وقت بدلا نہ محبت کے ستارے بدلے
عشق کے کھیل میں کب اپنے خسارے بدلے
اس نے آنکھیں جو ذرا دیر کو پھیریں اپنی
رنگ سب روٹھ گئے اور نظارے بدلے
مدتوں بعد ملے ہو تو گماں ہوتا ہے
مشکل صورت نہیں، تم سارے کے سارے بدلے
ایک پل بھی نہ میسر ہوئی راحت ہم کو
ایک لمحہ نہ کبھی بخت ہمارے بدلے
موجِ دریا نے ذرا کوئی اُچھالا جو دیا
دیکھتے دیکھتے دریا کے کنارے بدلے
کون ہے، کس نے دکھائے ہیں سُہانے سپنے
چُن لیا کس کو بتائو یہ ہمارے بدلے
گردشِ وقت نے چھوڑا نہ کسی بھی صورت
ہم نے سو بار مگر سوچ کے دھارے بدلے
راستا یوں ہی نہیں چھوڑا جہاں والوں نے
زندگی ہار کے آیا ہوں تمہارے بدلے
اک ذرا گردشِ حالات نے کیا دستک دی
دیکھتے دیکھتے سب جان سے پیارے بدلے
پیش آئی جو زمانے کی ضرورت مجھ کو
میں نے آواز لگائی تھی کہ سارے بدلے
زندگی کس کے سہارے پہ گزاریں گے نبیلؔ
مہرباں بدلے، سبھی اپنے سہارے بدلے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل