علامہ محمد اقبال ؒ کا تصور شاہین ۔۔۔۔۔ رانا اعجاز

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا شمار ایسی عظیم اور عہد ساز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی لازوال شاعری اور دانشمندانہ اقوال کے ذریعے نہ صرف انسانیت کو اس کی حقیقت اور اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ خصوصی طور پر عالم اسلام کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگا کر بیدار کیا اور دنیا میں عزت و وقار سے جینے کا حوصلہ عطاء کیا۔ سیاست درحقیقت انکی زندگی کا ایک اہم اور روشن باب رہا جس کی بدولت انہوں نے قیام پاکستان سے 17 برس پیشتر ہی اپنی بصیرت سے مستقبل کے دھندلے نقوش میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا نقشہ ابھرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جنہوں نے اقبال میں ایک مخصوص قسم کی گوناگونی و رنگارنگی پیدا کی اور اقبال کو اس کے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعث کشش اور جاذب نظر بنا دیا، اس کا باعث اقبال کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے زیادہ مذہبی رجحان بنا اور یہی ان کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے، لیکن اقبال کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے بلکہ اقبال کا” یقین“ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل وفکر، اس کے ارادہ و تصرف، اس کی دوستی و دشمنی غرضیکہ ساری زندگی پرچھایا ہوا تھا۔ آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ تم دنیا کی امامت کے لئے پیدا کئے گئے ہو، اٹھو اور اپنا فرض ادا کرو۔

سبق پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

دور مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے اقبال کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں ، حالانکہ اقبال نے جلوہ دانش فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گزارے، اس کی وجہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ اقبال کی والہانہ محبت، جذبہ عشق اور روحانی وابستگی تھی۔ جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا اس اخیر شب میں اقبال کا اٹھنا اور اپنے ربّ کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا، پھر گڑگڑانا اور رونا، یہی وہ چیز تھی جواس کی روح کو ایک نئی نشاط اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اور ایک نئی فکرکی غذا عطا کرتی پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتے، جو انسانوں کو ایک نئی قوت ، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی کی راہ دکھاتا اور مسلمانوں کو ایک اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی اور ان سے محبت کرنے اور قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑ کر زندگی کو اس کے مطابق اپنانے کی ضرورت پر زور دیتا۔ آپ نے فرمایا:س

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

غرضیکہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گزاری، قرآن مجید پڑھتے، قرآن مجید سوچتے ، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا، اس سے انہیں ایک نیا یقین اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی۔ جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا، ان کے فکر میں بلندی اور ایمان میں پختگی ہوتی گئی، اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لدنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے۔ یہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اقبال کی محبت، شغف اور ان کا اخلاص انتہاء درجے کا تھا، ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رشد و ہدایت کے آخری مینار ہیں۔ آپ فرقہ واریت، ظلم و جبر، استحصال، بے انصافی، اقرباپروری، ذات پات اور جھوٹ و منافقت کے سخت خلاف تھے جبکہ آپ ہر انسان کو آزاد، خوشحال اور تحفظ میں دیکھنا چاہتے تھے۔

آپ نے مسلمانوں کو بیدار کر کے انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور رسالت مآب کی تعلیمات کو اپنانے پر زور دیا اور خود اس کی عملی تصویر بنے۔ اقبالؒ کا تصور شاہین محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ اس میں اسلامی فکر کی تمام صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ طالب علم کو شاہین کا نام دے کر اقبالؒ جہاں اس میں رفعت خیال، جذبہ عمل، وسعت نظری اور جرات رندانہ پیداکرنا چاہتے تھے وہیں جہان فکر وعمل میں جدت پیدا کر نے کی تلقین کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:س

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات