چڑی مار ۔۔۔۔ سدرہ سلیم

ایک چڑی مار نے چڑیا پکڑی جو تھی تو ننھی منی مگر بے حد چالاک تھی۔وہ چڑی مار سے کہنے لگی میاں چڑی مار! مجھے مار کے تم بھلا کیا پائو گے؟ننھی سی جان ہوں مجھ میں سے تو ایک بوٹی گوشت بھی نہیں نکلے گا۔
مجھے کھانے سے بھلا تمہارا پیٹ کہاں بھرے گا۔تم مجھے چھوڑ دو تو میں تمہیں دو،تین باتیں ایسی گُر کی بتائو ں گی کہ اگر مان لو تو بڑے آدمی بن جائوگے''۔چڑی مار تیار ہو گیا۔چڑیا نے کہا پہلی بات تو تمہارے ہاتھ پربیٹھ کے بتائوں گی،دوسری دیوار پر پہنچ کر اور تیسری اس وقت بتائوں گی جب پیڑ پر جا بیٹھوں گی۔چڑی مار نے اسے چھوڑ دیا تو چڑیا اڑ کر چڑی مار کے ہاتھ پر آ بیٹھی اور بولی''سنی ہوئی بات کا کبھی یقین نہ کرنا۔یہ کہہ کر چڑیا اڑی اور دیوار پر جا بیٹھی،دوسری بات یہ کہ جو چیز ہاتھ سے جاتی رہے اس کا غم نہ کرنا۔یہ کہہ رک چڑیا دیوار سے اڑی اور پیڑ پر جا بیٹھی۔تھوڑی دیر چوں چوں کیا اور پھر بولی''میاں! چڑی مار تیسری بات سنانے سے پہلے میں تمہیں ایک عجیب بات سناتی ہوں''۔میرے پیٹ میں ایک بڑا سا لعل ہے جسے تم پاتے تو مالا مال ہو جاتے۔یہ سن کر چڑی مار پچھتایا اور رونے لگا۔چڑیا نے اسے روتے دیکھا تو بولی ''ابھی تو میں نے کہا تھا کہ سنی ہوئی بات کا یقین مت کرنا۔میر ی چھوٹی سی چونچ ہے میں بڑا سا لعل کیسے نگل سکتی ہوں''؟دوسرا میں تمہارے ہاتھ تو آنے سے رہی''میں نے تمہیں بتایا تھا کہ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس کا غم نہ کرنا''۔چڑی مار کو چڑیا کی باتیں سن کر اپنی بھول پر شرم آئی اور بولا''مجھ سے غلطی ہو گئی اب تیسری بات بتائو''۔چڑیا بولی''تم نے میری پہلی دو باتوں پر کب عمل کیا جو تیسری بات بتا دوں۔ایسے نادان کو بات بتانے سے کیا فائدہ جو اس پر عمل نہ کرے''۔یہ کہہ کر چڑیا اُڑ گئی اور چڑی مار کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔