پڑھو اور جانو ، بہترین شکاری پرندہ ۔۔۔۔۔ عمارہ اسلم

عقاب اڑنے والے پرندوں میں سب سے بڑا پرندہ اور بہترین شکاری ہے۔دنیا کے بے شمار ممالک میں عقاب کو فوجی نشان کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی دنیا بھر میں 60 اقسام پائی جاتی ہیںجن میں زیادہ تر افریقہ جبکہ بعض امریکہ اور آسٹریلیا میں پائی جاتی ہیں۔دنیا میں سب سے بڑے عقاب کے پر250 سینٹی میٹر سے زیادہ لمبے ہوتے ہیںاور یہ بڑے جانوروں کے شکار کیلئے جانے جاتے ہیں جن میں ہرن،بکریاں اور بندر شامل ہیں۔مادہ عقاب نر کے مقابلے میں زیادہ بڑی اور طاقتور ہوتی ہے۔اس کی ایک قسم’’مارشل ایگل ‘‘بھی ہے۔ان کی خصوصیت ہے کہ یہ طویل وقت تک بغیر پر ہلائے بلند پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عقاب کی نظر انسانوں کے مقابلے میں 5گنا زیادہ تیز ہوتی ہے۔اب تک عقاب نے جس سب سے بڑے جانور کا شکار کیا وہ ایک ہرن تھا ۔اس کاوزن 27کلو گرام تھا۔اس ہرن کا وزن شکار کرنیوالے عقاب سے 8 گنا زیادہ تھا۔ ’’فلپائن عقاب‘‘دنیا کے بڑے،وزنی اور طاقتور عقابوں میں سے ایک ہے۔اسکی لمبائی102سینٹی میٹر جبکہ وزن8 کلو گرام تک ہوتا ہے۔درخت پر سب سے بڑا گھونسلہ بنانے کا اعزاز بھی عقابوں کی ہی ایک قسم کو حاصل ہے جسے ’’بالڈ ایگل ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ گھونسلہ 4 میٹر گہرا،2.5میٹر چوڑا اور ایک ٹن وزنی تھا۔عقاب ایک ذہین پرندہ بھی ہے مثال کے طور پر یونان میں ’’گولڈن عقاب‘‘ کچھوئوں کا شکار کرتے ہیں اور ان کا خول توڑنے کے لیے انہیں بلند ترین چٹانوں سے نیچے پھینکتے ہیں۔جس طرح گھوڑا کھڑے ہو کر سونے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح عقاب بھی شاخ پر بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہیں۔اس دوران ان کے پنجے قدرتی طور پر شاخ کو جکڑ لیتے ہیں اور یہ گرتا نہیں ۔