گلگت بلتستان انتخابات 2020

گلگت بلتستان (جی بی) کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 15 نومبر 2020 کو ہوں گے، جو کہ ـ"گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 " کے نفاذ کے بعد ہونے والے تیسرے انتخابات ہیں۔صدارتی آرڈر 2009ء کے تحت اس خطے کو نیم صوبائی حیثیت دے کر 12 نومبر 2009ء کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے انتخابات کروائے گئے تھے، جن میں پیپلزپارٹی کو واضح اکثریت ملی اورپارٹی کے صوبائی صدر سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہو ئے۔ اسمبلی کی 5سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد 8جون 2015ء کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے دوسرے انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ(ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کے دوسرے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔گزشتہ اسمبلی کی 5 سالہ میعاد 24 جون 2020 کو ختم ہو گئی تھی اور اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات 18 اگست کو ہونے تھے تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے تین ماہ کے لیے ملتوی کردئیے گئے تھے۔اگر جی بی اسمبلی کا جائزہ لیں تو گلگت بلتستان اسمبلی 33ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 24ارکان کا براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ خواتین کے لیے 6 اور ٹیکنوکریٹس کی 3 مخصوص نشستیں ہیں۔

23 حلقوں میں 326 امیدوارمیدان میں ہیں
حلقہ گلگت 3 وہ واحد حلقہ ہے جہاں پولنگ ملتوی کردی گئی ہے،وہاں انتخابات 22نومبر کو ہونگے

امیدواروں کی حتمی فہرست کے مطابق 23 حلقوں سے 326 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ ایک حلقہ جی بی اے- گلگت بلتستان انتخابات 2020میں حلقہ گلگت 3 وہ واحد حلقہ ہے جہاں پولنگ ملتوی کردی گئی ہے اور اب یہاں انتخابات نومبر 22کو ہونگے۔ امیدوار کے انتقال کے بعد تحریک انصاف کے لیے اس حلقے میں صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے۔اس حلقے میں تحریک انصاف کے امیدوار اور مقامی صدر جسٹس (ر) سید جعفر شاہ انتقال کرگئے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پہلے اس حلقے میں انتخابات ملتوی کردئیے اور پھر انتخابات کے لیے22 نومبر کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ سید جعفر حسین شاہ کے انتقال کے بعد اس علاقے کے مبصرین تحریک انصاف کی کامیابی کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سید جعفر حسین شاہ کی علاقائی مقبولیت کی وجہ سے سیاسی مبصرین اس حلقے میں تحریک انصاف کی کامیابی کو یقینی قرار دے رہے تھے اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں اکثریتی پارٹی ہونے کی صورت میں سید جعفر حسین شاہ کو مستقبل کا وزیراعلیٰ بھی دیکھ رہے تھے۔ تاہم سید جعفر حسین شاہ کے اچانک انتقال کی وجہ سے تحریک انصاف کو اس حلقے میں شدید دھچکا پہنچا ہے۔ان کے متبادل کے طور پر علاقائی نائب صدر اور سید جعفر حسین شاہ کے دست راست سمجھے جانے والے شیر غازی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند تھے تاہم پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر اقبال کو ٹکٹ دیدیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اقبال گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر صوبائی وزیرتعمیرات رہ چکے تھے اور گزشتہ ماہ ہی انھوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

تحریک انصاف کی قیادت کے اس فیصلے سے ناراض ہو کر علاقائی نائب صدر شیر غازی نے پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر اقبال کے مقابلے میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کے لیے کاغذات جمع کرادئے ہیں۔تحریک انصاف کے لیے صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب اچانک انتقال کرجانے والے تحریک انصاف کے امیدوارسید جعفر شاہ کے بیٹے سید سہیل عباس نے بھی پارٹی سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا اور ٹکٹ نہ ملنے پرآزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اگر تحریک انصاف شیر غازی اور سید سہیل عباس کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے راضی نہ کرسکی تو پارٹی کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہونے کا امکان ہے جس سے تحریک انصاف کی اس حلقے میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہوجائیں گے۔ ماضی میں اس حلقے سے ڈاکٹر اقبال مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ ڈاکٹر اقبال کے تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) نے ذولفقار علی کو ٹکٹ جاری کیا جو اپنا پہلا الیکشن لڑیں گے۔اسی طرح کی پیچیدہ صورتحال کا سامنا تحریک انصاف کو گلگت بلتستان حلقہ 5نگر میں بھی ہے۔ جی بی حلقہ 5 نگر سے پاکستان تحریک انصاف ضلع نگر کے صدر جاوید علی منوا پارٹی ٹکٹ پر انتخابی معرکے میں شرکت کے خواہشمند تھے۔ جب تحریک انصاف کی جانب سے انھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو انھوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے سیاسی اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی ضلع نگر کے جنرل سیکرٹری بھی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے تھے مگر پارٹی کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے احتجاجاً آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔گلگت بلتستان حلقہ 8اسکردو 2میں بھی ایسی ہی صورتحال مسلم لیگ (ن) کو درپیش ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس حلقے سے محمد سعید کو ٹکٹ جاری کیا ہے جو اس سے قبل مجلس وحدت مسلمین کے کارکن تھے اور ایم ڈبلیو ایم کے ٹکٹ کے خواہشمند تھے۔ تاہم ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے انھوں نے مسلم لیگ( ن) میں شمولیت اختیا رکی اور اب شیر کے نشان پر الیکشن لڑرہے ہیں۔
انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رہا اور جس کا سب سے زیادہ خمیازہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بھگتنا پڑا جس کے کئی اہم امیدوار اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر کے دوسری جماعتوں میں شامل ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن اسمبلی فدا محمد ناشاد ،ڈاکٹر محمد اقبال ،حاجی حیدر خان اور محمد ابراہیم ثنائی اس دفعہ پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں فدا محمد ناشادحلقہ جی بی09 سکردو 3 سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹر محمد اقبال جی بی03 گلگت 3 ، حاجی حیدر خان جی بی 17 دیامر3 اور محمد ابراہیم ثنائی جی بی 22 گانچھے 1 سے الیکشن جیتے تھے۔ ان امیدواروں کے جماعت تبدیل کرنے کی وجہ مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن ان حلقوں میں کمزور ہوگئی ہے۔ ان کے علاوہ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے بھی مسلم لیگ (ن) کے دو سابق رکن اسمبلی اس بار آزاد حیثیت سے انتخابات میں کھڑے ہیں جن میں جی بی 11 کھرمنگ سے اقبال حسن اور جی بی 20 غذر 2 سے فدا خان شامل ہیں۔
ان دنوں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے اور ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں بڑے زور و شور سے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد بھی قسمت آزمائی کے لیے میدان میں کود پڑی ہے۔ سب سے زیادہ امیدواروں کی تعداد حلقہ 5 نگر2 اور حلقہ 20 غذر 2 سے سامنے آئی ہے جہاں سے 26 ،26 امیدوار مد مقابل ہیں۔ اس کے علاوہ چار حلقے ایسے ہیں جہاں امیدواروں کی تعداد 20 یا اس سے زائد ہے۔اسی طرح کم سے کم امیدواروں کے حوالے سے گلگت بلتستان حلقہ 12شگراور اسکردو کے حلقہ 9ایسے حلقے ہیں جہاں سے سیاسی جماعتوں کے 4امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حلقوں میں کوئی آزاد امیدوار حصہ نہیں لے رہا ہے۔بڑی سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان میں اتارے ہیں اور کسی بھی حلقے کو خالی نہیں چھوڑا۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو حلقوں جی بی 05 نگر2 اور جی بی 08 سکردو 2 اور گلگت بلتستان حلقہ 12شگرمیں مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے ۔

دو حلقوں میں تحریک انصاف نے ایم ڈبلیو ایم کے حق میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے جبکہ ایک حلقے میں ایم ڈبلیو ایم نے تحریک انصاف کی حمایت میں اپنا امیدوار دستبردار کرا لیا۔ یوں کل 22 امیدوار (بشمول حلقہ 03) میدان میں اتارے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی دو حلقوں میں موزوں امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے 22 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ان حلقوں میں مذہبی اثر رسوخ زیادہ ہونے کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذہبی مکتبہ فکر کے افراد کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔ 2015کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار جعفر اللہ خان کو اہل سنت کے امیر مولانا قاضی نثار احمد کی سپورٹ حاصل تھی جبکہ اہل تشیع کی جانب سے خطیب علامہ آغا راحت حسین الحسینی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد ایڈوکیٹ کی حمایت کی تھی۔
اس خطے کا جائزہ لیا جائے تو دلچسپ اعدادوشمار سامنے آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی کل آبادی 22 لاکھ سے زائد ہے جبکہ کل رقبہ 72ہزار 496مربع کلومیٹر ہے۔ گلگت بلتستان 10 اضلاع پر مشتمل ہے جن میں گلگت، نگر، ہنزہ، سکردو، کھرمنگ، شگر، استور، دیامر، غذر اور گانچھے شامل ہیں۔ بیشتر اضلاع میں شینا زبان بولی جاتی ہے تاہم بروشسکی، بلتی، وخی اور کھووار بھی اس علاقے کی اہم زبانیں ہیں۔الیکٹورل رول 2020 کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار 361 ہے جن میں سے 4لاکھ 5 ہزار 363 مرد جبکہ 3 لاکھ 39 ہزار 998 خواتین ووٹرز ہیں۔رجسٹرڈ ووٹرز کے لحاظ سے ہنزہ سب سے بڑا حلقہ ہے جس میں ووٹرز کی تعداد 43 ہزار 603 ہے جبکہ 14 ہزار1 ووٹرز کے ساتھ نگر2 جی بی کا سب سے چھوٹا حلقہ ہے۔گلگت بلتستان پاکستان کاوہ واحد خطہ جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں خواندگی کی شرح 85فیصد سے زائد ہے اور خواتین میں خواندگی کی شرح 70فیصد سے زائد ہے۔
گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والے انتخابات خصوصی طور پر مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ۔یہاں کی آبادی کا روزگار کاشتکاری، تجارت اور سیاحت سے وابستہ ہے۔ یہاں کا ہر ضلع الگ خصوصیات کا حامل ہونے کی وجہ سے علیحدہ پہچان رکھتا ہے۔ ان میں ضلع گلگت چار جھیلوں (نلتر، بوریتھ،رش،پہوتے) اور دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ دستاغل سرے کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع نگررائل پیلس،نگرِ خاص،وادی مناپن،وادی سمایر، رش لیک اور راکا پوشی زیرو پوائنٹ کی وجہ سے معروف ہے۔قدرتی حسن سیمالا مال اور سیاحوں کی اولین ترجیح ضلع ہنزہ بلتت فورٹ، التیت فورٹ، گنش گاؤں، پاسو کانز، بٹورا گلیشئر، کیفے دی ہنزہ اور پتھروں پر قدیم نقش گاری کی وجہ سے معروف ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع سکردو چار جھیلوں (سد پارہ،شیوسر،شنگریلا،اپر کچورہ) اور دیو سائی نیشنل پارک کی وجہ سے معروف ہے ، جبکہ دنیا کا بلند ترین سرد صحرا سرفرنگہ بھی ضلع سکردہ میں واقع ہے جس کے باعث یہ ضلع بین القوامی سیاحوں کی اولین ترجیح سمجھا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع کھرمنگ قدرتی حسن سے مالا مال ہے جہاں وادی مہدی آباد، منٹھوکا آبشار، خموش آبشار سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتے ہیں۔

ضلع شکر میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی گاڈون آسٹن (کے ٹو) موجود ہے جسے ہر سال ملکی و غیر ملکی سیاح سر کرنے کیلئے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شگر میں موجود فونگ کھر قلعہ بھی گلگت بلتستان کی مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔ضلع گلگت چار جھیلوں (نلتر، بوریتھ،رش،پہوتے) اور دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ دستاغل سرے کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع نگررائل پیلس،نگرِ خاص،وادی مناپن،وادی سمایر، رش لیک اور راکا پوشی زیرو پوائنٹ کی وجہ سے معروف ہے۔قدرتی حسن سیمالا مال اور سیاحوں کی اولین ترجیح ضلع ہنزہ بلتت فورٹ، التیت فورٹ، گنش گاؤں، پاسو کانز، بٹورا گلیشئر، کیفے دی ہنزہ اور پتھروں پر قدیم نقش گاری کی وجہ سے معروف ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع سکردو چار جھیلوں (سد پارہ،شیوسر،شنگریلا،اپر کچورہ) اور دیو سائی نیشنل پارک کی وجہ سے معروف ہے ، جبکہ دنیا کا بلند ترین سرد صحرا سرفرنگہ بھی ضلع سکردہ میں واقع ہے جس کے باعث یہ ضلع بین القوامی سیاحوں کی اولین ترجیح سمجھا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کا ضلع کھرمنگ قدرتی حسن سے مالا مال ہے ۔ضلع شکر میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی گاڈون آسٹن (کے ٹو) موجود ہے جسے ہر سال ملکی و غیر ملکی سیاح سر کرنے کیلئے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شگر میں موجود فونگ کھر قلعہ بھی گلگت بلتستان کی مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔