عظیم لیڈر ۔۔۔۔۔ عمار چوہدری

قائداعظم محمد علی جناح کو برصغیر کا عظیم لیڈر مانا جاتا ہے۔ آج عشروں بعد بھی ان کی ذہانت‘ فطانت‘ لیڈرشپ‘ دیانت اور صداقت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ چار سال کے کسی بچے سے بھی پوچھیں گے کہ پاکستان کس نے بنایا تو وہ توتلی زبان میں قائداعظم کا ہی نام لے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک اتنی آسانی سے بن گیا تھا۔ کیا قائداعظم کو کوئی مشکلات پیش نہیں آئی تھیں اور اگر آتی تھیں تو وہ ان کا مقابلہ کیسے کرتے تھے‘ کس طرح خود کو انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے آخری وقت تک کمیٹڈ رکھا‘ ان سب رازوں سے پردے اس وقت اٹھ جاتے ہیں جب ہم قائداعظم کی زندگی اور ان کی جدوجہد کو دیکھتے ہیں۔ ان کی تاریخ ساز جدوجہد صرف کتابوں اور سالانہ تقاریر تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس سرزمین کے بچے بچے کے دل میں ویسے ہی جذبات پیدا ہونے چاہئیں جو ایک لیڈر بننے کے لئے درکار ہیں۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ محمد جناح کا شمار ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ہر سال 25 دسمبر کو قائداعظم کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ان کی شاندار خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ قائداعظم کی زندگی کے ہر واقعے‘ ہر تقریر اور ہر بیان میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو نہ صرف انسان کے جذبۂ آزادی کو تحریک دیتی ہے بلکہ زندگی کو منظم اور متحرک بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
قائداعظم کبھی کامیاب نہ ہوتے اگر وہ وقت کو اہمیت نہ دیتے۔ وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا‘ یہ وہ آخری سرکاری تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے۔ ٹھیک وقت پر وہ تقریب میں تشریف لائے تو انہوں نے دیکھا کہ شرکا کی اگلی نشستیں ابھی تک خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکا کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا۔ ان میں سرکاری افسران کے ساتھ کئی وزرا اور اس وقت کے وزیراعظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذرا سی غلطی قائداعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھلائی گئی۔ قائداعظم بلا کے معاملہ فہم تھے۔ منٹوں میں مسئلہ حل کر دیتے۔ 1943ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی میں کانگریس اور مسلم لیگ کے طالبعلموں میں یہ تنازع اٹھا کہ یونیورسٹی میں پرچم کس پارٹی کا لہرایا جائے۔ ہندوؤں کا یہ ماننا تھا کہ چونکہ ملک میں ان کی اکثریت ہے لہٰذا یونیورسٹی میں پرچم بھی انہی کا لہرانا چاہئے جبکہ مسلم لیگ کا یہ کہنا تھا کہ چونکہ یونیورسٹی میں مسلمان طالبعلموں کی اکثریت ہے لہٰذا پرچم ان کا لہرانا چاہئے۔ یونین کے الیکشن میں مسلم لیگ کی یونین کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ کے طالبعلموں نے قائداعظم سے رابطہ کیا کہ وہ یونیورسٹی میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کریں۔ اس موقع پر قائداعظم نے قوم کے معماروں کو تاریخی جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نازیبا حرکت ہے۔ کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے۔ کیا یہ منا سب بات ہے کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں؟
قائداعظم جس عظیم مقصد کے لئے جدوجہد کر رہے تھے‘ اس میں انہیں جہاں کانٹے چننا پڑے وہاں مخالفین کی طرف سے ورغلانے کی بھی پوری کوشش کی گئی مگر ان کی نظر نہ مال پر تھی اور نہ ہی جاہ و جلال پر، مسلمانوں کے لئے الگ خطۂ زمین ان کی زندگی کا محور و مقصد تھا جس کے لئے انہوں نے اپنی صحت اور اپنی جان تک دائو پر لگا دی۔ رشوت سے انہیں شدید نفرت تھی۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بغیر ٹکٹ سفر کر رہے ہیں۔ جب وہ سٹیشن پر اترے تو ٹکٹ منیجرسے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے‘ اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں، اس نے کہا: آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں۔ قائداعظم طیش میں آ گئے، انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے۔ بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ٹکٹ منیجر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر سٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالآخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آ گیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے انہیں رشوت سے شدید نفرت تھی اور یہی خوبی ان کی جدوجہد میں ان کے کام آئی۔ قائداعظم بنیادی طور پر ایک وکیل تھے۔ اچھے اور برے کی پہچان کرنا ان کے لئے زیادہ مشکل نہ تھا۔ نہ اپنا نقصان کرتے تھے نہ کسی کا ہونے دیتے تھے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ وکالت میں بھی قائداعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے، مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ موکل: میں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں، آپ کی فیس کیا ہو گی۔ قائداعظم: میں مقدمے کے نہیں‘ دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ موکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سو روپے فی پیشی۔ موکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائداعظم: مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیونکہ میرا اصول ہے کہ میں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒ نے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ اس تاجر نے اس خوشی اور کامیابی میں قائداعظم کو پانچ ہزار روپے بطور انعام پیش کرنا چاہے تو قائد اعظم نے یہ کہہ کر اسے روک دیا کہ میںاپنا حق لے چکا ہوں۔
25 اکتوبر 1947ء کو آزادی کے بعد پہلی بار عید الاضحی منائی جانی تھی۔ عید کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت کا فریضہ مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینا تھا۔ قائداعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کر دیا گیا مگر قائداعظم عیدگاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا کو مطلع کیا کہ قائداعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ مولانا سے درخواست کی گئی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیں۔ مولانا نے فرمایا: میں قائداعظم کیلئے نماز پڑھانے نہیں آیا بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں، چنانچہ انہوں نے صفوں کو درست کراکے نماز شروع کر دی۔ ابھی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ قائداعظم بھی عید گاہ میں پہنچ گئے۔ قائداعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائداعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چنانچہ قائداعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ریاست کا سربراہ تھا۔ قائداعظم نمازیوں سے عید ملنے کے بعد آگے تشریف لے گئے اور مولانا کی جرأتِ ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
قائد اعظم کی زندگی ایسی مثالوں اور واقعات سے بھری پڑی ہے، یہ مثالیں اور یہ واقعات ہماری نئی نسل کو ازبر ہونا چاہئیں تاکہ قائداعظم نے شرافت‘ دیانت‘ صداقت اور امانت جیسے جن اصولوں پر اس ملک کی بنیادیں رکھی تھیں‘ انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اس ملک کی نسلیں اس وطن کی عمارت کو مضبوطی اور پائیداری کے ساتھ قائم و دائم رکھ سکیں۔