شاہی محل کا’’ننھا چور‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صہیب مرغوب

ملکہ وکٹوریہ (24مئی 1819ء تا 22 جنوری 1901 ء )کی شخصیت بہت پرکشش تھی، ان کے چہرے سے معصومیت ٹپکتی تھی ، وہ ایک سیلبرٹی تھیں، لوگ انہیں روزانہ ہی ہزاروں خطوط لکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی تو شادی کے خطوط گلدستوں کے ساتھ محل کی دیواروں کے آس پاس پڑے دکھائی دیتے ۔ایک 14سالہ لڑکا بھی ملکہ سے شادی کا خواہش مند تھا، سکیورٹی کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے 1838ء سے 1841ء تک متعدد بار بکنگھم پیلس میں گھسنے میں کامیاب ہوا۔بعد ازاں وہ بچوں کی کہانیوں کا سب سے اہم موضوع بن گیا۔اس پر ڈرامے بھی لکھے گئے اور ایک فلم بھی بنی۔جبکہ برطانوی تاریخ دان ڈاکٹر بانڈے سن (Dr. Bondeson) نے اسی لڑکے پر تحقیق میں پانچ سال گزار دیئے۔یہ لڑکا برطانیہ میں ''بوائے جونز ‘‘ کے نام سے مشہور یا بدنام ہوا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ایڈورڈ جونز (1893ء تا26 دسمبر1824 ء ) کسی طریقے سے محل میں داخل ہو گیا، مزے سے راہداریوں ، کمروں اور بیڈرومز کا جائزہ لیا، اپنی پسند کی چند اشیاء اٹھالیں۔ لڑکے نے پولیس کو بتایاکہ اس نے ملکہ سے ملنے کی امنگ دل میں لئے ایک سال محل کی چمنی میں گزار دیا، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔وہ ساراسارا دن چمنی میں چھپا رہتا ،جونہی رات پڑتی ، چمنی سے نیچے آجاتا ۔ بادشاہ ،ملکہ اور شہزادے اپنے اپنے کمروں میں محو خواب ہوتے، پولیس دروازے پر الرٹ کھڑی ہوتی ، لیکن وہ تو براستہ چمنی محل کے اندر تھا ۔ وہ پکڑے جانے والے دن نہیں، بلکہ ایک سال پہلے محل کے اندر داخل ہوا تھا ۔ دو چار دفعہ کسی کی نظر پڑی تھی ، لیکن وہ اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ کچھ لوگوں نے ایک دو بار اس کا پیچھا بھی کیا ، لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی بچہ چمنی میں چھپا ہوا ہے ۔
را ت کو محل کے اندر آجاتا ،کبھی کبھار ڈائننگ ٹیبل کے نیچے چھپ جاتا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ وہ میز کے نیچے بیٹھا تھا، اور اوپر ملکہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ڈنر نوش فرما رہی تھی ۔ ان موقعوں پر اسے ملکہ اور اہم ارکان کابینہ کی گفتگو سننے کا بھی موقع ملا۔میز کے اوپر کابینہ اور نیچے وہ چھپا ہوتا ۔ اوپر قومی سلامتی کے منصوبے بن رہے ہوتے تھے اور نیچے جونز قومی سلامتی کے تمام منصوبے پامال کرتے ہوئے سب باتیں سن رہا ہوتا۔ ان اجلاسوں کی تفصیلات اسے دیر تک ازبر رہیں۔ کبھی کبھی تو اسے ذاتی باتیں سننے کا موقع بھی مل گیا۔
وہ جب خود کو بہت زیادہ گندامحسوس کرتا تو کبھی کبھار کچن میں گھس جاتا ، رات کی تاریکی میں وہ کچن کے نلکے سے اپنا چہرہ آہستہ آہستہ صاف کرتا ۔ تھوڑا بہت گند اتر جاتا تھا، کبھی کبھی وہ قمیض بھی دھو لیا کرتا تھا۔ تاہم سال بھر میں پینٹ دھونے کی ضرورت محسو س نہ کی، اسی لئے دیکھتے ہی کراہت آ رہی تھی۔ وہ کہتا تھا کہ اسے ملکہ وکٹوریہ سے محبت تھی ۔ اور ان کے بغیر زندہ رہنا محال ہے۔
بکنگھم پیلس سکیورٹی سست اور بے ڈھنگی تھی۔شاہی باڈی گارڈز میں ''اے ڈویژن ‘‘ کے جوان شامل ہوتے تھے،وہ اکثر ڈیوٹی سے غائب رہتے جبھی تو جونز اور دوسروں کو محل میں داخل ہونے کا موقع مل جاتا تھا ۔ ملکہ کی حفاظت کا فریضہ اور محل کو چلانے کی ذمہ داری نا اہلوں کے سپرد تھی، اس کام کے لیے کئی ڈویژن اور دفاتر قائم کیے گئے۔ صرف کھڑکیوں کی صفائی کیلئے دو ادارے بنائے گئے تھے ،ان کا کام کھڑکیوں کی اندرونی و بیرونی صفائی کا خیال رکھناتھا۔ ایک دفعہ ملکہ نے کچھ جلانے کیلئے ''آگ‘‘ مانگی تو عملہ دائیں بائیں بھاگتا رہا۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ ملکہ کو یہ چیز کیسے مہیا کی جائے۔
محل کی دیواریں بھی اونچی نہ تھیں ، درختوں کے سہارے کوئی بھی اندر گھس سکتاتھا۔ محل کے اندرونی باغ کی دیوار نشیئوں کے لئے مخصوص تھیں، بے شمار نے وہپیوں نے ڈیرے دال رکھے تھے۔ کچھ فوجی سپاہیوں نے بھی اس دیوارکو اپنا بیڈ روم سمجھ رکھا تھا۔جونز کو 19دسمبر کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا ،اس کے چہرے پر پریشانی کی جھلک تک نہ تھی۔ کمرہ صحافیوں سے کھچا کھچ بھرا تھا ، کئی لوگوں نے جونز کو بطور ملزم شناخت کر لیا ۔ مجسٹریٹ کو لگا کہ وہ کوئی جاسوس ہے۔
''تم جاسوس ہو یا چور ‘‘مجسٹریٹ نے پہلا سوال داغا۔
'' نہیں سر!میں جاسوس ہوں نہ چور‘‘۔وہ بولا۔
''کچھ بھی نہیں ‘‘؟مجسٹریٹ نے حیرانی کے عالم میں الفاظ دہرائے۔ ''جھوٹ بولو گے تو جیل بھجوا دوں گا، یہ میرا تم سے وعدہ ہے‘‘۔
جونز مسکرایا، '' کیا میرے دل کو بھی جیل بھیج دیں گے‘‘۔ لڑکے نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔''کیا میرے دل کو بھی قید کی سزا ملے گی ۔ اوہ، بہت خوب‘‘: جونز سکھی اور مطمئن تھا۔ مقدمہ کئی ہفتے چلا، ہر سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوتا۔ لوگ اس ننھے عاشق کی کہانی سننے کے لیے ہر بار عدالت میں امڈ آتے ۔ کبھی کبھی تو ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس کی مدد لینا پڑتی، بعض لوگوں کے نزدیک وہ شاطر بچہ تھا۔ اسے جیل بھیجنے کی بجائے حکومت اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے ، ایک سال چمنی میں چھپے رہنا عام بات نہ تھی۔شام کو پورے محل میں گردش کرنا کسی بے وقوف بچہ کے بس میں تو نہیں تھا۔غیر معمولی صلاحیت کا حامل لڑکا ہی ایسا کر سکتا تھا۔
کافی سوچ بچار کے بعد جج نے وارننگ دے کر جونز کو رہا کردیا۔3نومبر 1840ء کو ملکہ کے درباری کو صوفے کے نیچے حرکت محسوس ہوئی،جھک کر نیچے دیکھا تو جونز پھر موجود تھا۔جونز دوبارہ گرفتار ہوگیا ۔ایک مرتبہ پھر وہ سلاخوں کے پیچھے تھا ، 3ماہ کی جیل اس کا مقدر بنی۔ تیسری مرتبہ 15مارچ 1841ء کو وہ پھر شاہی محل میں گھس آیا۔ عدالت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس ایک ننھے عاشق کے ساتھ کیا کرے ۔عدالت سوچ رہی تھی کہ جرم تو جرم ہوتا ہے ،مذاق نہیں ہوتا۔سزا تو ملنا چاہئے، لیکن اگر کوئی محبت سے مغلوب ہو کرجرم کرے تو عدالت کیا کرے ؟، عدالت کس شق کے تحت اسے سزا سنائے؟یہ سوالات بار بار عدالت میں اٹھائے جاتے رہے۔ ہر سماعت پر جج صاحب یہی سوچتے رہے، کبھی سر کھجاتے ، کبھی جونز کی طرف دیکھتے ، پھر قانون کی کتابوں میں کھو جاتے ۔ وہ اسے زندگی بھر تو برطانیہ کی جیل میں رکھنے سے قاصر تھے۔ ایک مرتبہ پھر 3مہینوں کی سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا۔پہلی سزا نرم سزا تھی، اس بار قید بامشقت تھی۔
ٹوتھ فیلڈز جیل‘‘ سے 2 مارچ1841ء کو رہائی کے بعد نیوی جوائن کرنے کی پیش کش ہوئی۔ ملکہ وکٹوریہ اور اس کا محل اسی طرح نجات پا سکتا تھا۔ وہ گہرے پانیوں میں محو سفر رہ کر شاہی محل کو بھول جائے۔مگر جونز نے سادگی سے نوکری کی پیش کش ٹھکرا دی۔ وہ بہت صاحب کردار تھا۔ پاگل یا خبطی نہ تھا ، بس اکھڑ تھا اور موڈ کا پکا تھا۔ حکومت نے جونز کو سمندری سفر پرزبردستی برازیل بھجوا دیا۔ جہاں وہ سمندری جہازوں پر 6سال قید رہا۔ دوران قید اسے نشے کی لت لگ گئی۔ چوری چکاری بھی کرنے لگا۔
وہ شاہی محل کو کیسے بھول سکتا تھا ،چنانچہ برطانیہ واپس پہنچ گیا لیکن دھر لیا گیا۔ اس مرتبہ حکومت نے اسے آسٹریلیا ملک بدر کر دیا۔ آسٹریلیا میں چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کر کچھ گزارہ کیا ،لیکن اس کی منزل لندن تھی ۔ وہ کسی طریقے سے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ۔ مگر حکومت نے اسے ایک بار پھر آسٹریلیا بھجوا دیا ،جہاں وہ پرتھ میں محنت مزدوری کرتا رہا۔پیٹھ پر سامان لادکر منزل مقصود تک پہنچا دیتا ، اس کڑی مشقت کے بعد کچھ پیسے مل جاتے ،کھانے پینے کے علاوہ وہ لندن جانے کے لئے ٹکٹ کے پیسے جمع کر تا رپا۔اس نے آسٹریلیا سے فرار کی کوشش کی۔لیکن ناکام رہا۔وہیں اس نے اپنا نام تھامس جیمز رکھ لیا۔1893ء میں آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے دن دریائے مچل کے گہرے پانیوں میں ایک آدمی کی لاش ملی۔ یہ لاش تھامس جونزکی تھی۔ وہ سمندر کے کنارے پر بیٹھا نشے میں غرق تھا،اسی حالت میں گہرے پانیوں میں گر گیا ۔ یہ اس کا آخری دن تھا۔