چارلی چیپلن نے جب اپنی ہی نقل اُتاری ۔۔۔۔ معصومہ مبشر

لیجنڈ اداکار چارلی چیپلن کسی تعارف کے محتاج نہیں ،1977ء میں وہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن آج بھی انہیں اتنی ہی محبت اور پیار سے یاد کیا جاتا ہے ۔ بچے بوڑھے جوان سب انہیں چاہتے اور یاد کرتے ہیں۔ آج ہم آپ کوان کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں ہوا کچھ یوں تھا کہ چارلی ایک ایسے مقابلے میں چپکے سے شریک ہو گئے جس میں درجنوں لوگوں نے انکا روپ دھار رکھا تھا اس مقابلے کا نام'' چیپلنٹس‘‘ رکھا گیا جو سب سے بہتر چارلی چیپلن کی نقل ادا کرنے کا تھا،چنانچہ تمام لوگوںنے اپنے فن کے جوہر دکھانا شروع کردئیے جن میں چارلی بذات خود بھی شامل تھے آخر میں جب نتائج کا اعلان ہوا تو چارلی اپنے ہی کردار کو نبھانے کے معاملے میں تیسری پوزیشن حاصل کرسکے۔ یہ زندگی کی ایک بہت دلچسپ حقیقت ہے کہ ہم کسی کو اس کے فن کے عروج پر دیکھ کر اسے بادشاہ مان کر گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اگر اس مقابلے میں لوگوں کو علم ہوتا کہ چارلی ان کے درمیان بذات خود موجود ہیں تو شاید وہ ایسا پرفارم نہ کرپاتے، اور چارلی صرف اس زعم میں مبتلا نہ ہوتے کہ اپنے فن میں صرف وہی سب سے بہتر ہیں تو یقینا پہلی پوزیشن کسی اور کو ہرگز ملنے نہ دیتے۔ لہٰذا کامیابی کے لیے اس زعم اور وہم کو دل سے نکالنے کی کوشش کریں کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ آپ سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا، یا جو کوئی اور سب سے بہتر کر رہا ہے وہ آپ میں سے کوئی نہیں کر سکتا اپنی انفرادی کوشش ہر حال میں جاری رکھنی چاہیے اور خود کومزید بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کبھی ترک نہیں کرنی چاہیے۔