’راز‘‘ کی بات ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

برن آسٹریلوی مصنفہ ہیں۔ 26 اگست 1945ء کو جنم لینے والی رہونڈا برن ٹیلی وژن رائٹر اور پروڈیوسر کی حیثیت سے شاندار کیریئر کی حامل رہی ہیں۔ 2004ء اُن کی زندگی کے لیے ''گیم چینجر‘‘ ثابت ہوا۔ اس سال اُن کے والد کی موت واقع ہوئی جس کے نتیجے میں اُن پر شدید ڈپریشن طاری ہو گیا۔ پھر اُن کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ انہوں نے اُس منصوبے پر کام شروع کیا جس نے بعد میں ''دی سیکریٹ‘‘ (راز) کی شکل اختیار کی۔ اس کتاب میں چند ایسے بنیادی حقائق بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق کم و بیش ہر انسان سے ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ مثبت زندگی ہی زندگی ہے اور یہ کہ مثبت انداز سے جینا شعوری فیصلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
رہونڈا برن نے ''دی سیکریٹ‘‘ میں 6 ایسے راز بیان کیے ہیں جو اگر کسی کی شخصیت میں پائے جائیں تو وہ سکون سے زندگی سے بسر کرنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ والد کی موت نے برن کو شدید نوعیت کے ڈپریشن سے دوچار کیا تھا۔ پریشانی سے نجات پانے کے عمل میں جب انہوں نے چھوٹے چھوٹے معاملات پر توجہ دینا سیکھی تو اندازہ ہوا کہ زندگی کو ڈپریشن سے پاک رکھنے کے لیے مثبت فکر و عمل ناگزیر ہیں۔ رہونڈا برن کی دیگر کتابوں میں دی پاور، دی میجک اور ہیرو شامل ہیں۔برن نے سب سے زیادہ زور اس نکتے پر دیا ہے کہ انسان کو ڈھنگ سے جینے کے لیے مثبت طرزِ فکر و عمل کا حامل ہونا اور رہنا چاہیے۔ کون ہے جو حقیقی اور دائمی نوعیت کی مسرّت یقینی نہیں بنانا چاہتا؟ برن نے ڈپریشن کو شکست دینے سے متعلق اپنے تجربے کو قارئین تک پہنچایا ہے اور ایسے بہت سے نکات بیان کیے ہیں جو عمومی سطح پر نظر اندازکردیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے نتائج سے بھی قارئین کو بہرہ مند کیا ہے۔
''دی سیکریٹ‘‘ اصلاً قانونِ تجاذب کے بارے میں ہے۔ ہم اس کائنات سے وہی کچھ پاتے ہیں جو اِسے دیتے ہیں۔ اگر آپ اس کائنات کو مثبت طرزِ فکر و عمل اور مسرّت سے نوازیں گے تو جواب میں یہ کائنات بھی آپ کو مسرّت سے ہم کنار رہنے اور مثبت طرزِ فکر و عمل کا حامل رہنے کے متعدد مواقع فراہم کرے گی۔ اگر آپ ہر وقت مشتعل، پریشان اور تناؤ زدہ رہیں گے تو کائنات بھی آپ کو دکھ، پریشانیاں اور اداسی ہی دے گی۔ ہمارے باطن میں جو الٹا سیدھا پنپتا رہتا ہے وہ ظاہر پر بھی اثر انداز ہوکر خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اگر ڈھنگ سے جینا اور خوش رہنا ہے تو ہمیں خوش رہنا ہے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنا ہے۔ ہم سب بیج اور فصل کا اصول اچھی طرح جانتے ہیں۔ جیسا بویا جاتا ہے ویسا ہی کاٹا جاتا ہے۔ یہ اصول پوری زندگی پر محیط ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں اُسی کی جزا پاتے یا سزا بھگتتے ہیں۔ رہونڈا برن نے اس نکتے پر غیر معمولی زور دیا ہے کہ اس کائنات میں انکار سے زیادہ سے اقرار کی اہمیت ہے۔ ہمیں زندگی بھر یہی سُننے کو ملتا ہے کہ فلاں کام نہ کرو، فلاں چیز استعمال نہ کرو، فلاں شخص کی مدد نہ کرو، فلاں راستے پر نہ چلو وغیرہ وغیرہ۔ کسی کام سے روکنے سے کہیں زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ جو کچھ کرنا ہے اُس پر زور دیا جائے۔ ہمیں جو کچھ کرنا چاہیے اُسی پر متوجہ رہنا لازم ہے۔ جو کچھ نہیں کرنا ہے اُس کی نشاندہی کی ضرورت نہیں۔ جب انسان کرنے کے کام کرتا ہے تو نہ کرنے کے کام خود بخود ترجیحات سے نکل جاتے ہیں۔ ہم بالعموم اپنے آپ کو اُن کاموں کے حوالے سے ڈراتے رہتے ہیں جو نہیں کرنے۔ یہ کائنات آپ سے صرف ایک بات چاہتی ہے‘ یہ کہ جو کچھ آپ کرسکتے ہیں اور جس کے کرنے سے کسی کے لیے کوئی بُرا نتیجہ پیدا نہ ہو‘ وہ کیجیے۔ جو کچھ نہیں کرنا چاہیے اُس کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جو کچھ زندگی کے دامن میں ہمارے لیے موجود ہے اُسے دل کی گہرائی سے قبول کرنا چاہیے اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔ بُرے کاموں کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہوتے رہنے سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہے اُس پر اپنے خالق و مالک کا شکر ادا کرتے ہوئے ہم مسرّت سے ہم کنار رہیں۔ خیال رہے کہ جو کچھ ہمیں نہیں کرنا اُس کا خیال ہر وقت ہمیں اندر ہی اندر دبوچتا نہ رہے۔
زندگی بسر کرنے کا ایک اہم راز تین مراحل میں ہے :یہ کہ ہم پوچھیں یا مانگیں، یقین رکھیں اور پائیں، جو کچھ ملا ہے اُس کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمیں جو کچھ نہیں مل سکا وہ کس طور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم طلب کرنے کا ڈھنگ جانتے ہوں تو مزید بہت کچھ مل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ آپ کو وہی کچھ حاصل کرنے پر توجہ دینا چاہیے جس کا کوئی نہ کوئی بڑا فائدہ یا مقصد ہو۔ کسی واضح مقصد کے بغیر بہت کچھ حاصل کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ جب آپ کو اپنی آرزو کے برحق ہونے کا یقین ہو تو بہت کچھ حاصل ہوکر رہتا ہے۔ اور یہ نکتہ کسی حال میں فراموش نہ کیجیے کہ آپ جو کچھ چاہیں گے وہی مل سکے گا یعنی تمنا برحق اور اہداف کے مطابق ہونی چاہیے۔ مثبت اقدار و معاملات پر یقین رکھنے کی صورت میں زندگی کو زیادہ سے زیادہ مسرّت آمیز بنانے میں مدد ملتی ہے۔ جب آپ مثبت سوچ کو راہ دیں گے اور جو کچھ بھی ہوسکتا ہے اس کے حوالے سے مثبت طرزِ فکر و عمل اختیار کریں گے تب بہت سے معاملات خود درست ہوتے چلے جائیں گے۔ جو کچھ آپ کی زندگی میں ہے اور جو کچھ بھی ہو رہا ہے اُس میں مثبت امور تلاش کیجیے۔ انکار سے زیادہ اقرار پر یقین رکھیے۔ جو کچھ نہیں کرنا اُس کے بارے میں سوچ کر پریشان ہونے کے بجائے اُس کے بارے میں سوچیے جو کرنا ہے۔ مثبت سوچ اِسی صورت پنپ سکتی ہے۔ جب انسان مثبت طرزِ فکر و عمل اپناتا ہے تب تمام رشتوں اور تعلقات کے حوالے سے حقیقت پسندی کی روش پر گامزن ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی اُسے منفی باتوں سے دور کرکے مثبت اقدار کے نزدیک لے آتی ہے۔ جب آپ اپنے باطن میں مثبت اقدار کو پسند کرنے کا رجحان پروان چڑھائیں گے تو منفی خیالات کی طرف لے جانے والا راستہ بند ہوتا چلا جائے گا۔ مثبت طرزِ فکر و عمل ہماری صحت پر خوش گوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثبت سوچ سے جسم کو مثبت سگنلز ملتے ہیں جس کے نتیجے میں صحت کا گراف بلند ہوتا ہے۔ جب ہمارا ذہن منتشر ہوتا ہے تب جسم پر ہمارا اختیار گھٹ جاتا ہے۔ ایسے میں صحت کا معیار گرتا ہے۔ جسم کے لیے منتشر ذہن سے بڑھ کر مُضر کچھ بھی نہیں۔ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تب اپنے وجود پر خاطر خواہ توجہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔اگر کوئی انسان مثبت سوچ کا حامل نہ ہو تو اپنے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو پاتا، اپنا ہی بھلا چاہنے کے معاملے میں غیر معمولی تغافل و تساہل اور خِسّت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ شخصی ارتقا کی تحریک دینے والے مفکرین اور مصنفین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر طرح کی صورتحال میں انسان کو زیادہ سے زیادہ عمل پسند و حقیقت پسند یعنی مثبت طرزِ فکر و عمل کا حامل رہنا چاہیے۔
اور آخر میں ایک اور کام کی بات یہ کہ ہمیں دوسروں کی فکر چھوڑ کر اپنی کارکردگی اور اُس کے نتائج پر متوجہ رہنا چاہیے۔ حسد کی بنیاد پر شروع کی جانے والی بے جا مسابقت انسان کو صرف ناکامی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔ ہم اُس دنیا میں زیادہ آسانی سے اور خاصی خوش مزاجی کے ساتھ رہ سکتے ہیں جو ہم نے خود تیار کی ہو۔ اگر کچھ پانا ہے تو کچھ دینا پڑے گا۔ آپ دنیا کو جس نظر سے دیکھیں گے اُسی نظر سے دنیا آپ کو دیکھے گی۔ جو کچھ آپ سوچیں گے، چاہیں گے وہی ہوگا۔