’’میں نے قید خانے کو روحانی مرکز میں بدل دیا تھا‘‘(Sophie Pétronin)۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک

۔ 75 سالہ فرانسیسی نو مسلم سماجی کارکن مریم کا قبول اسلام کے بعد بیان

’’فرانسیسی صدر کے تازہ خیالا ت کے پس پردہ وہ پریشانی ہے جو انہیں پچھلے دنوں ایک فرانسیسی خدمت گزار خاتون کے ہاتھوں اٹھانا پڑی ہے۔ ایک بڑی فرانسیسی این جی او کی رہنما صوفی پترونن نے 1381دن قید میں گزارنے کے بعد اسلام قبول کر لیاہے۔ ان پر ایک دن بھی تشدد نہیں کیا گیا۔ جب انہیں ملک مالی سے واپس لانے والاخصوصی طیارہ پیرس کے قریب فوجی ہوائی اڈے پر اتراتو صدر فرانس میخوان استقبال کیلئے پہلے سے موجود تھے۔وہ صوفی پترونن کو مریم کے روپ میں ، سکارف میں دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گئے ، ہکا بکا رہ گئے کہ ماڈرن فرانس کی نمائندہ عورت صوفی پترونن کا سر ڈھکا ہوا تھا۔ صوفی پترونن نے فرانسیسی صدر کی حیرت کو مٹاتے ہوئے کہا کہ ’میں ملک مالی کیلئے دعاگو ہوں، اللہ ان پر رحمتوں کی بارش کرے، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں اب مسلمان ہو چکی ہوں۔آپ مجھے صوفی کہہ رہے ہیں لیکن میں تو مریم ہوں‘۔ صدر میخوان کے پہلے بیان کے چند ہی دنوں بعد صوفی پترونن کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ ان کی رہائی سے اسلام کا اچھا چہرہ سامنے آیا۔ نو مسلم مریم نے کہا کہ ’میرے ساتھ احسن سلوک کیا گیا‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی پلاننگ تھی کہ اس نے اسلام کا صحیح چہرہ چند ہی دنوں میں مغرب کے سامنے رکھ دیا‘‘۔

’’ نومسلم مریم نے بتایا کہ ان کے ساتھ اچھا برتائو کیا گیا ، دوران قید انہیں معلوم ہوا کہ اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور ہے ، یہ اللہ کی پلاننگ ہے۔ کیونکہ بے شک اللہ ہی سب سے بڑا پلان بنا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن صدر میخوان کی آنکھیں بھی کھول دے گا۔ اسلام دنیا بھر میں کہیں بھی کا بحران کا شکار نہیں ہے بلکہ اسلام کے پاس دنیا بھر کے بحران کا حل ہے‘‘۔

صوفی پترونن کے مسلمان ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی اور اسی جمعہ کے روز صدرفرانس اور صوفی (نو مسلم مریم)کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی۔

نو مسلم مریم کی اللہ کریم سے دعائیں

نومسلم مریم نے کہا کہ ’’ میں نے بہت دعائیں کیں ،کیونکہ میرے پاس وقت ہی بہت زیادہ تھا، میں نے اپنے قید خانے کو روحانی تربیت کے مرکز میں بدل دیا تھا اگر کوئی سمجھ سکے تو!دوران قید مجھے ریڈیو سننے کی مکمل آزادی تھی۔ میرے گارڈ ز وڈیوز بھی شیئر کرتے رہتے تھے ،بیٹے کی جانب سے بھیجی گئی ویڈیوز بھی مجھے دکھائی گئی تھیں۔لیکن میں اپنے بچوں کو دیکھنے کیلئے واپس ملک مالی جانا چاہتی ہوں ۔ میں ہمیشہ انکے ساتھ رہوں گی۔یہ میران سے وعدہ ہے،میں چار سال سے بے خبر ہوں کہ میرا پروگرام کیسا چل رہا ہے۔اب میںسوئٹرزر لینڈ جانا چاہتی ہوں، پھر میری آخری منزل مالی میں رہنے والے بچے ہی ہوں گے‘‘۔

صوفی کے اغواء کی پہلی کوشش ناکام

نو مسلم مریم 2004ء سے گاؤ نامی شہر میں سوئس تنظیم کی مدد سے بچوں کی صحت کی بحالی میں مصروف تھیں۔وہ کمزور اور ناتواں ، خاص طور پر یتیم بچوں کیلئے خوراک مہیا کرنے کاکام کر رہی تھی۔وہاں کم خوراکی سے پیدا شدہ بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ وہ ڈاکٹر تو نہیں ہیں لیکن گندے پانی سے پھیلنے والی بیماری ’’گینیا وارم‘‘ کی روک تھام پر کافی کام کرنے کی وجہ سے اس مرض کی بھی ماہر ہو گئی ہیں۔شمالی مالی میں یہ بیماری بہت عام ہے۔ اسی لئے ان کے اغواء پر اسلامی ممالک نے بہت زیادہ اظہار افسوس کیا تھا۔

۔2012ء میں جب شمالی مالی پر انتہا پسندوں کے ’’ تائوریگ‘‘ نامی گروہ نے قبضہ کیا تو وہ بچوں کے ساتھ موجود تھیں،پہلے حملے میں دہشت گردوں نے الجزائر کے 7 سفارتکار اغواء کر لئے ۔ مریم نے الجزائر کے سفارت خانے میں پناہ لے لی ۔ قونصل جنرل نے انہیں خصوصی تحفظ دیا ۔ دسمبر 2016ء میں باغیوں نے سفارت خانے پر بھی دھاوا بول دیا ،لیکن صوفی (اب مریم ) عقبی دروازے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔وہ عربی لباس میں ملبوس تھیں، یہاں سے وہ الجیریا پہنچ گئیں۔صوفی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے صرف ایک ہی رات میں صحرا عبور کر لیا تھاورنہ عام طور پر اس سفر میں دو دن لگتے ہیں۔ہماری کار 130 کلو میٹر کی رفتار سے نان سٹاپ دوڑ رہی تھی۔

بچوں سے محبت میں اغواء ہو گئی!

الجزائر میں وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر رہ سکیں۔ ان کا دل یتیم بچوں کے لئے دھڑک رہا تھا، وہ ا پنا سب کچھ ملک مالی میں چھوڑآئی تھیں۔ بچوں کے بغیر ان کی پہلی رات بھی مایوس کن گزری۔ بچوں سے محبت انہیں دسمبر 2016ء میں واپس ملک مالی کھینچ لائی جہاں سے انہیں دن کے اجالے میں اغواء کر لیا گیا۔

رہائی کی کوششیں

اس کی رہائی کے لئے بیٹے نے مقدور بھر کوششیں کیں۔ پہلے بتایا گیا کہ باغی گروہ تاوان کے بدلے صوفی کو رہا کرنے پر آمادہ ہے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔بیٹے نے ثالث بھی درمیان میں ڈالے لیکن رہائی مل سکی ۔ کئی مرتبہ بات چیت آگے بڑھی، پھر اچانک رک گئی۔دیگر ممالک میں گرفتار قیدیوں کی رہائی کے بعد دنیا بھر میں صرف وہ ہی فرانسیسی قیدی باقی رہ گئی تھی۔ اسی لئے عالمی میڈیا بھی ان کی رہائی کی اپیلیں کرتا رہا۔ صدر مالی کو بھی رہائی کی کوششوں میں شامل کیا گیاتھا۔

جون 2018ء میں مایوس خاندان نے فرانسیسی صدر سے رہائی کی کوششیں کرنے کی درخواست کی جو بار آور ثابت ہوئی۔ رہائی سے پہلے کوئی مانگ کی گئی نہ ہی اہل خانہ سے رابطہ قائم کیا گیا، البتہ اہل خانہ کو مختلف ذرائع سے اپنی بیٹی کی خیریت کی خبریں ملتی رہیں۔ انہیں پتہ چلتا رہا کہ مغوی کے ساتھ احسن سلوک کیا جا رہا ہے اور وہ صحت مند ہے۔رہائی کے بعد انہیں فوجی طیارے میں 6 اکتوبر کو مالی کے دارالحکومت با ما کو پہنچا دیا گیاتھا۔

ماں کی رہائی کے وقت بیٹے کے تاثرات

6اکتوبر کو رہائی کی خبر پر مریم (سابقہ صوفی پیترونن) کابیٹا سیبس شیان شائوڈاڈ بہت فکر مند تھا، کہتا تھا کہ ’’رہائی کی باتیں سن کر کان پک چکے ہیں ،پتہ نہیں رہائی کی نئی باتوں میں کتنی سچائی ہے ۔ چار برس میں کتنی ہی مرتبہ رہائی کے دعوے جھوٹے نکلے۔تاہم رہائی کا یقین ہوتے ہی خصوصی پرواز سے باماکو پہنچ گیا‘‘۔

’’اغواء کے وقت نو مسلم مریم سرطان کے مرض میں مبتلا تھیں اسی لئے دل کی دھڑکن تیز تر تھی، مجھے ڈر تھا کہ میں ایک نحیف ونزار ماں کو لینے جا رہا ہوں،مجھے اندیشہ تھا کہ میرے سامنے ایک بیمار ماں ہو گی،بہت ہی ناتواں۔ شائد اپنے پیروں پر بھی کھڑی نہ ہوسکیں۔ماں تو ماں ہیں، میں انہیں لینے ضرور کاجائوں گا،انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوں‘‘۔

نو مسلم مریم ملک مالی دوبار ہ جائیں گی!

فرانسیسی خاتون مریم (صوفی پترونن )کا شمار دنیا کی بہترین سماجی خدمت گزاروں میں ہوتا ہے، کئی ممالک میں کام فلاحی کاموں کی تکمیل کے بعد انہوں نے ملک مالی کو اپنا مرکز بنایا، حالانکہ امدادی ورکرز شمالی مالی میں جاتے ہوئے گھبراتے تھے۔کیونکہ اپوزیشن لیڈر صومیلہ شسی کو بھی مارچ 2016میں انتخابی مہم کے دوران اغواء کر لیا گیا تھا لیکن مریم نے ہر صورت میں دوبارہ وہیں سماجی خدمات سر انجام دینے کی ٹھا ن لی ہے جہاں سے دہشت گردوں نے دسمبر 2016ء میں انہیں اغواء کر لیاتھا۔