ٹوٹکے
تھکی ہوئی آنکھوں کو آرام پہنچانے کے لیے
کمپیوٹر پر بہت دیر تک کام کرتے رہنے یا نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں آنکھیں تھک جاتی ہیں،اور ان کی تھکاوٹ آنکھوں کے گرد حلقوں اور سیال مادوں سے بھری تھیلیوں کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ان تھکی ہاری آنکھوں کا تازہ دم کرنے میں ٹی بیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جنہیں آپ عموماً استعمال کے بعد پھینک دیتی ہیں۔ سیاہ چائے میں ایک مرکبTannis پایا جاتا ہے جو آنکھوں کے نیچے کے حلقوں اور تھیلیوں کو پھیلا کر نازک جلد کو تنائو بخشتا ہے۔چائے پینے کے بعد آپ ٹی بیگز کو ریفریجریٹر میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں اور پھر ان گیلی تھیلیوں کو بند آنکھوں پر دس منٹ پڑا رہنے دیں۔آنکھوں کے نیچے سے حلقے اور تھیلیاں دور ہو جائیں گی۔
منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے
دوسروں کو اذیت میں ڈالنے اور خود کو شرمندہ کر دینے والی اس شکایت کو رفع کرنے کے لیے لیموں کا تھوڑا سا عرق ایک پیالی میں نچوڑ لیں اور اس سے غرارے کریں۔لیموں کے جوس میں شامل تیزابی مادے منہ میں موجود ان جرثوموں کا خاتمہ دیں گے جو اس بد بو کا سبب ہیں۔غرارے کے بعد آپ بغیر مٹھاس والا سادہ دہی کھا لیں جس میں صحت کے لیے مفید lactobacillus جرثومے ہوتے ہیں۔انہیں پرو بایو ٹکس بھی کہا جاتا ہے جو منہ میں بد بو پیدا کرنے والے مضر صحت جوثوموں کو ختم کر کے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔لیموں اور دہی کے اس استعمال سے آپ کے منہ کی بد بو فوری طور پر ختم ہو جائے گی اور کم از کم بارہ سے چودہ گھنٹے ان کا اثر رہے گا۔
دانتوں کی پیلاہٹ دور کرنے کے لیے
تازہ سٹرابیریز کے چند دانے اچھی طرح کچل کر اس میں تھوڑی مقدار میں کھانے والا سوڈا اور پانی ملا کر ایک پیسٹ سا بنا لیں۔اس کے بعد اس مکسچر کو نرم ریشوں والے ٹوتھ برش پر رکھ کر دانتوں کو چمکائیں۔یہ عمل ہر تین چار ماہ بعد ایک مرتبہ دہرائیں۔اگر کثرت سے یہ کام لیا تو دانتوں پر موجود قدرتی حفاظتی اینامل کی تہہ اتر جائے گی۔سٹرابیریز میں ایک سخت گیر قسم کا تیزابی مادہ malic acid ہوتا ہے جو دانتوں پر چائے،کافی اور پان کے داغ دھبوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پیٹ کا درددور کرنے کے لیے
تمام بچوں میں سے ایک چوتھائی کے قریب پیٹ میں درد کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں،لیکن اس کی وجہ اکثر جسمانی نوعیت نہیں ہوتی۔جرمنی میں چھوٹے بچوں کے ڈاکٹروں کی تنظیم سے وابستہ ڈاکٹر اُلرش کا کہنا ہے کہ اکثر بچوں کے پیٹ میں درد کی وجہ خوف یا ذہنی دبائو ہوتا ہے۔یہ درد اکثر بچوں کو سکون کے دنوں میں ہوتا ہے اور چھٹی والے دن غائب ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر اُلرش والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر چھوٹے بچے مسلسل پیٹ میں درد کی شکایت کریں تو والدین کو نوٹ کرناچا ہیے کہ بچہ کب یہ شکایت کرتا ہے اور بچے سے ضرور پوچھیں کہ اسے پیٹ کے کس حصے میں شکایت ہے۔ڈاکٹر کے مطابق والدین کا مشاہدہ بچے کے پیٹ میں درد جیسے مرض کو ختم کرنے یا پھر اس کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔