ٹک ٹاک پر پابندی کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا


کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

کراچی کے رہائشی منیب احمد نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ دو کروڑ سے زائد لوگ ٹک ٹاک ایپلی کیشن کو استعمال کرتے ہیں، ان میں سے صرف چند لوگ ایپ کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان کی آئی ڈی کو بلاک کیا جا سکتا ہے، تمام ٹک ٹاکرز کے اکاؤنٹ بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔ اس کی سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹک ٹاک کے سینئر حکام کی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے چیئرمین کیساتھ ورچوئل میٹنگ ہوئی تھی جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مستقبل میں ویڈیو شیئرنگ ایپ کے مواد کو کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ورچوئل میٹنگ کے دوران ٹک ٹاک کے حکام نے کمپنی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا۔ اس میٹنگ کا مقصد ویڈیو شیئرنگ ایپ کو ملکی قوانین کے تحت کس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے۔

کچھ روز قبل ٹک ٹاک انتظامیہ نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ جلد پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائے گی جس سے ویڈیو شیئرنگ ایپ پاکستان میں پھر سے کام کرنا شروع کر دے۔

پی ٹی اے کے ایک اعلٰی افسر نے بھی بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی طرف سے رابطے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایپ انتظامیہ اپنے غیر قانونی مواد کی روک تھام کا نظام بہتر کر لے تو پی ٹی اے اسے بحال کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مواصلات کے ریگولیٹری ادارے پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کے خلاف معاشرے کے مختلف طبقات کی شکایات کے پیش نظر، پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں۔

کمپنی کے ترجمان نے نیوز ویب سائٹ کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ ٹک ٹاک سروس کی تمام مارکیٹس میں مقامی قوانین کی پابندی کے لیے پرعزم ہے ۔ ہم پی ٹی اے سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور اب بھی ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں گے جس کی وجہ سے ہم ملک کی تخلیقی اور متحرک کمیونٹی کی خدمت جاری رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایپلی کیشن میں ایک محفوظ اور مثبت ماحول کو قائم رکھنا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔ ہمارے پاس ایک متحرک نظام موجود ہے جس کے تحت یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم صارفین کے لیے محفوظ اورخوش گوار رہے اور اس میں ایسا آسان طریقہ کار بھی شامل ہے جس کے تحت ہمارے قواعد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد کو رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اردو میں کمیونٹی گائیڈ لائنز بھی موجود ہیں۔