شہیدِ ملت لیاقت علی خانؒ کا معاشی وژن ۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر رفیق احمد

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا پاکستان کے کسی بجٹ کو قبولیت ِعامہ کا وہ درجہ حاصل نہ ہو سکا جو متحدہ برطانوی ہندوستان کے وزیرِ خزانہ لیاقت علی خان کے 1947ء کے بجٹ کو حاصل ہوا تھا
آجکل کے دگرگوں اور غریبوں کو غریب تر اور امیروں کو امیر تر کرنے والے معاشی حالات میں اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ تحریکِ پاکستان کا معاشی ویژن کیا تھا۔ کیا اسلامیانِ ہند نے حصولِ آزادی کے لیے اس لیے قربانیاں دی تھیں کہ پاکستان کا ایک تہائی حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرے۔ ایک تہائی حصہ خطِ غربت سے ذرا اونچا اور بقیہ ایک تہائی حصہ اپنے روزگار اور ضروریاتِ زندگی کے لیے اوپر کے پانچ فیصد طبقوں کی امیر دو ست پالیسیوں اور اللوں تللوں کے بچے ہوئے ٹکڑوں کا محتاج ہو ۔ اس کے برعکس تحریکِ پاکستان کے مقاصداور دستاویزی زمینی حقائق ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں سرمایہ داری ‘جاگیرداری ‘ استحصال پسندی اور طبقاتی پالیسیوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو اور ہر سطح پر عام لوگوں کی شرکت سے نئے ملک کا ایک ایسا نیا سیاسی‘ معاشی اور سیاسی ڈھانچہ استوار کیا جائے جس میں فلاح ہی فلاح ہو۔ اس حوالے سے تحریکِ پاکستان کے دنوں کی ایک چشم کشا دستاویز وہ مشہور و معروف بجٹ ہے جو غیر منقسم ہندوستان کے مسلم لیگی وزیرِ خزانہ لیاقت علی خان نے 28فروری 1947ء کو پیش کر کے غلام ہندوستان کی استحصالی اور طبقاتی تقسیم پر مبنی معاشی زندگی میں ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کو آزاد ہوئے تقریباََ 8عشرے گزر چکے ہیں اور اس دوران دونوں ممالک کے وزرائے خزانہ نے درجنوں مرکزی بجٹ پیش کئے لیکن کسی بجٹ کو قبولیت ِعامہ کا وہ درجہ حاصل نہ ہو سکا جو متحدہ برطانوی ہندوستان کے پہلے اور آخری وزیرِ خزانہ لیاقت علی خان کے 1947-48ء کے بجٹ کو حاصل ہوا تھا۔ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کے بجٹ(poor man's budget) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی تمام پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کرنا تھا اور اس انداز سے کہ غریب طبقوں اور غریب علاقوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے۔

لیاقت علی خان نے یہ بجٹ غیر منقسم برطانوی ہندوستان کی لیجسلیٹو اسمبلی میں 28فروری1947ء کو پیش کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ قرآن مجید کے اس فرمان پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دولت کو دولت مندوں کے مابین گھومنے کی اجازت نہ دی جائے اور سرمایے کو چند افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے بچایا جائے ( سورہ ۵۹‘آیت۷)۔ اس سلسلے میں جن اصولوں کو سامنے رکھ کر بجٹ کی تجاویز مرتب کی گئیں ‘ان میں نمایاں اصول یہ تھا کہ تعمیروترقی کے منصوبے اور تجاویز اس طرح تیار کیے جائیں کہ خوش حال طبقوں سے وسائل لے کر غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں‘ ان کی آمد نیوں اور روزگار میں اضافہ ہو اور ان پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو۔ لیاقت علی خان نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ بجٹ کا مقصد آمدنی کا حصول نہیں بلکہ امیری اور غریبی کا تفاوت کم کرنا اور پس ماندہ طبقوں کو خوش حالی کی طرف گامزن کرنا ہو۔

زیرِ نظر بجٹ کا تعلق مالی سال 1947-48ء سے تھااور اس میں برطانوی ہندوستان کی مرکزی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ327.88کروڑ روپے اور کل آمدنی کا تخمینہ 279.42 کروڑ لگایا گیا۔ اس لحاظ سے خسارہ 48.46کروڑ روپے ظاہر کیا گیا۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے عام شہریوں اور غریبوں پر بوجھ ڈالنے کی بجائے امراء کی آمدنیوں پر محصولات عائد کئے گئے۔ اس سلسلے میں بجٹ کے چیدہ چیدہ اقدامات یہ تھے: (i) ایک لاکھ سے زائد منافع کمانے والے تاجروں پر 25فیصد بزنس پرافٹ ٹیکس۔ (ii)بڑے بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں کے اثاثوں اور فالتو آمدنیوں پر لگنے والے کیپیٹل گنیز‘ کارپوریشن اور ڈیو یڈنڈ محصولات کی مختلف شرحوں میں اضافہ۔ (iii)متوسط طبقوں پر ٹیکس کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے انکم ٹیکس سے چھوٹ کی سطح 2000 روپے سے بڑھا کر 2500 روپے ۔ (iv)دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے جن لوگوں نے بے تحاشا منافع خوری کی‘ بلیک مارکیٹ سے پیسہ کمایا اور کروڑوں روپے کی جائیدادیںخریدیں‘ ان کے وسائل کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن کا قیام۔ (v)عام لوگوں کے استعمال والی اشیاء بالخصوص نمک پر ہر قسم کے ٹیکس کی تنسیخ۔ (vi)غریب کسانوں کی اعانتوں میں اضافہ تا کہ ملک اناج کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے۔ (vii)مختلف قسم کی بچت سکیموں کی شرح منافع میں اضافہ۔ (viii)سرکاری محکموں کی فضول خرچیوں کے خاتمہ کے لیے ایک خاص کمیٹی کا اعلان۔ (ix)مرکزی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوںمیں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق اضافہ کا عزم۔ (x)کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مکانوں کی تعمیر۔ (xi)مختلف قسم کے ترقیاتی اخراجات کے لیے رقومات کی فراہمی جس میں آبی بند‘ شاہراہیں اور پس ماندہ علاقوں کی تعمیر سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ اس سلسلے میں لیاقت علی خان نے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کا تصور پیش کیا۔ (xii)ہندوستان کے مرکزی بینک یعنی ریزرو بینک آف انڈیا کو قومی ملکیت میں لینے کا انقلابی اعلان تا کہ زر سے متعلق معاملات قومی پالیسیوں کے مطابق طے پائیں۔ (xiii)سٹاک مارکیٹ اور بازارِ صرافہ میں سٹہ بازی کنٹرول کرنے کے لیے قانونی اقدامات۔

یہ امر باعثِ دلچسپی ہو گا کہ لیاقت علی خان کے بجٹ پر جہاں غریبوں اور زیر دستوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا ‘وہاں پنڈت نہرو‘ سردار پٹیل اور دیگر کانگرسی لیڈر شدید پریشان ہوئے کیونکہ اس بجٹ کی زد ہندو سرمایہ داروں پر پڑتی تھی جو کانگرس کی مالی پشت پناہی کرتے تھے۔ حتیٰ کہ این۔جی رنگا جیسے کمیونسٹ لیڈروں نے بھی مخالفت کی جس سے ان کی منافقانہ غریب دوستی کی قلعی کھل گئی۔ لیاقت علی خان اپنی غریب پرور تجاویز پر ڈٹے رہے۔ آخرِ کار کافی بحث و تمحیص کے بعد بجٹ تھوڑے سے ردو بدل کے بعد لیجسلیٹواسمبلی میں پاس ہو گیا۔ لیکن 15اگست کو جب بھارت آزاد ہوا تو پنڈت نہرو کی حکومت نے اس بجٹ میں اپنے سرمایہ داروں کی خواہشات کے مطابق کافی ردو بدل کیا اور لیاقت علی خان کی جارحانہ غریب پروری کے فلسفے کو پامال کر دیا۔

ان سطور کا مدعا لیاقت علی خان کے پیش کردہ بجٹ کا تجزیہ کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کے طویل دورِ حکومت کے آخری سال وزارتِ خزانہ کی باگ ڈور تحریکِ پاکستان کے پروردہ مسلم لیگی رہنما کے ہاتھ آئی اور اس نے اس تحریک کے انقلابی جذبوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے ماضی کے عوام دشمن نو آبادیاتی میزانیوں کا رخ یکسر بدل دیا اور آزادی کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومتوں کے لیے عوام دوست مالی پالیسیوں کی داغ بیل ڈال دی۔ تحریکِ پاکستان بنیادی طور پر ایک عوامی انقلابی تحریک تھی اور اس کے سارے سرکردہ رہنما قائدِاعظمؒ کی زیرِ قیادت ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کمر بستہ تھے جس میں سرمایہ داریـ‘ جاگیرداری اور استحصال پسندی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔

لیاقت علی خان کی شہادت اور خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اقتدار جن طبقاتی گروہوں کے ہاتھ میں چلاگیا انہوں نے شہیدِ ملّت ؒ کی پیروی کرنے کی بجائے سرمایہ دارانہ فلسفہ کی عکاسی کرنے والے بجٹ پیش کیے جس کی وجہ سے آج یہ حالت ہے کہ ملک کا ایک تہائی حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔ ملک میں آمد ن اور اخراجات کا تفاوت عروج پر ہے۔ قومی دولت کی پیداوار اور تقسیم پر تعیشات میں مبتلا مافیا گروپوں کا قبضہ ہے۔ صحت مند زندگی اور اچھی تعلیم لوگوں کی غالب اکثریت کی دسترس سے باہر ہو گئی ہے۔ قومی اور صوبائی بجٹ فلاحی کاموں کے لیے سرکاری آمدنی کا تھوڑا سا حصہ بطور صدقہ نکال کر زیادہ رقومات ان منصوبوں پر خرچ کر رہے ہیں جن کا تعلق بظاہر نظرکو خیرہ کرنے والے وسیع بنیادی ڈھانچوں یعنی میگا پراجیکٹس سے ہے لیکن وہ شرمناک ذاتی لوٹ کھسوٹ کے سر چشمے بن گئے ہیں۔