نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: ہیکروں کی چند خطرناک کارستانیاں ۔۔۔۔۔ سروش فاطمہ

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    5,512
    شکریہ
    654
    715 پیغامات میں 742 اظہار تشکر

    ہیکروں کی چند خطرناک کارستانیاں ۔۔۔۔۔ سروش فاطمہ

    ہیکروں کی چند خطرناک کارستانیاں ۔۔۔۔۔ سروش فاطمہ


    ہیکروں کی الگ ہی دنیا ہے۔لوگوں کی نظروں سے چھپ کر کمپیوٹر کے راز چرانے والے یہ لوگ آسمان سے نہیں اترتے۔ اسی زمین پر پرورش پاتے ہیں۔ انہی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں اور اسی معاشرے میں عام انسانوں کی طرح رہتے ہیں۔ بہت سوں کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہیکنگ کے بغیر امریکہ اور یورپ میں آئی ٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی۔ سو یہ ہیکرز مغربی دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب تک دوسرے ممالک کو نشانہ بناتے رہیں۔ جب تک یہ اقوام عالم کے لیے سوہانے روح بنے رہیں اس وقت تک تو سب ٹھیک ہوتا ہے ،مگر جونہی یہ اپنے ملک کے کمپیوٹروں میں گھس جائیں اور راز چرانا شروع کردیں تو پھر سب حرکت میں آجاتے ہیں۔
    اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پرتائیوان کی آزادی کے نعرے
    اسی سال فروری میں ہیکروں نے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر دھاوا بول دیا،اور ان کے راز چرا لئے۔انہوں نے اس ویب سائٹ پر ''تائیوان‘‘ کی حمایت میں ایک صفحہ لگا دیا ،مقصد دنیاکو یہ بتانا تھاکہ ہم تائیوانی بھی ہو سکتے ہیں، یا شائد چین کو ڈرانا ان کی ذمہ داری میں شامل تھا،ہیک شدہ صفحے پر تائیوان کا جھنڈا بھی شامل تھا اوران کی آزادی کے نعرے بھی درج تھے۔قومی ترانہ بھی لگا دیا گیا تھا۔ مئی میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد بھی کئی ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر سیاہ فاموں کی حمایت میں نعرے درج کئے گئے۔ کسی نے مینیا پولیس کی سرکاری ویب سائٹ کو بھی ہیک کر لیا او ر لکھا کہ ہم دنیا بھر میں تمہارے جرائم کو بے نقاب کریں گے۔کسی ہیکر نے اٹلانٹا پولیس کی ویب سائٹ سے بھی کروڑوں فرانک چوری کر لئے اور ان کے بدلے میں تاوان طلب کیا۔فلپائن کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی جولیس اسانج کے حق میں نعرے درج کر دیئے گئے۔2019ء میں انہوں نے برطانیہ کے نظام صحت کے راز چوری کر لئے اور ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد ان اداروں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ۔
    اسی سال جون میں ہیکروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں مدد دینے کے لئے ایک ہیکر نے آن گیمز کا ڈیٹا چوری کر لیا۔ تاکہ ووٹروں کے نام جان کر مدد لی جا سکے لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔جولائی میں ٹوئٹربٹ کوائن کا معاملہ کھڑا ہوا۔ اس سکینڈل کا بھی کئی ہفتوں تک چرچا رہا ۔ اگست میں امریکی بحریہ کی ویب سائٹ سے مواد چوری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ستمبر میں ''رینسم ویئر‘‘ نامی وائرس سے پہلی موت سامنے آئی۔ کسی نے تاوان مانگا اور نہ دینے پر ہلاک کر دیا۔ یہ ہلاکت جرمنی میں ہوئی۔
    امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ پر ''حملہ‘‘
    ہیکنگ کی تاریخ کا ایک اور خوفناک واقع امریکی محکمہ دفاع کے سسٹم پر فروری 1999ء میں پیش آیا۔ جب ہیکرز نے وزارت دفاع کے ماتحت ایک فوجی سیٹلائٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ امریکی افسروں کے نزدیک ہیکرز نے امریکہ کیخلاف مواصلاتی جنگ کا اعلان کیا۔ لیکن باوجود کوشش کے امریکی حکام ہیکرز تک نہ پہنچ سکے۔ شاید ہیکرز کو کمپیوٹر آپریٹر پر ترس آگیا انہوں نے خود ہی اپنا کنٹرول ختم کر کے سسٹم کوری پروگرام کر دیا۔ ہیکرز کی تلاش کا کھرا برطانیہ تک پہنچا ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمپیوٹر کرائم نیٹ ورک اور امریکی ائیر فورس کی مشترکہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
    ناسا کی ویب سائٹ ہیک
    ہیکنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ اکتوبر 1989ء میں میری لینڈ میں واقع ناسا کے کمپیوٹر سسٹم پر ہوا۔ جب ہیکرز نے سیارہ مشتری کے گرد بھیجے جانے والے مصنوعی سیارے کو منسوخ کرنے کے بینرز ویب سائٹ پر لگا دئیے۔ ہیکرز شاید مصنوعی سیارے میں استعمال ہونے والے پولوٹونیم کے خلاف تھا۔ اپنے سسٹم کو صاف کرنے اور دوبارہ چالو کرنے میں ناسا کے ایک ارب روپے اور بہت سا وقت ضائع ہوا۔ امریکی حکام آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک تو پہنچے لیکن کسی کو پکڑ نہ سکے۔
    کریڈٹ کارڈز کے
    ڈیٹے کی چوری
    ۔2000ء میں ہیکرز پھر امریکی ادارے کیخلاف سرگرم ہو گئے۔ مگر اس دفعہ ان کا نشانہ عوام بھی بنے انہوں نے 3لاکھ کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا چوری کر کے ایک ویب سائٹ پر متعلقہ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر مانگ لیے۔ یہ ہیکرز بھی آج تک پکڑے نہیں گئے۔ تفتیش مشرقی یورپ تک جا کر رک گئی۔ 9/11سے تھوڑا عرصہ پہلے دسمبر 2000ء میں امریکی نیول ریسرچ لیب اور اس کے ماتحت امریکی میزائل سسٹم ہیکرو ں کا نشانہ بنے۔ انہوں نے وزارت دفاع کے مابین ایکسی جینٹ نامی ادارے کے سافٹ وئیر میں گھس کر او ایس ۔کومیٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اب دو تہائی ڈیٹا پر قبضہ ہو گیا۔ یہ وہی نظام ہے جس کے ذریعے امریکی حکومت اپنے میزائل سسٹم کو کنٹرول کرتی ہے ۔ سیٹلائٹ کو اسی سسٹم سے رہنمائی ملتی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے تفتیش کار جرمنی کی یونیورسٹی تک پہنچ گئے لیکن اس سے آگے ہیکرز کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔
    امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش
    اکتوبر 2003ء میں ہیکرز امریکی صدارتی مہم پر اثر انداز ہو نے لگے۔ ایک صدارتی امیدوار کی مہم کچھ کمزور تھی۔ جس پر ہیکرنے ایک ٹی وی نیوز نیٹ ورک کے ہوم پیج کو انتخابی مہم کے لوگو سے بدل دیا۔ بعد میں اسی پیج پر خود بخود تیس منٹ کی ایک ویڈیو چلنے لگی۔ امیدوار نے کسی قسم کی اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ امریکی حکام اس کیس میں بھی ہیکرزتک پہنچنے میں ناکام رہے۔ 2008ء کے موسم سرما میں ایک ویب سائٹ لاکھوں طلباء اور افراد کے زیر استعمال تھی۔ اس بار یہ ہیکرز کا نشانہ بھی۔ انہوں نے اپنے کوڈ کے ذریعے ان کے سرور کو کنٹرول کرلیا۔ اور ہزاروں افراد کا ڈیٹا چوری کر لیا۔ اسی طرح فروری2005ء میں ہیکرز نے 42لاکھ کریڈٹ کارڈز تک رسائی حاصل کر لی۔ وہ دراصل فلوریڈا اور بعض دوسری امریکی ریاستوں میں واقع سپر مارکیٹ کی دو بڑی چینز کا ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یاد رہے یہ ہیکرز امریکہ کے بڑے بڑے ہوٹلوں ، یونیورسٹیوں اور کئی سرکاری دفاتر کا ڈیٹا بھی چوری کر چکے ہیں۔ 2015ء میں انہوں نے یو ایس آفس آف پرسنل مینجمنٹ ، دو بڑی انشورنس کمپنیوں ،موبائل فون کمپنیوں اورہوٹلز کا ڈیٹا بھی چوری کر لیا۔ یوں موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے ہوٹل کی ویب سائٹ پر بھی ہیکرز ایک مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں۔2015ء میں امریکی انتظامیہ نے کئی خطرناک سائبر گینگز کا سراغ لگایا۔ ان گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگ انٹرنیٹ پر جاری بزنس کی معلومات چوری کر کے لوگوں سے پیسے بٹورہے ہیں۔ سائبر کرائمز کا یہ نیٹ ورک برطانیہ سمیت بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا ہے جس پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ جن تعلیمی ماہرین نے سائبر کرائم کو روکنے کے طریقے ڈھونڈنے ہیں انہی ماہرین کی یونیورسٹیوں میں علم حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگ کریمنل بن گئے۔ اب یہ قانون کی دسترس سے باہر نکل چکے ہیں۔





  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (07-28-2021)

  3. #2
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Mar 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    3 پیغامات میں 3 اظہار تشکر

    جواب: ہیکروں کی چند خطرناک کارستانیاں ۔۔۔۔۔ سروش فاطمہ

    این خیلی خوبه ممنون
    آموزش تری دی مکس

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے Meliha کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (07-28-2021)

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University