ہیئرچاکنگ کا بڑھتا رجحان ۔۔۔۔ تحریر : نجف زہرا تقوی

اسے بال رنگنے کی محفوظ ترین تکنیک مانا جارہا ہے
بات کی جائے فیشن کی تو پچھلے چند سالوں کے دوران جس قدر تیزی سے بالوں کو رنگنے کا رواج مقبول ہو ا ہے،اتنی ہی تیزی سے اس کے طریقے دریافت کیے گئے ہیں
یوں تو بالوں کو رنگنے کا رواج نہایت قدیم ہے ۔مشرقی ممالک میں بالوں کو سرخی مائل رنگت دینے کے لیے ہر عمر کی خواتین مہندی کا استعمال کرتی تھیں،لیکن تب بالوں کو مختلف رنگ دینے کا کوئی طریقہ نہیں تھا،صرف مہندی کا رنگ ہی بالوں پر چڑھایا جا سکتا تھا۔بالوں کے لیے ہیئر ڈائی متعارف کروائے گئے تو مغربی فیشن کو اپناتے ہوئے سب سے پہلے سنہرے رنگ کا رواج اس قدر عام ہوا کہ خواتین کے ساتھ،ساتھ مردوں نے بھی اسے بطور فیشن اپنایا۔جس کے بعد ہیئر ڈائی میں ہی بے شما ر دوسرے رنگ بھی مارکیٹ میں لائے گئے۔

شروعات میں بالوں کو رنگنے کے لیے ایک ہی طریقہ استعمال کیا جا رہا تھا کہ پہلے بلیچ کے ذریعے بالوں کی اصل رنگت صاف کی جائے اور پھر اس پہ ڈائی لگا کرکچھ عرصے کے لیے دوسرا رنگ چڑھا دیا جائے،لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد جب ڈائی کا رنگ اُترا تو بالوں کا اصل رنگ بھی غائب ہو چکا تھا اور بلیچ کے استعمال سے ان کی ساخت کو بھی بے حد نقصان ہوا ۔جس کے بعد مختلف کمپنیوں نے اچھی قسم کی بلیچ متعارف کروائی۔اس کے باوجود بے شمار لوگ ایسے تھے جو فیشن تو کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے بالوں کو دائو پر لگانے کو تیار نہ تھے۔جس کے بعد فیشن میں جدت لائی گئی اور ’’ایکسٹینشنز‘‘کا استعمال عام ہونے لگا۔یہ بالوں کی نقلی لٹیں ہوتی ہیں جن پر آپ اپنی مرضی کا رنگ کرو ا کے انہیں بالوں میں لگا سکتے ہیں۔یہ طریقہ بھی محفوظ تھا لیکن محنت طلب تھا۔اس کے لیے آپ کو پارلر کی خد مات لینا پڑتی تھیں اور اچھی قسم کی ایکسٹینشنز استعمال کرنے کے لیے خاصی رقم بھی خرچ کرنا پڑتی تھی۔

عوام کی مزید آسانی کے لیے ’’ہیئر چاکنگ‘‘کا رواج سامنے آیا تو ہر عمر کی لڑکیوں اور خواتین نے گویا سکھ کا سانس لیا۔بالوں کو نیا رنگ دینے کے لیے اسے سب سے محفوظ طریقہ مانا جاتا ہے۔ہیئر چاکنگ میں دستیاب کلر ایک رنگین چاک نما ہوتے ہیں جسے بالوں پر رگڑ کر وقتی طور پر بالوں کا رنگ بدل جاتا ہے اور دھونے سے با آسانی صاف بھی ہو جاتا ہے۔ان چاکس میں کسی قسم کی پری آکسائیڈ یا بلیچنگ میٹریل شامل نہیں کیا گیا۔انہیں آپ جب چاہیں بالوں پر استعمال کر سکتی ہیں۔ بہ نسبت گیلے بالوں کے سوکھے بالوں پر ان کا رنگ زیادہ اچھا نظر آتا ہے۔یہ چاکس اب سپرے کی شکل میں بھی عام دستیاب ہیں اور زیادہ مہنگے بھی نہیں ہیں۔انہیں استعمال کرنے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ نے بال دھوئے نہیں ہیں اور ا ن میں سے تیل نکل رہا ہے تو ہیئر چاکس کا استعمال بالوں سے نکلتے تیل کو بھی خشک کر دے گا۔بالوں کو رنگنے کے لیے یہ محفوظ ترین تکنیک اپنائیں ۔