خدا کو یاد کیاتو اس نے ڈوبنے سے بچا لیا ۔۔۔۔۔ محمد ندیم بھٹی


معروف گلوکار یوسف اسلام ( سٹیو دیمتری جارجیو )۔
(Steven Demetre Georgiou)
معروف یورپی گلوکار کیٹ سٹیو نے 1976ء میں مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام یوسف اسلام رکھ لیا تھا۔اسلام لانے کے بعد انہوں نے دنیائے موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
ان کے اسلام قبول کرنے کی دیر تھی کہ موسیقی کے پرستاروں میں ہل چل مچ گئی۔بہت سے لوگ سوال کرتے کہ '' دل میں اسلام کی شمع کیسے روشن ہوئی؟‘‘ مگر وہ ہر بار ٹال جاتے۔
28ستمبر کو انہوں نے دل کی بات بیان کرتے ہوئے اس راز سے پردہ اٹھا یا۔ایک عالمی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے یوسف اسلام نے کہا کہ''میں سٹیو دیمتری جارجیو (Steven Demetre Georgiou) کے نام سے دنیا بھر میں جانا جاتا تھا، ہر جگہ میری شناخت تھی ۔ 1976ء میں پیش آنے والے ایک واقعے نے میری زندگی بدل دی تھی۔ میں اس روز بیچ مالیبو (Malibu) میں تھا، اداروں نے اس ساحل سمندر پر حفاظت کیلئے مقدور بھر انتظامات کررکھے ہیں ۔ میں ایک انگریز ہوں ،دوسروں کی طرح مجھے بھی یقین تھا کہ خراب موسم میں تیراکی کرنے پر بھی حفاظتی دستے مجھے بچا لیں گے۔ تیراکی کو من چاہ رہا تھا، خود کو روک نہ سکا۔ابھی میں سمندر میں کچھ ہی دور گیا تھا کہ تیز موجوں کے سامنے خود کو بے بس پایا۔ ساحل کی جانب واپس آنے کی کوشش کی مگرخو دکو تند و تیز موجوں میں پھنسا ہوا پایا۔ ایک سیلابی کیفیت تھی، اس وقت مجھے ایک ہی طاقت کا خیال آیا، وہی طاقت مجھے ان طوفانی لہروں سے بچا سکتی تھی، اور وہ طاقت تھی میرا اللہ ۔میں نے اسی سے زندگی کی فریاد کی ۔وہی سب کا مالک ہے ،وہی مشکل کشا ء ہے،وہی مجھے کنارے پر لا سکتا تھا‘‘۔
یہ کہتے ہوئے 72 سالہ سنگر ذرا رکا۔ سانس لی،پھر گویا ہوا،
'' میں نے باربار اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا۔میرے منہ سے ایک ہی جملہ نکل رہا تھا، یا اللہ مجھے بچا لے ،یا اللہ مجھے بچا لے۔اور میرے اللہ نے میری سن لی ،اس نے مجھے بچا لیا ،نئی زندگی دے دی‘‘۔
''اللہ سے مدد مانگتے ہی مجھے یوں لگا جیسے میرے پیچھے سے کوئی ہلکی سی لہر آ رہی ہو، مجھے بچانے والی لہر، کنارے پر لے جانے والی لہر ۔ یہ زیادہ تیز لہر نہ تھی۔ بہت ہی آرام سے ،کسی تکلیف کے بغیرہلکی سی لہر مجھے ساحل کی جانب لے جا رہی تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، میں سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تند و تیز موجوں سے بچا کر کنارے پر پہنچانے کا حکم دیا ہے۔مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں کنارے پر کھڑا تھا ۔حیران و پریشان ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں نے اس کڑے وقت میں جب اللہ تعالیٰ کو پکارا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔تاہم اسلا م کی جانب سفر کا آغاز اس سے پہلے ہی ہو گیا تھا، بچپن میں مجھے ٹی بی ہو گئی تھی۔علاج کے لئے تین مہینے سسیکس (Sussex) کے ایک ہسپتال رہنا پڑا۔جہاں میں نے بدھ مت کی تعلیمات بھی پڑھنا شروع کیں،دوسرے مذہب کو بھی پڑھا۔اسلام مجھے اپنی روح کے قریب تر محسوس ہوا۔‘‘
قبول اسلام کے بعد بھائی نے قرآن پاک دیا۔ یہ الہامی کتاب میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھی تھی۔اسے پڑھتے ہی ایک نیا راستہ مل گیا، صراط مستقیم کا راستہ۔ جیسے کوئی گیٹ وے مل گیا ہو، میں منزل کی جانب بڑھتا چلا گیا۔میں نے اللہ کے سامنے سر جھکایا ، پھر سجدے سے کبھی سر نہیں اٹھایا ‘‘ ۔
یوسف اسلام نے کہا کہ ''قبول اسلام کے بعد ایک گروپ نے مجھے آنکھوں پر بٹھایا ، دوسرے گروپ نے جملے کسے ۔ پہلے یورپی دنیا مجھے پیار کرتی تھی، مگر پھر میں ان کی نظروں میں کھٹکنے لگا۔ مسلمان ہونے سے میں اقلیت کاحصہ بن گیا۔میرے قبول اسلام کو بہت غلط پس منظر میں لیا گیا‘‘۔
یوسف اسلام کا کہنا ہے کہ
'' میں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اسلام کی خدمت کروں گا،اسی لئے لندن میں تین اسلامی سکول بنائے جہاں بچوں کو مکمل دینی تعلیم دی جاتی ہے۔میں نائن الیون کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چلائی گئی مہم کے راستے میں ایک دیوار کی طرح کھڑا ہو گیا تھا، میڈیا کے ہر غلط پروپیگنڈے کی تردید کی۔ 29 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کی شہادت پر ایک گیت گایا۔ میری خواہش ہے کہ میں دونوں تہذیبوں کے مابین پل کا کردار ادا کروں،لیکن کیا کروں، مغربی شائقین بہت ناراض ہیں۔وہ میری بات سمجھتے ہی نہیں ۔وہ مجھے غدار کہتے ہیں۔ 'تیز دانتوں والے‘ مغربی صحافی طرح طرح کے سوالات میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔‘‘
یوسف اسلام نے 21جولائی 1948ء کو سویڈش ماں کی گودمیں آنکھ کھولی۔1967ء میں اس کی پہلی البم برطانیہ میں چھٹے نمبر پر آ گئی۔ اس نے لوک شاعر کے طور پر بھی نام کمایا۔1980ء کی دہائی میں اس کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ اس کے گانے ''امن کی ٹرین ‘‘ (Peace Train) نے دنیا بھر میں اس کے نام کا ڈنکا بجا دیا۔ اس نے خود کو امن کی تحریک کے لئے وقف کر دیا۔ گیت ''فادر اینڈ سن‘‘ نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔