ڈھائی ہزار سال پرانے تابوت سے کس کی ’ممی‘ نکلی؟ ۔۔۔۔ اسماء نوید

مصری شہر میمفس میں واقع سقارہ کا علاقہ قدیم ترین تہذیب کا مرکز ہے، اسے فرعونوں کے مجسموں کی باعث عالمی شہرت ملی ہے۔یہاں ملنے والی قدیم ترین ''ممیوں‘‘ پر تحقیق کے ذریعے مورخین قدیم باشندوں کی بود و باش اور سائنسی ترقی کے راز پانے کی جستجو میں ہیں اسی لئے گزشتہ دنوں 2.5ہزار برس قدیم13 تابوت کھول دیئے گئے ۔مورخین کے مطابق 59تابوت مزید موجود ہیں ،یہ تابوت ماہرین کو فرعونوں کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔
رنگ چمک رہے تھے
تصاویرمیں دیکھا جا سکتا ہے کہ تابوت اچھی حالت میں ہیں، رنگ بھی چمک رہے ہیں۔مورخین سوچ رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فرعونوں نے رنگ کو قائم رکھنے کے لئے کون کون سے کیمیکلز استعمال کئے ہوں گے؟ وہ ان کی کچھ اشیا ء کے راز پا چکے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ تلاش کرنا باقی ہے۔ ہر بار کوئی ایسی شے سامنے آ جاتی ہے جس سے نئے موضوع پر تحقیق کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔
مذہبی عالم اور افسران
جب 13 تابوتوں کو کھولا گیا تو ان سے کچھ ایسی '' ممیاں‘‘ نکلی جنہیں دیکھ کر ،ابتدائی تجزیئے کے بعد مورخین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ اس زمانے کے مذہبی عالموں اور افسروں کی ہو سکتی ہیں۔ ان کے ارد گرد کچھ اس قسم کی اشیا ء بھی پائی گئی ہیں جو یا تو مذہبی عالموں کی نشانیاں ہیں یا پھر ان کا تعلق ملک کا نظم و نسق چلانے والے لوگوں سے ہو سکتا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ ا س دور میں بھی ''سیل بند‘‘ کرنے کی روایت موجود تھی، کیونکہ ہر ممی کے تابوت کو سرکاری مہر سے بند کیا گیا تھا۔
''ممیوں‘‘ کے کنوئیں
مصری محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ '' جب ہم نے علاقے میں تحقیقات کیں تو ہمیں ایک نہیں بلکہ اوپر نیچے مٹی سے بنے ہوئے تابوت ملے۔یہ تہہ در تہہ برآمد ہوئے ہیں ، یہ تمام تابوت کنوئیں کی مانند کسی گڑھے میں محفوظ کئے گئے تھے ۔ وہ حیران ہیں کہ افسروں اور مذہبی عالموں کو مٹی میں دفنانے کے لئے کنوئیں بنانے کا تصور کیسے ان کے ذہن میں آیا‘‘۔
گرینڈ عجائب گھر
ان تابوتوں کی نمائش کے لئے مصرمیں ''گرینڈ عجائب گھر ‘‘بنایا جا رہا ہے جہاں عوام ان سے محظوظ ہو سکیں گے ۔نئے دریافت شدہ تابوت اور'' ممیاں‘‘ بھی وہیں بھجوا دی گئی ہیں۔مذکورہ عجائب گھر 2021ء میں عوام کے لئے کھول دیا جائیگا۔
کیمیکل کون چکھے؟
۔2018 ء میں کھولی گئی ایک ممی کے تابوت میں سے کچھ کیمیکل بھی ملا تھا جس سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث چل پڑی تھی۔ لوگوں نے ا یک دوسرے کو یہ کیمیکل چکھنے اور اس کامزہ بتانے کا مشورہ دیا تھا۔ 2018ء میں ہی ایک ممی گرینائٹ کے تابوت میں بند ملی تھی۔ اب کوشش کی جا رہی ہے کہ لوگ نئی دریافتوں کے بارے میں اس قسم کی حماقت کامظاہرہ نہ کریں۔
لوٹ مار
مصری محکمہ آثار قدیمہ کو چوروں نے بھی کم نقصان نہیں پہنچایا ۔ محکمہ ثقافت کی اطلاعات کے مطابق حکومت اب بہت زیادہ سخت ہو گئی ہے، اور احتیاط سے کام لے رہی ہے ۔کیونکہ ماضی میں اس خزانے کی چوری سے مصری حکومت کو ناقابل بیان نقصان پہنچا ہے۔ ثقافت کے مجرموں نے دریافت شدہ نوادرات چرانے کے علاوہ خود بھی کھدائی کی اور حکومت سے چھپا کر انہیں غائب کر دیا۔مواصلاتی سیارے کی مدد سے ہونے والے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ چوروں نے 11سو سائٹس سے نوادرات چرائی ہیں۔ماہر ثقافت پارکاک نے کہا ، '' ثقافتی مجرموں نے اگر اسی طرح چوریاں جاری رکھیں تو 2040ء تک ایک بھی سائٹ سلامت نہیں بچے گی، میں نہایت دل گرفتہ ہوں‘‘۔ مصری نوادرات کے ایک چور فریڈرک شلز کو امریکہ میں 2002ء میں33مہینے کی سزا سنائی جا چکی ہے لیکن اس سے بھی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔مصر ی وزیر برائے ثقافت خالد الامینی کے مطابق ''یہ تابوت 4700برس قدیم ہیں جن کی حفاظت کے لئے مکمل انتظامات کئے جا رہے ہیں‘‘۔