غلطی ہی سکھاتی ہے ۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

انسان بہت سے معاملات سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ پورا ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جو لوگ ماحول پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اس کا پھل بھی پاتے ہیں مگر عام مشاہدہ ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں کی جانے والی غلطی ہمارے لیے سبق سے کم نہیں ہوتی۔ جس نے غلطی سے سبق سیکھنے کو ترجیح دی وہ کامیاب ہوا۔ جوزف ہالینن کی کتاب Errornomics کا موضوع یہی ہے کہ ہم غلطی کیوں کرتے ہیں اور اُس سے بہت حد تک کیسے بچا جاسکتا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ غلطی پر سرزنش کی جانی چاہیے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ غلطی کرنا علم و فن کی دنیا کا لازمی حصہ ہے۔ کسی بھی شعبے میں کچھ کرنے کی کوشش غلطی بھی کراتی ہے۔ یہ سب کچھ بالکل فطری ہے اور اِس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرلینا ہی دانش کی علامت ہے۔ کاروباری نظم و نسق کے ماہرین کہتے ہیں کہ جو لوگ غلطی نہیں کرتے وہ کچھ زیادہ سیکھ نہیں پاتے۔ اپنی ہر غلطی سے سیکھنے کی صورت ہی میں شخصیت کے پروان چڑھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے، علم کا دائرہ وسعت اختیار کرتا ہے، فن تقویت پاتا ہے اور ہم کچھ کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غلطی کرنے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کوشش بہرحال کی گئی ہے۔ غلطیاں اُنہی سے سرزد ہوتی ہیں جو کچھ کرتے یعنی تیاری کے ساتھ میدان میں آتے ہیں۔ جو لوگ شش و پنج کا شکار رہتے ہیں اور کچھ کرنے کا ذہن نہیں بنا پاتے وہ کچھ کرتے بھی نہیں اور جب وہ کچھ کرتے نہیں تو اُن سے غلطیاں بھی سرزد نہیں ہوتیں۔
غلطی سے سیکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اُس غلطی کا اعادہ نہ ہو۔ عمومی سطح پر لوگ یکساں نوعیت کی غلطیاں دہراتے رہتے ہیں۔ یہ شدید نقصان دہ رجحان ہے۔ یہ تو ایک ہی سوراخ سے خود کو بار بار ڈسواتے رہنے کا عمل ہوا۔ کسی بھی غلطی کا تجزیہ کرنے کی صورت میں اُس کے اعادے سے بچنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ کسی بھی معاملے میں غلطی کے سرزد ہونے کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ معاملات اچانک پلٹ جائیں اور آپ کے پاس بچ نکلنے کا کوئی راہ نہ بچے۔ اِسی طور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کسی اور حوالے سے امکان دیکھ کر ذہن بدلیں اور غلطی سرزد ہو۔ ایسی حالت میں آپ زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں نہ قصور وار۔ عام طور پر غلطی توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور یوں ذمہ دار ہم ہی ٹھہرتے ہیں۔ 30 فیصد لوگ پاس ورڈ بھول جاتے ہیں۔ ہمیں چہرے تو یاد رہتے ہیں، نام بھول جاتے ہیں۔ شوٹنگ اگر ترتیب سے نہ کی جائے تو ایڈیٹنگ ٹیبل پر غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔ پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں غلطی کا احتمال کم رہتا ہے۔ جو اپنے شعبے میں کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں‘ وہ توجہ سے کام کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں غلطی کم ہوتی ہے اور اس کے اثرات بھی محدود ہوتے ہیں۔ توجہ کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اگر اپنے کام سے کام رکھنے کی عادت پروان چڑھائی جائے تو رفتہ رفتہ غیر معمولی اور قابلِ رشک نوعیت کے انہماک کی راہ ہموار ہوتی جاتی ہے۔ پروفیشنل سطح پر خود کو منوانے کے شوقین انہماک کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
ہمیں بالعموم وہی باتیں یاد رہتی ہیں جن پر ہم معمول سے ہٹ کر متوجہ ہوتے ہیں۔ توجہ پانے پر ہر معاملہ اہمیت اختیار کرتا ہے اور اہم ٹھہرنے پر ذہن نشین بھی رہتا ہے۔ اگر ہم معاملات کا توجہ سے جائزہ لیں، اُن پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ایک ہی صورتحال میں الگ الگ رائے اور الگ الگ ردِعمل دکھائی دیتا ہے۔ ایسا صرف اس لیے ہے کہ لوگ جن معاملات پر متوجہ ہوتے ہیں اُن کے حوالے سے ردِعمل معیاری اور نمایاں ہوتا ہے۔ غلطی کو تسلیم کرنے اور اس سے کچھ سیکھنے کے معاملے میں غیر جانبداریت اور حقیقت پسندی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بیشتر معاملات میں غلطی کے لیے ہم دوسروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غلطی بالعموم ہماری اپنی کوتاہی یا عدم توجہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ہمارے لیے شخصی سطح پر ارتقا اور فروغ کی راہ مسدود کردیتا ہے۔ غلطی سے کچھ سیکھنے کی راہ بھی اُسی وقت ہموار ہوتی ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ غلطی ہم ہی سے سرزد ہوئی ہے۔ غلطی تسلیم کرنے سے ذہن کو راحت میسر ہوتی ہے۔ یہ راحت سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ دوسروں کی غلطی کا سب سے زیادہ فائدہ کاروباری طبقہ اٹھاتا ہے۔ بہت سوں کو مہنگی اشیا خریدنے کا شوق ہی نہیں‘ خبط بھی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دھوکا دینا، آنکھوں میں دھول جھونک کر لُوٹنا بہت آسان ہوتا ہے۔ کاروباری طبقہ ایسے لوگوں کو پرانی اشیا نئے نام سے بیچنے میں کامیاب رہتا ہے۔ خریداروں کو جب غلطی کا احساس ہوتا ہے تب تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے۔
بیشتر معاملات ہم سے سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سنجیدہ ہوئے بغیر ہم کامیابی کی راہ پر زیادہ آگے نہیں جاسکتے۔ غلطی کرنا بُری بات نہیں۔ اُس کا اعادہ ہمارے لیے مسائل بڑھاتا ہے۔ ایک ہی غلطی کیے جانے کی صورت میں ہماری کارکردگی ہی خراب نہیں ہوتی بلکہ ہماری ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ غلطی کے اعادے سے اعتماد کا گراف بھی گرتا ہے۔ خوب سوچ سمجھ کر، ٹھنڈے دماغ سے غور کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کی صورت میں ہم غلطی یا اس کے اعادے سے بچ سکتے ہیں۔ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے جو ہم سے توجہ کا طالب رہتا ہے۔ پروفیشنلزم کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کام پر پوری توجہ دیں تاکہ غلطی کا احتمال کم سے کم ہو اور غلطی کے اعادے کی گنجائش تو برائے نام بھی نہ ہو۔ ایسا اُسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم غلطی کی حقیقت کو سمجھیں۔ بیشتر غلطیاں اُس وقت ہوتی ہیں جب پہلی ہی نظر میں کوئی حتمی نوعیت کی رائے قائم کرلی جاتی ہے۔ ایسا کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں کوئی بھی رائے خوب سوچ سمجھ کر قائم کرنی چاہیے۔ ہر معاملہ ایک خاص حد تک توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ معاملات کو سنجیدہ نہ لینے کی روش انسان کو کبھی کبھی کسی خطرنک موڑ پر بھی پہنچادیتی ہے۔ کسی بھی معاملے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل خوب سوچ بچار کرنے سے غلطی کا امکان حوصلہ افزا حد تک گھٹ جاتا ہے۔
بیشتر غلطیاں حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ بعض اوقات اتنے پُراعتماد ہوتے ہیں کہ دوسروں کی رائے کو اہمیت دینے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے۔ اپنے وجود پر انہیں اس قدر اعتماد ہوتا ہے کہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ کوئی غلط قدم بھی اٹھ سکتا ہے۔ دانش کا تقاضا ہے کہ اپنے بارے میں کوئی بھی رائے خوب غور و خوض کے بعد قائم کی جائے۔ ہر انسان کو اپنی حدود کا اچھی طرح اندازہ ہونا چاہیے۔ ہم بالعموم شکست کا تجزیہ کرتے ہیں، کامیابی کا نہیں۔ کامیابی کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے تاکہ ہمیں اپنی محنت اور مشکلات کا درست اندازہ ہوسکے۔ اگر ابتدا ہی میں بڑی کامیابی مل جائے تو خود اعتمادی حد سے بڑھ جاتی ہے اور یہی کیفیت خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ کیریئر کی ابتدا میں ملنے والی بڑی کامیابی بسا اوقات انسان کو دھوکے میں رکھتی ہے اور ایسے مرحلے پر تنہا چھوڑتی ہے جب اُس کا دامن بھی خالی ہوچکا ہوتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی شعبے میں مثالی نوعیت کی کامیابی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی مشق کا بھی نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ بہت کچھ سیکھنا اور جھیلنا پڑتا ہے۔ کسی بھی انسان کو محنت کے بغیر کبھی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ کبھی کبھی حالات کی مہربانی سے اچانک غیر معمولی شہرت ضرور مل جاتی ہے مگر اِسے کسی بھی اعتبار سے کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو انسان اپنی لیاقت اور محنت کو بروئے کار لاتے ہوئے یقینی بنائے اور پھر اُسے برقرار رکھنے پر بھی متوجہ ہو۔