اسلام میں خواتین کے حقوق ۔۔۔۔۔ مولانا محمد یونس پالنپوری

اسلام نے عورت کو رحمت و سکینت کا مظہر ٹھہرایا

تاریخ انسانی میں محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی ﷺکی ذات اقدس ہی وہ واحد ذات ہے جس نے اپنی تعلیمات اور احکام کے ذریعے صنف نازک کو ذلت و نکبت کے عمیق غار سے نکال کر عزت و عظمت کے بلند مقام پر پہنچایا اور انسانی معاشرے میں عورت کو وقار و احترام کا وہ درجہ عطا کیا جو فطرت اور انسانیت کا متقاضی تھا
اسلا م سے پہلے عورت کی تاریخ مظلومیت و محکومیت پر مشتمل تھی۔ عورت کو ساری قوموں اور ملتوں میں کمتر اور فرو تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اس کانہ کوئی مستقل مقام تھا اور نہ اس کو کوئی زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار تھا۔ دین اسلام ان کے لئے باران رحمت بن کر آیا اور اس نے عورت کی محکومیت و مظلومیت کے خلاف اس قدر زور سے صدائے احتجاج بلند کی کہ ساری دنیا لرز اُٹھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے ،

ترجمہ: ’’اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پید ا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں‘‘۔ (النساء،۱)

دوسری جگہ ارشاد ہے

ترجمہ: ’’ان عورتوں کے ساتھ حسن و خوبی سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو نا پسند ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں کوئی بڑی بھلائی رکھ دے ‘‘۔ (النساء،۱۹)

اسلام نے اسے دامن عافیت کے سائے میں جگہ دی۔ ناموس نسواں کی قدر و قیمت کو اجاگر کیا۔ بدکاری و بے حیائی اور بے آبروئی کے جتنے سر چشمے تھے ایک ایک کرکے سب کو بند کیا اور اس طرح انسانی تہذیب و تمدن کی ترقی اور استحکام کے لئے ایک ایسی پائدار، مضبوط اور ٹھوس بنیاد قائم کر دی جس کے بغیر ایک صالح معاشرے کا وجود نا ممکن ہے۔ اب اسے میراث و جائیداد میں شریک کیا جانے لگا۔ وہ معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی بلکہ اسے ایمان کی تکمیل قرار دیا جانے لگا۔ قرآن مجید نے عورتوں کو مردوں کا اور مردوں کو عورتوں کا لباس قرار دیا ’’وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے ‘‘ (البقرہ ۱۸۷) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح لباس پہن کر سردی گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتا ہے اور زیب و زینت اختیار کرتا ہے اسی طرح مرد ہر قسم کی برائیوں اور بے حیائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ عورت مرد کی رفیق حیات بھی ہے اور دل و دماغ کے لئے راحت وسکون کا ذریعہ بھی۔ اس کے وجود کے بغیر شوہر کی زندگی بے کار اور بے سرور ہے۔ وہی مرد کی ویران زندگی میں خوشیاں بکھیرتی ہے اور اس کے گلستان حیات کو انواع و اقسام کے حسین و خوبصورت پھولوں سے لالہ زار بناتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

ترجمہ: ’’اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم میں سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے راحت و سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی۔ بلا شبہ اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں ‘‘۔ (الروم ۲۱)

بہت سے معاشروں میں عورتوں کو خلع کا حق حاصل نہیں تھا۔ اسلام نے عورتوں کو خلع کا حق دیا۔ ان معاشروں میں شوہر کی وفات کے بعد بیوہ شادی نہیں کر سکتی تھی اور پوری زندگی سوگ اور رنج و ملال کی حالت میں گزار دیتی تھی۔ مطلقہ عورت کا دوسری مرتبہ عقد نکاح سے منسلک ہونا سخت عیب سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام نے ان سب باطل افکار و خیالات پر کاری ضرب لگائی اور کہا کہ موت و حیات کی مالک اللہ کی ذات ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے مارتا ہے اور جس کو چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے شوہر کی وفات سے عورت ہمیشہ کے لئے مسرت و شادمانی سے محروم نہیں ہو جاتی بلکہ وہ بھی مخصوص ایام عدت گزارنے کے بعد ازدواجی تعلقات قائم کر سکتی ہے اور کسی مرد کے گلشن حیات کی خوشبودار کلی بن سکتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور اپنے میں سے بیوہ عورتوں کا نکاح کرو‘‘۔(النور ۳۲)

اسلام نے اس کو معاشی تمدنی اور تعلیمی حقوق دیئے۔ اس نے مردو زن کے درمیان فرق وامتیاز کو ختم کیا اور معیار بزرگی تقویٰ اور خشیت الٰہی کو قرار دیا۔ اسلام میں دوسرے مذاہب کی طرح بزرگی اور کمتری کا معیار جنس کو قرار نہیں دیا بلکہ یہاں عزت و شرافت اور بڑائی کا معیار ایمان و اعمال کی درستگی، فکرکی سلامتی، خدا ترسی، خوش اخلاقی، خلوص اور حسن سیرت ہے۔ جو آدمی خواہ وہ مرد ہو یا عورت جتنا زیادہ وہ خدا ترس اور خدا شناس ہو گا، احکام الٰہی پر عمل پیرا ہوگا اور سنت کے مطابق زندگی گزارے گا وہ اللہ کے یہاں اتنا ہی زیادہ معزز و محترم اور برگزیدہ سمجھا جائے گا۔ چنانچہ اسلام کے اس اساسی دستور کو یوں واضح کیا گیا ہے

ترجمہ: ’’اللہ کے یہاں تم میں سے بزرگ ترین شخص وہ ہے جوتم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہے‘‘ (الحجرات ۱۳) صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو مساوی قرار دیا ہے اور بتایا کہ ایک عورت اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور تقرب کو انہی شرائط کی پابندی کرکے حاصل کر سکتی ہے جو مردوں کے لئے مقرر ہے۔ مرد کو اگر اچھے اعمال کی بدولت جنت ملے گی تو عورت بھی اپنی نیکیوں کے بدلے جنت کی مستحق ہوگی۔

اسلام نے زندگی کی تعمیر وترقی کا جو تصور پیش کیا ہے اس کا تعلق طاعات وعبادات سے ہو یا باہمی معاملات اور لین دین سے ہو۔ خاندانی انتظام و انصرام سے ہو یا معاشرتی آداب و اقدار سے ہو۔ اس نے ہر شعبہ زندگی میں عورت کا صحیح منصب و مقام متعین کیا اور اسکا ذکر خیر و مدح کے ساتھ کیا اور اسے معاشرے اور سوسائٹی کے لئے موجب ننگ و عار نہیں سمجھا بلکہ اس کے لئے لازمی جزو قرار دیا۔اسلام نے عورت کو رحمت و سکینت کا مظہر ٹھہرایا۔ محسنِ انسانیت ﷺنے عورتوں کے متعلق مردوں کو دلوں میں نفرت و کدورت نہ رکھنے اور پیار و محبت اور شفقت و ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے کی متعدد حدیثوں میں نصیحت فرمائی ہے۔ درج ذیل چند حدیثوں میں اسی کا ذکر ہے ۔حضوررحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا،

’’تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور اپنی بیوی کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آتا ہو‘‘۔ (ترمذی)

’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہترین ثابت ہو اور خود میں اپنے اہل وعیال کے لئے تم میں سب سے بہتر ہوں‘‘۔ (مشکوٰۃ)

’’نیک اور دیندار بیوی دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ دنیا کی نعمتوں میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہترین نہیں‘‘۔ (ابن ماجہ)

’’دنیا کی نعمتوں میں بہترین نعمت نیک بیوی ہے ‘‘۔ (نسائی)