ہے،لیکن یہ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔جیسا کہ بورون ۔یہ کیلشیئم کو جذب کرنے کے حوالے سے اہم ہے۔اکثر لوگ کیلشیئم سے بھرپور غذائیں استعمال کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں کیلشیئم کی سطح کم ہوتی ہے اس کی وجہ جسم میں ضروری اجزاء کی کمی ہے۔اگر آپ دودھ کے ساتھ تھوڑی سی کشمش کھا لیں تو کیلشیئم مکمل طور پر جذب ہو جائے گا اور آپ کی ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرے گا۔

چندجراثیم ایسے ہوتے ہیں جو دانتوں کو خراب اور مسوڑھوں میں سوجن اور ان سے خون آنے کا باعث بنتے ہیں،لیکن کشمش میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو ان جراثیموںکے خلاف مزاحمت کرنے کے علاوہ دانتو ں اور مسوڑھوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ کشمش میں کیلشیئم بھی اتنی مقدار میں پائی جاتی ہے جو دانتوں کو مضبوطی فراہم کر سکتی ہے۔