1971 کے مستند اور دانشورانہ تبصرے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہرحال اس سلسلے میں بہترین کتاب War and Secession ہے جو Richard Sisson اور Leo Rose نے مل کر لکھی۔ جنگ کے فوری بعد ایک تجزیہ All Soul's College, Oxford کے Robert Jackson نے بھی لکھا تھا۔ اس جنگ میں شامل مختلف کرداروں نے تو کچھ خاص نہ لکھا تاوقتیکہ 1998 میں جنرل نیازی کی کتاب "Memories" منظر عام پر آئی۔ کچھ بھارتی افسران نے بھی کتابیں لکھیں جو غیر معیاری ہیں۔ بلکہ انہوں نے جو کچھ ایک دوسرے کے متعلق لکھا پڑھ کر ہی شرم آتی ہے۔
Sisson اور Rose کی کتاب میں جنگ کی ایک معقول اور مناسب تصویر سامنے آتی ہے۔ دونوں بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اپریل 1971 میں ہی بھارت نے بنگالی باغیوں کی مدد کرنی شروع کر دی تھی۔ اس کے باوجود “مکتی باہنی“ پاکستانی فوج کو کہیں بھی نہ روک سکی۔ پاکستانی فوج نے کامیابی سے بغاوت پر قابو پایا۔ تمام شہروں اور بھارت کے ساتھ ملحقہ مشرقی پاکستان کی سرحدوں کا کنٹرول سنبھالا اور بہت سے دیہی علاقوں میں بھی حکومتی رٹ بحال کر دی۔ جولائی سے اکتوبر تک بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان میں مختلف اہداف پر ڈائریکٹ حملے کئے۔ وسط اکتوبر سے 20 نومبر تک بھارتی فوج نے بنگالی باغیوں کی مدد میں توپخانے کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ بعض مقامات پر ٹینک اور ائیرفورس بھی استعمال کی گئی۔ اہداف حاصل کرنے کے بعد انہیں مکتی باہنی کے کنٹرول میں دے کر بھارتی فوج واپس اپنی سرحدوں کے اندر آ جاتی۔ لیکن یہ فتح وقتی ثابت ہوتی اور بھارتیوں کو اس وقت شدید ہزیمت اٹھانی پڑتی جب پاکستانی فوج جوابی حملہ کرتی اور مکتی باہنی میدان چھوڑ کر پیچھے بھاگ آتی۔ وہ پاکستانی فوج سے مقابلے کی استطاعت سے عاری تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج نے اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے لئے اپریل مئی تک پورے مشرقی پاکستان میں رٹ بحال کر دی۔ یہ سیاسی کردار کے لئے بہترین موقع تھا جو فوج نے اپنے حکمرانوں کو فراہم کیا۔ پاکستانی فوج نے بنگالی باغیوں اور بھارتی فوج دونوں کو نومبر تک مشرقی پاکستان کی سرحدوں سے دور رکھا تاکہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کو کو اپنا کردار ادا کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے۔ یہ سیاسی کردار اور سیاسی حل کا بہترین موقع تھا لیکن پاکستانی حکمران اور سیاستدان اس سنہری موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ ناکامی حکومت اور سیاست دانوں کی تھی نہ کہ فوج کی جس نے بلاشبہ شاندار کارکردگی دکھائی۔
بھارتی رپورٹوں اور دعوؤں کے برعکس مشرقی بنگالی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ 21 نومبر کو شروع ہوئی۔ بھارت کا اس جنگ کو ایک “برق رفتار فوجی مہم“ قرار دینے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا کیونکہ پاکستانی فوج کی شدید مزاحمت کی وجہ سے یہ جنگ 4 ہفتوں تک طویل ہو گئی۔ Sisson اور Rose نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا:
“21 نومبر کی رات کو بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئی۔ اس کے بعد بھارتی فوج واپس نہیں مڑی۔ 21 اور 25 نومبر کے درمیان بھارت کے کئی فوجی ڈویژنز نے بیک وقت ہر طرف سے مشرقی پاکستان کے اہم مقامات پر حملہ کیا۔ اسے ٹینکوں اور ائرفورس کی بھی مکمل مدد حاصل تھی۔“
بھارتی جرنیلوں سکھونت سنگھ اور لچھمن سنگھ نے بھی اپنی کتابوں میں لگی لپٹی بغیر لکھا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان پر نومبر میں حملہ کیا تھا حالانکہ بھارتی فوج کو مکمل علم تھا کہ یہ حملہ ایک آزاد ملک کے خلاف غیر قانونی جنگی حرکت ہے۔( یاد رہے کہ بھارتی میڈیا پوری دنیا کو یہ تاثر دیتا رہا کہ کہ بھارتی افواج پاکستان کی طرف سے 3 دسمبر کو مغربی محاذ پر حملے کے بعد جوابی طور پر مشرقی پاکستان میں داخل ہوئی ہیں۔) کسی بھی غیر ملکی مبصر کو شک نہیں تھا کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج بھارت کے اتنے بڑے حملے کا مقابلہ کرنے کی استطاعت رکھتی ہے کیونکہ پاکستانی کی شروع سے ہی فوجی پالیسی تھی کہ “ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے ہو گا۔“ Jackson لکھتا ہے کہ:
“ 21 نومبر تک پاکستانی فوج (مشرقی سرحد) پر چھوٹی چھوٹی پوسٹوں پر دفاعی فرائض سر انجام دے رہی تھی۔ بھارتی حملے کے بعد منظم طریقے سے پیش قدمی کر کے اہم مقامات پر مورچہ زن ہو کر دفاعی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ وہاں پر اس نے نہ صرف مکتی باہنی کے تمام حملے ناکام بنائے بلکہ بھارتی فوج کے داخلے کو بھی مکمل طور پر روک دیا۔“
1971 کے اس سانحہ کو برداشت کرنے کے لئے پاکستانی عوام کے پاس بہت سی معقول وجوہات ہیں لیکن یہ غلط ہے کہ بغیر سوچے سمجھے ان فوجیوں پر الزامات لگائے جائیں یا انہیں بدنام کیا جائے جو سخت مخالف حالات کے باوجود اپنی قومی پالیسی کے دفاع میں جرات اور بہادری سے لڑے۔ شاندار جنگی کاروائی رقم کی۔ ایسے لوگوں کی عزت نہ کر کے قوم اپنی بے عزتی کی مرتکب ہوئی۔
جن تکلیف دہ اور غیر مناسب حالات میں پاکستان فوج نے مشرقی پاکستان کا دفاع کیا وہ اصولاََ پوری قوم کے لئے باعثِ فخر ہونا چاہیے تھا۔ وہاں لڑنے والے سب پاکستان کے بیٹے تھے اور پاکستان کے۔ لئے ہی انہوں نے جانیں قربان کیں۔ بہتوں کو کفن نصیب ہوئے نہ قبریں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ امر قوم کی بے حسی جس نے ان کی قربانیوں کی قدر ہی نہ کی۔ کوئی ان کی یادگار تعمیر ہوئی اور نہ ہی ان کی یاد میں کوئی دن منایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی نعشیں وطن واپس لائی گئیں جبکہ بنگلہ دیش نے اپنے ہیرو فلائیٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمٰن (کیڈٹ راشد منہاس کو اغوا کرنے والا بنگالی آفیسر) کی نعش 2006 میں پاکستان سے بنگلہ دیش لے جا کر پورے قومی اعزاز کے ساتھ اسے دفن کیا اور راجشاہی ائیر بیس اس کے نام منسوب کی۔