نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: قائد کا پاکستان اور قومی زبان۔ قومی زبان کا فوری نفاذ

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    قائد کا پاکستان اور قومی زبان۔ قومی زبان کا فوری نفاذ

    ملک میں قومی زبان کا فوری نفاذانتہائی ضروری ہے۔
    ہم نے قائد اعظم ؒ کے فرمان ”پاکستان کی قومی زبان“ اردو کو فراموش کر دیا ہے۔
    رپورٹ: محمد اکرم فضل، لاہور
    گزشتہ روز مرکز قومی زبان کے زیر اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ہال میں میں سقوط ڈھاکہ اور بانیءپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے یوم ولادت کی مناسبت سے ”قائد کاپاکستان اور قومی زبان“ کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوا جس میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ قائد اعظم ؒ کے 1948میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلباءسے خطاب کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو وفاق کو طاقتور کرنے میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر قیام پاکستان کے شروع میں ہی اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے اس کا نفاذ کر دیا جاتا تو مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی اور ہم متحدہ پاکستان کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے تھے۔ سقوط بغداد کے بعد سقوط ڈھاکہ کا المیہ ایک بہت بڑا المیہ تھا۔پاکستان سے محبت کرنے والے بنگلہ دیشی آج بھی 1971کے واقعات کے ذکر سے رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمائے۔ ہمیں اپنے ملک کے دفاع اور بقاءکے لئے ہر قسم کی قربانی کو قومی فریضہ سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کوشش یا سوچ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رد کر دینا چاہیے۔پاکستان کی محبت کے لئے قائد اعظم ؒ کے فرامین پر عمل پیرا ہونا اور انہیں اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا چاہئے اور یہی جذبہ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کے ذہنوں میں اجاگر کرنا ہے۔ قائد اعظم ؒ ؒ کے فرمان ”جو اردو کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے“ کو ہمیشہ مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہمت اور توفیق عطاءفرمائے کہ ہم ان کے فرامین کو اچھی طرح سے سمجھیں، ان پر عمل پیرا ہوں اور انہیں آگے پہنچائیں کیونکہ پاکستان اور اردو لازم و ملزوم ہیں۔ اردو کا وجود پاکستان کے وجود سے منسلک ہے۔ ہر قوم کی ایک زبان ہوتی ہے۔ ہماری زبان اردو ہے اور اس کی مخالفت کرنا پاکستان کی مخالفت ہے۔اردو کا تعلق آپ کے دین، مذہب اور وطن سے بھی ہے۔ مقررین نے عدالت عظمی کے قومی زبان اردو کے نفاذ کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے اسے ملک بھر میں فوری طور پر نافذ کرنے اور اور اسکی ترویج پر بھی زور دیا۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے ملک کا ایک حصہ الگ ہوگیا، بنگلہ دیش میں کتنے لوگوں کو صرف پاکستان کی محبت میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا انہوں نے پھانسی کو قبول کیا لیکن اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ہمارے ہاں ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا اللہ تعالی ہمیں اس باقی ماندہ ملک کو سنبھالنے کی ہمت دے۔ اردو زبان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو اردو زبان کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے ۔ کہا کہ اپنے وطن کا تحفظ کریں اور قومی زبان اردو کی اہمیت کو سمجھیں ۔وطن کی محبت کو اردو زبان سے منسوب ہونا چاہئے۔ پاکستان کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم پاکستان کے اصل مقاصد سے دور ہوتے گئے ہیں۔ وفاق کو طاقتور کرنے میں قومی زبان کا نفاذ بہت اہمیت کا حامل ہے جبکہ اسے کمزور کرنے میں قومی زبان کو نافذ نہ کرنا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں جہاں ہندوستان اور مکتی باہنی کا کردار تھا وہاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا بھی بڑا کردار تھا۔ اگرتلہ سازش ایک حقیقت تھا، شیخ مجیب الرحمن شروع سے ہی متحدہ پاکستان کے خلاف اور بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کوشاں تھے۔اگر قیام پاکستان کے شروع میں ہی اردو کو قومی زبان قرار دے دیا جاتا اور اس کا نفاذ کر دیا جاتا تو مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی اور ہم متحدہ پاکستان کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے تھے۔ سقوط بغداد کے بعد سقوط ڈھاکہ کا المیہ بہت بڑا المیہ تھا۔ آج ہم نے عہد کرنا ہے کہ ہم متحدہ پاکستان کے لئے کوشش کریں گے۔ ہم پاکستان کو قائم دائم رکھنے کے لئے اردو زبان کو مکمل طور پر ملک بھر میں نافذ کریں ۔ مقررین نے کہا کہ ہندوستان موجودہ پاکستان کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ لہذا ہمیں ہندوستان کے سقوط ڈھاکہ کے کردار کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہیے اور باقی ماندہ پاکستان کو ہندوستانی سازشوں سے بچانا ہو گا۔
    میاں محبوب احمد جسٹس (ر) چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اللہ تعالی پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمائے۔ ہمیں اپنے ملک کے دفاع اور بقاءکے لئے ہر قسم کی قربانی کو قومی فریضہ سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کوشش یا سوچ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رد کر دینا چاہیے۔پاکستان کی محبت کے لئے قائد اعظم ؒ کے فرامین پر عمل پیرا ہونا چاہئے اور یہی فرامین ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا چاہئے۔ یہی جذبہ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کے ذہنوں میں اجاگر کرنا چاہیے۔قائد اعظم ؒ کی شخصیت، ان کے حالات زندگی کو اجاگر کرنا چاہیے اور قائد اعظم ؒ کے فرمان ”جو اردو کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے“ کو ہمیشہ مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہمت اور توفیق عطاءفرمائے کہ ہم ان کے فرامین کو اچھی طرح سے سمجھیں، اس پر عمل پیرا ہوں اور اسی فرمان کو آگے پہنچائیں کیونکہ پاکستان اور اردو لازم و ملزوم ہیں۔ اردو کا وجود پاکستان کے وجود سے منسلک ہے۔ ہر قوم کی ایک زبان ہوتی ہے۔ ہماری زبان اردو ہے اور اس کی مخالفت کرنا پاکستان کی مخالفت ہے۔اردو کا تعلق آپ کے دین اور آپ کے مذہب سے ہے اور وطن سے ہے۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد، طارق شریف زادہ، محمد انور گوندل، صائمہ اسمائ، سید ابو الحسن، حافظ شفیق الرحمن اور شاہد رشید بھی شامل تھے۔ تقریب کی نظامت مرکز قومی زبان کے سربراہ حامد انوار نے کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور ہدیہ نعت بھی پیش کیا گیا۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (12-20-2020)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: قائد کا پاکستان اور قومی زبان۔ قومی زبان کا فوری نفاذ

    تصاویری جھلکیاں





    منسلک شدہ تصاویر منسلک شدہ تصاویر
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (12-20-2020)

  5. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: قائد کا پاکستان اور قومی زبان۔ قومی زبان کا فوری نفاذ


    منسلک شدہ تصاویر منسلک شدہ تصاویر
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    جواب: قائد کا پاکستان اور قومی زبان۔ قومی زبان کا فوری نفاذ

    سقوط ڈھاکہ
    اردو کی مخالفت مجیب الرحمن
    یہ سب پرانا ہو گیا ایک تاریخ جس سے سبق سیکھنا ضروری ہے
    موجودہ میں محمود اچکزٸی جیسے لوگوں کو دیکھ لیں اور دل کرتا ہے کہ دیکھ تےہن دفنا ہی دیو
    لیڈر بنے بیٹھے ہمارے یہ کہاں کے محب وطن ہیں



آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University