اَن دیکھی سائنسی قوت‘ موت کے بعد جنت ۔۔۔۔۔ امیر حمزہ

فزکس کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی کہ چار قدرتی اور بنیادی طاقتیں دریافت ہوئیں۔ ان میں ایک کششِ ثقل (Gravity) تھی۔ دوسری کمزور نیوکلیائی قوت، تیسری مقناطیسی قوت اور چوتھی مضبوط فورس تھی۔ ان قوتوں کی وجہ سے کائنات کا وجود قائم ہے اور پھر یہ دریافت ہوا کہ چاروں قوتیں ایک ''اکلوتی (Single) سپر فورس میں بندھی ہوئی ہیں۔ یہ آخری بات بھی سائنسی حقیقت بن کر ثابت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے دانشوروں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ چار قوتوں کے بعد ایک اور قوت ہے۔ اور اس 'قوت‘ کو کون تھامے ہوئے ہے؟ جی ہاں! وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کا نام قرآن میں ''القیوم‘‘ ہے کہ ہر شے کو وہی قائم رکھنے والا ہے۔ آسمانوں کو تھام کر رکھنے والا بھی وہی ہے۔ قارئین کرام اب ایک ایسی نئی قوت کا انکشاف ہوا ہے جو ہر شے کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ یہ کون سی نئی سائنسی قوت ہے۔
آسٹریلیا کی ''ویسٹرن یونیورسٹی‘‘ کا ایک شعبہ جسے ''سکول آف فزکس‘‘ کہا جاتا ہے۔ پروفیسر مائیکل ٹوبر اس کے سربراہ ہیں۔ وہ ریاضی اور کمپیوٹنگ کے پروفیسر ہیں، ''آسٹریلین ریسرچ کونسل سنٹر‘‘ کے چیف انویسٹی گیٹر ہیں۔ یہ ادارہ ''کوانٹم سسٹمز‘‘ کو انجینئرڈ کرنے کے لیے ہے۔ دوسری یونیورسٹی امریکا کی ''کیلیفورنیا یونیورسٹی‘‘ ہے۔ اسے ''مرسڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جیکب پیٹ (Pate) اس یونیورسٹی سے متعلق ریسرچر ہیں۔ مندرجہ بالا دونوں بڑے سائنسدانوں کی ٹیموں کے درمیان علمی ہم آہنگی اور مسلسل تحقیق کے بعد ان کی جدید ترین اَن دیکھی سائنسی قوت کا انکشاف 3 اگست 2020ء کو ''نیچر فزکس‘‘ میں سامنے آیا۔ اور مزید ریسرچ کے بعد اسٹیبلش ہو کر 13 اکتوبر 2020ء کو شائع ہوا، یعنی یہ دنیا کی جدید ترین ریسرچ ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق پر جو تحقیقی مقالہ شائع ہوا‘ اسے جو عنوان دیا گیا وہ یوں ہے:
A force from "Nothing" used to control and manipulate objects.
یعنی ایک ایسی قوت جو خود کوئی شے نہیں ہے مگر وہ چیزوں کو کنٹرول کرنے اور ان چیزوں میں جوڑ توڑ اور سلیقے سے کام کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ثابت ہوا کہ یہ جو اَن دیکھی قوت ہے اور ہر چیز پر غلبہ رکھتی ہے‘ یہ بھی مخلوق ہے۔ اس کو Casimir Force کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسی زبان میں اس کا وضاحتی تعارف یوں ہے: The science of measurement and sensing یعنی یہ اَن دیکھی سائنسی قوت چیزوں کی پیمائش کرنے اور محسوس کرنے کی سائنس ہے۔ اللہ اللہ! اس قوت کو بروئے کار لا کر جب جدید سائنسی ایجادات سامنے آئیں گی تو کیسی کیسی ہوشربا ہوں گی اور پھر اور کیا کیا ہزاروں‘ لاکھوں ایسی قوتیں‘ جو ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گی‘ کیسی کیسی اور ہوش اڑا دینے والی ہوں گی‘ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انسانوں کی سائنسی نسلیں کھربوں سال تک انکشافات کرتی چلی جائیں تو معلوم ہو گا کہ ابھی تو سائنسی ترقی اور سوچ مادی کائنات کے کنارے پر کھڑی حیران و ششدر ہے۔
''آیت الکرسی‘‘ کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام سے ہوتا ہے اور پھر اس کی دو صفتوں ''الحیی‘‘ اور ''القیوم‘‘ کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کے ساتھ ہمیشہ سے زندہ ہے اور زندہ رہے گا اور وہی ''القیوم‘‘ ہے یعنی ساری کائناتی قوتوں کو قائم رکھنے والا وہی ہے، وہی خالق ہے اور وہی قائم رکھے ہوئے ہے۔ آگے فرمایا! ''اس کے علم میں سے کسی شے کا وہ احاطہ نہیں کر سکتے مگر اسی قدر جس قدر وہ (اللہ) چاہے‘‘ جی ہاں! نوبیل انعام پا کر سائنسدان خوش ہوتے ہیں... کس بات پر؟ کہ انہوں نے کائنات میں موجود فلاں شے دریافت کر لی۔ جس طرح کسی بچّے کو کھیلتے ہوئے زمین کھودتے ہوئے سونے کی اشرفی مل جائے‘ گولڈ کی اینٹ مل جائے تو ماں باپ اسے شاباش دیتے ہوئے سخت گرمی میں آئس کریم کھلا دیں تو بچہ خوش ہو جاتا ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ بچہ سائنسدان نوبیل پرائز لے کر خوش ہو گیا ہے... لوگو! خالق کو نہ پہچانا تو کس کام کا ہے یہ پرائز۔ آخر کار سب انسانوں نے جانا تو مٹّی میں ہے۔
ایک ناداں انسان کسی انسان کی بنی ہوئی پتھر کی مورتی کی پوجا کرتا ہے، تو شرک کرتا ہے۔ ویسے پتھر کی مورتی کے جو ایٹم ہیں اور جو ایٹم کے چھوٹے ذرّات ہیں ان کو چار قوتوں نے ہی باہم باندھ کے رکھا ہوا ہے۔ لکڑی کی مورتی کا بھی یہی حال ہے اور انسانی جسم کے خلیات کی کیفیت بھی یہی ہے۔ اب جناب والا! کوئی پتھر کی پوجا کرے یا لکڑی کے درخت کی‘ خشک کی یا سبز کی‘ زندہ انسان کی یا فوت ہو جانے والے کی... وہ شرک کر رہا ہے۔ سائنسدان بھی تو یہی کر رہا ہے وہ اپنے عالمی میگزین کا نام ''نیچر‘‘ رکھتا ہے۔ کائنات کی چار قوتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ جس سائنسی حقیقت کا انکشاف کرتا ہے‘ کہتا ہے Thanks for so and so۔ وہ خالق کا شکر ادا نہیں کرتا کہ جس نے ان سب کو بنایا۔۔۔۔۔ پھر عام‘ نادان انسان اور سائنسدان کے عقیدے میں کیا فرق ہے؟ میرا سوال ہے کہ کائنات میں کارفرما بے شمار قوتوں اور موجودہ اَن دیکھی سائنسی قوت کا شکریہ ادا کرنے میں انسان کو کیا ذہنی سکون ملے گا؟ ذہنی سکون ملے گا تو سب کے خالق اللہ واحد کا شکر ادا کرنے سے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد کریمﷺ نے حضرت اسماءؓ بنت عمیس کو پریشانی میں جو دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی‘ ملاحظہ ہو! اَللہ اَللہُ رَبِّی لاَ اُشْرِکُ بِہ شَیْأً۔ (ابودائود:1525، صحیح) اللہ تعالیٰ ہی میری ضروریات کو پورا کرنے والا ہے‘ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا۔
یہ جو اَن دیکھی نئی سائنسی قوت سامنے آئی ہے‘ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ جدید ترین لیبارٹریوں میں جدید ترین مشینوں کے ذریعے اشیا پر جو اثرات دیکھے گئے، انہی اثرات کے پیش نظر اَن دیکھی سائنسی قوت کو ماننے یا اس کے وجود پر ایمان لانے کا اعلان کر دیا گیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ روح کو ماننے کا اعلان کیوں نہیں ہوتا؟ ماں کے پیٹ میں جب بچہ 42 دن کے بعد آگے بڑھتا ہے تو صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اس میں روح پھونک دی جاتی ہے‘ جدید مشینوں نے بتایا کہ تب انسانی دماغ سے لہریں نکلتی Detect کی گئی ہیں۔ اور جب انسان مرتا ہے تب ختم ہو جاتی ہیں۔ ہمارے حضورﷺ فرماتے ہیں کہ بندہ جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو فرشتے اس کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں اور پھر ''ملک الموت‘‘ آتا ہے تو اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور روح سے کہتا ہے کہ اسے پاکیزہ روح، پاکیزہ بدن سے نکل آ۔ شیخ البانیؒ نے مذکورہ حدیث کو صحیح کہا ہے۔ یعنی روح سر کے کسی مخرج سے نکلتی ہے۔ جی ہاں! سائنس کیوں نہیں اعتراف کرتی کہ حضور کریمﷺ نے جو فرمایا‘ ہماری سائنس اس فرمان کی اطاعت کا اعلان کر رہی ہے؛ لہٰذا ہم روح کو ماننے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہمیں نظر نہیں آتی مگر اس کو ماننا آج کی ایک سائنسی حقیقت ہے۔ یہی وہ قوت اور اَن دیکھی قوت ہے کہ جس کی وجہ سے ایک انسان سے ایک سو کھرب خلیات پر مشتمل جسم چلتا پھرتا ہے اور دماغ سوچتا ہے۔
ایک مسلمان مر کر جنت میں جاتا ہے‘ یہ ہے وہ عقیدہ جس سے معیاری زندگی ایک مقصد پاتی ہے۔ یہ وہ عقیدہ جس سے لواحقین کو صبر اور اطمینان ملتا ہے۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان رحمہ اللہ شہید ہوئے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔ وہ ایک عظیم باپ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان کے عظیم فرزند تھے۔ ان کے لواحقین، شاگردان اور محبت کرنے والے مطمئن ہیں کہ مولا کریم انہیں اپنے والد گرامی کے ساتھ جنت میں ملاقات کروائیں گے۔ ان شاء اللہ!
ہمارے انتہائی پیارے دوست محترم عبدالغفار عزیز چند دن قبل کینسر کے مرض سے فوت ہو گئے۔ وہ جماعت اسلامی کے امورِ خارجہ کے سربراہ تھے۔ انتہائی شائستہ طبیعت، اعلیٰ اخلاق... کینسر کی تکلیف میں بھی صبر کا پہاڑ تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ حضرت مولانا عبدالرحمن کیلانی مفسّرِ قرآن‘ فوت ہوئے تو بالکل تندرست تھے‘ نماز پڑھاتے ہوئے سجدے میں گئے تو اپنے اللہ سے جا ملے۔ حضرت حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری فوت ہوئے تو ان کی زبان پر آخری لفظ ''میرے رب‘‘ تھا۔ چند دن قبل محترم حاجی عبدالرزاق‘ سابق ایم پی اے فوت ہوئے تو وہ بھی تندرست تھے‘ سینے میں درد ہوا۔ ان کے صاحبزادے جمیل صاحب انہیں ہسپتال لے جانے لگے تو کہنے لگے: بیٹا! رہنے دو، مجھے لگ رہا ہے کہ اللہ کے پاس جانے کا ٹائم آ گیا ہے۔ اب وہ اپنے صوفے پر لیٹے اور اپنے اللہ کے پاس چلے گئے۔ چند دن قبل میرے ایک قریبی عزیز 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے‘ ہسپتال میں ان کی زبان پر ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ادا ہوا اور روح پرواز کر گئی۔ میرے دوست جناب افتخار صاحب کے والد محترم چوہدری محمد علی جو اپنے گائوں کے زمیندار تھے‘ نے اپنے ایک ملازم کی بیوی کے فوت ہونے پر نومولود کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ بکری خرید کر اس کے لیے وقف کر دی۔ اس بکری کے دودھ پر پلنے والا بچہ آج بھی چوہدری محمد علی کو دعائیں دیتا ہے۔ چوہدری محمد علی فوت ہوئے تو اپنے رب کو یاد کرتے کرتے سہولت کے ساتھ جان جانِ آفریں کے حوالے کر دی۔ قریب المرگ تجربات کی سائنس کہتی ہے کہ ایک خالق پر ایمان اور مخلوق کے ساتھ محبت کرنے والوں کی جان نرمی اور آسانی سے نکلتی ہے۔ اے اللہ! ہمیں توحید و رسالت کا عقیدہ اور مخلوق پر رحم کرنے کا کردار عطا فرما، آمین!
ایک ایسا بندہ بھی میرے علم میں ہے کہ وہ شادی شدہ، بیوی‘ بچوں والا ہو کر دوسروں کی عزتوں سے کھلواڑ کرتا تھا‘وہ مرنے لگا تو اس وقت ایسے کانپتا تھا اور جسم کو سکیڑتا تھا جیسے اسے کوئی مار رہا ہو‘ وہ مرا تو بدبو آنا شروع ہو گئی‘ اس شخص کا چہرہ بگڑ گیا... ایسے بہت سارے واقعات کہ جن کے ہم شاہد ہوتے ہیں، بتلاتے ہیں کہ جنت بھی ہے‘ جہنم بھی ہے۔ مرضی اپنی اپنی ہے!