اپوزیشن قیادت کا امتحان شروع ۔۔۔۔ سلمان غنی

اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کردیا ہے ۔ اس تحریک کا پہلا بڑا جلسہ گوجرانولہ میں 16اکتوبر، 18اکتوبر کو کراچی ، 25 اکتوبر کو کوئٹہ ، 22نومبر کو پشاور اور 30نومبر کو ملتان اور 13دسمبر کو لاہور میں بڑے جلسے ہونگے ۔ متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمن کو پی ڈی ایم کا سربراہ بنایا گیاہے ۔
مولانا کا نام بطور سربراہ نواز شریف نے تجویز کیا جسکی تائید بلاول بھٹو زرداری نے کی جبکہ سٹیئرنگ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کی مدد سے تمام سیاسی فیصلے کیے جائیں گے ۔

مولانا فضل الرحمن ان لوگوں میں سے ہیں جو حکومت کے مینڈیٹ کو جعلی کہتے ہیں اب مولاناکے پاس پی ڈی ایم کی سربراہی ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بڑی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ( ن) سمجھتی ہیں کہ مولانا کے پاس سٹریٹ پاور ہے،اس وقت اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کی سیاست کی کامیابی کے دو ہی اہم فرد ہیں ایک نواز شریف اور دوسرے مولانا فضل الرحمن ۔ نواز شریف اور مریم نواز جس سیاسی بیانیے کی بات کررہے ہیں اس میں تو ان کے ساتھ فی الحال ہمیں مولانا ہی کھڑے نظر آتے ہیں ۔ نواز شریف کے بعد جس انداز سے مقتدرہ کو مولانا چیلنج کررہے ہیں وہ خود حکومت اور مقتدرہ کیلئے لمحۂ فکریہ ہے ۔

طویل خاموشی کے بعد جس انداز سے نواز شریف او ر مریم نواز سامنے آئے ہیں اس نے عملًا اپوزیشن کے مردہ جسم میں نئی جان ڈال دی ہے ۔ پیمرا نے میڈیا میں نواز شریف کی تقریروں او رکوریج کو روک دیا ہے لیکن نواز شریف کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں وہ کسی صورت نہیں رکیں گے او راپنی جدوجہد کو لند ن سے بیٹھ کر ہی جاری رکھیں گے ۔ ایسے لگتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز بڑی سیاسی جنگ لڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں او راس میں اگر مولانا بھی سرگرم ہوگئے تو یقینی طور پر حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتاہے ۔

پی ڈی ایم کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر سے دسمبر تک چاروں صوبوں میں بڑے جلسے کریگی او رجہاں اسے محسوس ہوا کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینا ہے تو اپوزیشن اتحاد اس سے بھی گریز نہیں کریگا اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اگلے چند ماہ میں اپوزیشن کوئی بڑی تحریک چلاسکے گی ؟ کیونکہ اپوزیشن میں بھی کافی تقسیم ہے اس کے باوجود سب یہ مانتے ہیں کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اندرونی مسائل سے نکل کر بڑی ملک گیر تحریک چلائی تو امکانات ہیں کہ اس میں جان ڈل سکتی ہے ۔ محسوس ہورہا ہے کہ اگرچہ ابھی تحریک کا عمل شروع نہیں ہوا لیکن حکومت کا انداز بتارہا ہے کہ اسے اس تحریک سے سیاسی پریشانی کا سامنا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کے تمام رابطوں کو جو وہ پاکستان میں کررہے ہیں ان پر پابندی عائد کی جائے ۔ اسی طرح کہا جارہا ہے کہ مریم نواز کی گرفتاری بھی ممکن ہے تاکہ انہیں تحریک میں حصہ لینے سے روکا جاسکے ۔

مسلم لیگ( ن) کے اندر بھی دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ نواز شریف کی سیاست سے خود کو فاصلے پر رکھیں او رنواز شریف کے سیاسی بیانیے کو مسترد کردیں ۔ لاہورمیں مسلم لیگ( ن) کی اعلیٰ قیادت کے تمام عہدے داروں کیخلاف مقدمہ بھی درج ہوچکا ہے ۔بہت سے سیاسی لوگوں نے نواز شریف کو بھارت کے ایجنٹ یا غدار کے طور پر پیش کرنے کی مذمت کی ہے ۔ ان کے بقول نواز شریف3 بار اس ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں ان پر اس طرح کے الزامات سے ملک کی کوئی نیک نامی نہیں ہوگی ، اختلاف کرنے والوں کو سیاسی میدان میں سیاسی طور پر ہی مقابلہ کرنا چاہیے ۔یہ کھیل ماضی میں بھی کھیلا جاچکا ہے او رہم کئی سیاسی وجوہات کی بنا ء پر ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں ۔ اب یہ کھیل عملی طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ ماضی میں بھی اس کھیل کے کوئی اچھے نتائج ہماری سیاست اور جمہوریت پر نہیں پڑے۔

جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو اس تحریک کی کامیابی کی بڑی کنجی تو پیپلزپارٹی او ر مسلم لیگ( ن) کے پاس ہی ہے ۔ جب تک یہ دونوں بڑی جماعتیں عملی طور پر سرگرم نظر نہیں آئیں گی ایک بڑی تحریک کا منظر نہیں بن سکے گا

مولانا فضل الرحمن بھی ان جماعتوں سے زیادہ امید لگائے ہوئے ہیں ان کے بقول اگر اِن دونوں جماعتوں نے تحریک میں عملی کردار ادا کرنے کی بجائے سست روی کا مظاہرہ کیا تو اسکا براہ راست فائدہ حکومت کو ہوگا ۔ مولانا کو پہلے ہی ان دونوں جماعتوں کے بارے میں تحفظات ہیں او راس کا برملا اظہار بھی وہ کرچکے ہیں ۔اس لیے نواز شریف ، آصف زرداری یا بلاول بھٹو سمیت شہباز شریف کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ تحریک میں فعال کردار ادا کریں ، کیونکہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ تن تنہا مولانا سب کچھ کردیں گے تو وہ ممکن نہیں ۔اچھی بات یہ ہے کہ لندن سے نواز شریف اور پاکستان میں مریم نواز مولانا کے ساتھ مل کر تحریک میں جان ڈالیں گے تو باقی اپوزیشن کی جماعتیں بھی سیاسی طو رپر زیادہ سرگرم ہوسکتی ہیں۔ کیا حکومت واقعی بغیر کسی رکاوٹوں کے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی تحریک چلانے کی اجازت دے گی ؟کیونکہ وزیر داخلہ کے بقول اپوزیشن کی تحریک نظام کیخلاف ہے او ر اسے کسی بھی صورت قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس تحریک سے طاقت کے زور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے خلاف الزام تراشیوں کا کھیل عروج پر نظر آتا ہے۔

یہ بات حکمرانوں کو سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی مقبول قیادت کو طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کیلئے سیاسی بنیادوں پر جنگ لڑنا ہو گی کیونکہ سیاسی جنگ ہی ہماری سیاست اور جمہوریت کیلئے سود مند ہوسکتی ہے ۔ اگر اس تحریک میں بلاوجہ حکومت نے تشدد کے کسی عنصر کو پیدا کیا تو یہ خود حکومت کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ایک طرف حکومت کی سیاسی یا انتظامی حکمت عملی ہوگی تو دوسری طرف نواز شریف ،مولانا فضل الرحمن، مریم او ربلاول کیا سیاسی حکمت عملی اختیا ر کرتے ہیں او رکیسے حکومت کیلئے سیاسی محاذ پر بڑی مشکل پیدا کرتے ہیں ؟ یہ تحریک اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کا بڑا امتحان ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس تحریک میں کس حد تک سرخرو ہوتے ہیں۔