نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: اے قاید تجھے سلام

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    65
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    اے قاید تجھے سلام

    اے قاید تجھے سلام
    اک تارہ جگمگایا اور وہ چاند بن گیا پھر اسنے اپنی قوم کو کیسے اپنے انچل میں چھپا لیا اس نے لاچار اور غریب اور غلام قوم کوکیسے آزاد کروایا غلامی کی زنجیروں کو توڑنا اس کا مقصد تھا اور ان کے اس جنون نے ان کی راتوں کی ننید چھین کی
    ا
    تنی محنت کی کھ اپنے مقصد میں کامیابی کے بعد ان کی صحت ان کا ساتھ چھو ڑ گی اور وہ سکوں سے اپنے رب حقیقی سے جا ملے
    یھ پاکیستان ان کی محنت کا پھل ھےیھ وہ پودا ھے جو پھل پھول نھ سکا اس باغ کو کویی اچھا مالی نا مل سکا
    بھت افسوس ھوتا ھےجب ھم اس سوال کا جواب نھی دے پاتے کیوں کہ کسی میں وہ ولولہ وہ جوش کیوں نھی پیدا ھو سکا
    جو قاید کا تھا
    کیوں ان کے قول ھم بھول گے کیوں ان کا قانون ھم نھی اپنا سکے انھوں نے اپنے آخری ایام میں انپے خانسامے کو بھی اپنی زاتی
    جیب میںسے تنخواہ دی تھی سرکاری خزانے میں سے نھی دی تھی سبحان اللہ یھ ان کی اپنی قوم کیلے سوچ تھی
    جو ھال آج ھے اس کا تو آپکو پتا ھے کیا کچھ لکھیں اور جتنالکھیں کم ھے لفظ کم نا ھوں گے قلم نھی تھکے گی

    جب کبھی آپ غور سے ان کی تصویر کو دیکھں تو معلوم ھوتا ھے اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کیا فریاد کر رھے ھیں
    اے میری قوم کے جوانوں اٹھو جاگو اور ایک مشعل کے نیچے سر جوڑ کر کھڑے ھو جاو
    دشمن اور اپنے ملک کو کھوکھلا کرنے والوں کے لیے اک چٹان بن کت کھڑے ھو جاو اللہ تمارے ساتھ ھے
    ھمت مرداں مدد خدا
    اپنے نظام کے تم خود ذمھ دار ھو کیا اسی نظام کے کیے خون کی ندیان بھایی گی تھی
    جھالت بھوک افلاس غربت و بے روز گاری کی شرع میں تیزی سے اضافہ قابل فکر ھے
    انھی مسایل کے ھاتھوں خود کشی کے گھنونے فعل کاجس تیزی سے اضافہ ھو رھا ھے
    وہ قابل تشویش ھےھمیں سبسے زیادہ نقصان سیکولرطبقھ نے پنھچایا ھےکبھی سیاست دان کی شکل
    اور کبھی بیوروکریٹ کے روپ میںین کے نافد کردہ نظام نے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا
    بنا دیا ھےھر سمت مایوسی چھایی ھے جب کویی دن آے گا توچند جھنڈیاں لگا لینے اور پرچم لہرا لینے
    اور تقریبات کے انعقاد سے مسایل حل نھی ھوتے یھ دن ڈھل جانے کے ساتھ ھی ختم ھو جایں گے
    ھم سب کو دعا گو رھنا چاھے اور مل کر عھد کونا چاھے جیسے کھ ایک چٹان کی طرح


    ھر سمت تھے کانٹے گلاب تھا وہ شخص ..... صداقتوں کا اک خواب تھاچٹان تھا وہ شخص

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    RE: اے قاید تجھے سلام

    واھھ دوست ::::: سچ کہا ، خوب لکھا شکریہ

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: اے قاید تجھے سلام

    شاندار آزاد خان

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University