بھیڑیا .... امین کنجاہی

قارین کرام اکثر آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ، اور پڑھا ہوگا، کہ لوگ بہادری کے حوالے سے اور طاقت کے حوالے سے اپنے بچوں کو اور اپنے چاہنے والوں کو شیر کے ساتھ مشابہت دیتے ہیں ، جو کہ عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ بات چلتی ہے ، کہ فلاں شخص بڑا ببر شیر ہے ، یا پھر میرا بیٹایا میرا بچہ شیر ہے ، اور شیر کو بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے ، آج آپ سے بات کرنی ہیں کہ بہت سے ممالک ایسے ہیں ، جنہوں نے اپنی بہادری کے اظہار کے لئے مختلف جانوروں کو علامت کے طور پر رکھا ہوا ہے ، پاکستان نے مارخور اپنا قومی نشان رکھا ہوا ہے ، اور سری لنکا نے شیر کو قومی علامت کے طور پر رکھا ہوا ہے ،،

مگر آج جس قوم کے حوالے سے آپ کے ساتھ میں معلومات شئیرکرنے جارہا ہوں ، وہ قوم ہے ، ترک قوم ،ترک قوم بھیڑیے کو اپنی بہادری کی علامت سمجھتی ہے ، اور اگر آپ نے ڈرامہ ارطغرل دیکھا ہے ، تو اُس میں بھی جو سفید بزرگ داڑھی والے کردار آپ کو نظر آئیں گے ، اُن کو بھی علامت کے طور پر بھیڑیے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے ، آج آپ کے ساتھ خاص طور پر بتانے کے لئے یہ مضمون لکھ رہا ہوں کہ ترک قوم بھیڑیے کو ہی اپنے قومی نشان کے طو رپر استعمال کرتی ہے ، کیونکہ ترک قوم کی علامت بھیڑیا ہے ، یا بھیڑیے کا نشان علامت کے طور پر ہے ، اِس کی اصل حقیقت آپ کے ساتھ اور خصائل آپ کے ساتھ میں شئیر کرنے جارہا ہوں ، اصل میں بھیڑیے میں کیا کیا خوبیاں ہیں ، سب سے پہلے کہ بھیڑیا اپنے والدین کا انتہائی وفا دار ہے ، یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ہے ، یہ ایک غیر ت مند جانور ہے ،

اِسی لئے ترک قوم اپنی اولاد کو شیر کی بجائے ،بھیڑیے سے زیادہ تشبیح دینا پسند کرتے ہیں ، بھیڑیا واحد ایسا جانور ہے کہ جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سودے بازی نہیں کرتا ، اور کبھی کسی کا غلام نہیں بنتا ، بلکہ جس دن پکڑا جاتا ہے ، اُس دن سے کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے ، اِس لئے اُس کو کبھی بھی آپ نے چڑیا گھروں میں بند یا قید نہیں دیکھا ہوگا ، آپ نے چیتے کو ، ہاتھی کو ، شیر کو ، اور تمام جانوروں کو چڑیا گھروں کے پنجروں میں قید دیکھا ہوگا ، مگر بھیڑیا کبھی آپ کو چڑیا گھر میں نظر نہیں آتا ، اور یہاں پر آپ کو ایک خاص بات بتاتا چلوں ، کہ بھیڑیا کبھی بھی مردار کھانا کھا نا پسند نہیں کرتا ، اور یہی جنگل کے بادشاہ کا بھی طریقہ ہے ، بھیڑیا باقی جانوروں سے بالکل مختلف ہے ، بھیڑیا اپنی شریک ِ حیات کا اتنا وفادارہوتا ہے ، کہ کسی اور مونث سے تعلق قائم نہیں کرتا ، اسی طرح مونث یعنی اُس کی شریک حیات بھیڑیے کے ساتھ اُسی طرح سے وفاداری بھی نبھاتی ہے ، بھیڑیااپنی اولاد کو بھی پہنچانتا ہے ، کیونکہ اُن کے ماں باپ بھی ایک ہی ہوتے ہیں ، جوڑے میں سے اگر ایک مرجائے ، تو دوسرا اُس جگہ پر تین ماہ مسلسل کھڑا رہتا ہے ، ماتم کے طور پر اور اُس کے جانے کا افسوس کرتا ہے ، بھیڑیے کو عربی زبان میں ابنالبار کہا جاتا ہے ، یعنی (نیک بیٹا)، کیونکہ جب اُس کے والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں ، تو یہ اُن کیلئے شکار کرتا ہے ، اور اُن کا پورا خیال بھی رکھتا ہے ، اسی لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑیے سے تشبیح دیتے ہیں ،

اُن کے خیال کے مطابق یہ بہتر ہے ،کہ شیر جیسا خونخار بننے سے بہتر ہے ، کہ بھیڑیے جیسا چالاک ہوشیار اور وفاداربنا جائے ، اور اِس سارے مضمون کا اور ساری معلومات دینے کا اصل مقصد یہ ہے ، کہ آپ کو آج کے دور میں نہایت افسوس سے یہ کہنا پڑھ رہا ہے ، اور لکھنا پڑھ رہا ہے ، کہ آج کا انسان امریکہ سے لے کر بھوٹان تک ، اور نیل کے ساحل سے لے کر،کاشگر تک، انتہائی تنزلی کا شکار ہوچکا ہے ، نہ اُس کو رشتوں کا کوئی خیال ہے ، نہ اُس کو انسانیت کے جو اصول اور قواعد بنائے گئے ہیں ، اُن کا احترام ہے ، میرے نزدیک آج کے دور کا انسان جوقوانین ، اور ضابطے اپنے لئے بناتا ہے ، وہ جنگل کے قوانین سے بھی بد تر ہیں ، جنگل کا قانون میرے آج کے معاشرے کے قانون سے بہت بہتر ہے ، مجھے یہ بات بڑے افسوس سے لکھنا پڑھ رہی ہے ، اور جو آج میں نے آپ کو بھیڑیے کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں ، مجھے اِن معلومات نے مزید اپنے اندرسے شرمندہ کردیا ہے ، کہ حضرت انسان کس مقام پر کھڑا ہے؟ اور ایک بھیڑیا جسے کہ ہم سب نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، وہ کتنا وفا دار ، مخلص اور ذہین ہے ، کہ وہ آج تک دنیا کے کسی چڑیا گھر میں کسی پنجرے میں قید نہیں رکھا جاسکا ، آئیے خدا کے لئے ہم لوگ ، اپنے آپ کو انسانیت کے اصل مقام پر لے جانے کی کوشش کریں ، اور دُنیا میں بے چینی ،بد امنی ، دہشت گردی ، اور لاثانی اور دینی فسادات پیدا کرنے سے پرہیز کریں ، کیونکہ یہ حضرت انسان کے شایانِ شان نہیں ہے ، اور میں اپنے تمام پڑھنے والوں سے یہ گزارش کروں گا ، کہ آئیے آپ سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور جہاں جہاں ہمیں اپنے کردار میں خامیاں اور کمزوریاں نظر آتیں ہیں ، اُنہیں ختم کرنے کی کوشش کریں ، بھلے اُس کے لئے ہمیں بھیڑیے ہی سی کیوں نہ سبق حاصل کرنا پڑے ۔
نوٹ : مصنف شاید اس بات سے لاعلم ہے کہ چڑیا گھروں بھیڑیے قید ہوتے ہیں یہ قید قبول نہیں کرتے انسان سے مانوس نہیں ہوتے۔ اور ہم نے ذاتی طور پر بھی رکھا ہوا تھا