پی ڈی ایم کا سیاسی جنازہ۔۔۔ عبدالکریم

پی ڈی ایم کا سیاسی جنازہ نکل رہا ہے جس میں سب سے بڑا ہاتھ پیپلز پارٹی کا ہے۔ پی ڈی ایم جو کہ 11جماعتی حکومت مخالف سیاسی اتحاد ہے، پاکستان کی سب سے بڑی دو سیاسی جماعتیں اس حکومت مخالف تحریک کا حصہ ہیں۔ اب یہ سیاسی اتحاد پارٹیوں کے مفاد کی نذر ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اپنے اپنے سیاسی نظریات ہیں جس کی وجہ ان دونوں سیاسی پارٹیوں کا ایک ساتھ چلنا بہت مشکل عمل تھا۔ ماضی میں یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں بھی رہی ہیں اور دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی سیاسی حریف بھی تھیں۔ دونوں پارٹیاں اپنی غلطیوں کی وجہ سےایک تیسری پارٹی کو حکومت میں لائی ہیں۔ ایسے لگتا ہے عمران خان ان دونوں سیاسی پارٹیوں کی نااہلی اور لوٹ مار کی وجہ سے ان کے سیاسی حریف بنے ہیں۔

جہاں تک پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا تعلق ہے، جس طرح ایک میان میں دوتلواریں نہیں رہ سکتیں بالکل اسی طرح ایک اتحاد میں یہ دونوں سیاسی حریف بھی نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ ان دونوں پارٹیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں ایک پارٹی کو نواز شریف صاحب چلاتے ہیں اور ایک پارٹی کو آصف علی زرداری صاحب لیڈ کرتےہیں۔

یہ دونوں پارٹی لیڈران پی ڈی ایم کے اس سیاسی اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے، نواز شریف صاحب نے زرداری صاحب کو کبھی سیاسی دوست نہیں سمجھا اور نہ ہی زرداری صاحب نے نواز شریف کو سیاسی رہنما مانا ہے۔

زرداری صاحب کے بقول نواز شریف صاحب ہمیشہ دھاندلی اور ساز باز کر کے اقتدار میں آتے رہے ہیں، نواز شریف صاحب نے اقتدار میں اپوزیشن کو ہمیشہ ٹف ٹائم دیا ہے۔ زرداری صاحب نے نواز شریف صاحب کے اقتدارکے دوران جیلیں کاٹیں۔ اس دوران زرداری صاحب پر بہت ظلم ہوا، ان کی زبان تک کاٹی گئی جس کا زرداری صاحب کو اب تک دکھ ہے اور وہ کبھی بھی اس دکھ سے نہیں نکلے۔ اس لیے زرداری صاحب کی زندگی میں پیپلز پارٹی کا کسی بھی سیاسی ایشو میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔

جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے وہ کبھی بھی زراداری صاحب کے نوٹس میں لائے بغیر ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے جس میں زرداری صاحب کی مرضی شامل نہ ہو۔ بلاول بھٹو کی سیاست کو بھی زرداری صاحب استعمال کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے مریم نواز کے ساتھ مصنوعی اتحاد بنایا ہوا ہے۔ اس کی ڈور بھی زرداری صاحب کے ہاتھ میں ہے۔ زرداری صاحب خود بلاول بھٹو کی سیاسی پرورش کر رہے ہیں اور وہ بلاول صاحب کو اپنی زندگی میں کبھی کسی کے سیاسی فائدے میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

مریم نواز جو پیپلز پارٹی کے اتنا قریب ہورہی ہیں اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ن لیگ کے بعد سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے۔ سینیٹ میں بھی ن لیگ کو مضبوط ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ چاہیے کیونکہ ن لیگ اکیلے سینیٹ میں اور پارلیمنٹ میں حکومت کا کچھ نہیں بگاڑسکتی۔ اب سینیٹ الیکشن کے بعدپیپلزپارٹی دوسری بڑی پارٹی بن جائے گی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی پیپلز پارٹی کا بن جائے گا۔

پی ڈی ایم کی تحریک کمزور ہونے بعد مولانا فضل الرحمن تو اب صرف سیاسی یتیم بن کر رہ گئے ہیں، نہ تو وہ اکیلے حکومت پر دباؤ ڈال سکیں گے اور نہ ہی سینیٹ میں۔ مولانا کے پاس صرف مدرسوں کی عوام رہ جائے گی۔ مولانا اب اس گیم کے بارویں کھلاڑی ہیں۔ پی ڈی ایم کی بہاولپور ریلی کے سوشل میڈیا میں ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں مولانا اور مریم نواز ،کیپٹن صفدر موجود ہیں۔ کیپٹن صفدر مولانا فضل الرحمان کا ہاتھ چوم رہے ہیں اس میں لگ یہی رہا ہے یا مولانا کو ن لیگ سیاسی طور پر استعمال کر رہی ہے یا پھر مولانا اتنی بڑی سیاسی جماعت کو استعمال کر رہے ہیں۔ اب یہ وقت ثابت کرے گا کہہ کون کس کو استعمال کر رہا ہےلیکن جہاں تک بلاول بھٹو کی بات ہے وہ اب زرداری کی سرپرستی میں ہیں۔ اب وہ پی ڈی ایم میں سے آٹے میں سے بال کی طرح باہر جاتے نظر آرہے ہیں۔ زرداری صاحب سیاست کے بہت بڑے کھلاڑی ہیں۔ وہ نواز شریف کو آسانی سے فائدہ دینے والے نہیں۔

پی ڈی ایم کا تماشا کیوں لگایا گیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ لاہور میں ناکام جلسےکے بعد اب یہ بات بالکل کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پی ڈی ایم کاکوئی سیاسی مستقبل نہیں رہا۔ تحریک ہمیشہ عوامی ایشوز پر کامیاب ہوتی ہے، اس تحریک کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے کہ اس تحریک کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔ سب کو پتہ ہے اپوزیشن پر کرپشن کے چارجز ہیں۔ پوری اپوزیشن کے جتنے بھی سیاسی قائدین ہیں سب پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

سب کو پتہ ہے یہ سیاسی ٹولہ اپنی کرپشن بچانےکے لیے سڑکوں پر ہے، عام لوگ تب سڑکوں پر آتے ہیں جب کوئی تحریک عوامی ایشوز پر چل رہی ہو، اس تحریک میں عوامی ایشوز کو سائیڈ پر رکھ کر ذاتی ایشوز پر تحریک کو چلایا جا رہا ہے۔ اگر اپوزیشن صرف مہنگائی کو لے کر چلتی تو اس تحریک میں بہت جان ہوتی۔ عوام کو اس وقت کو سب سے زیادہ مسئلہ مہنگائی کاہے۔ اگر عوام کو روٹی سستی مل رہی ہو اس کو کوئی غرض نہیں کہ کون حکومت میں ہے، اہل ہے یا نااہل۔ عوام کو صرف روٹی سستی چاہیے۔ پی ڈی ایم کی اس تحریک میں عوامی ایشوز کی بجائے جس طرح ذاتی حملے کیے گئے اور نواز شریف صاحب نے جس طرح اداروں کے سربراہان کو نام لے لے کر بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے صوبائیت، لسانیت اور نفرتوں کو ہوا دی گئی، اس کی مثال کم ہی سیاسی تحریکوں میں ملے گی۔

اس تحریک کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی یہ تحریک عوامی ہونے کی بجائے خالص ذاتی تحریک ہے۔ اس میں سیاسی مفادات کو مدنظر رکھ کر اس تحریک کو چلایا جا رہا ہے۔ ساری سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی مفاد کے لیے اتحاد کا حصہ ہیں۔ اب اگر پیپلز پارٹی اس سیاسی اتحاد سے دور ہو رہی ہے تو اس کی بھی سب سے بڑی وجہ ان کی سندھ میں صوبائی حکومت ہے۔ پیپلز پارٹی اگر متحدہ اپوزیشن کی بات مان کر استعفٰے دیتی ہے تو اس کو اس کا کیا فائدہ ہو گا۔ یہ زرداری صاحب کے لیے سب سے بڑی پریشانی کی بات ہے۔ زرداری صاحب کبھی بھی چھوٹے سے فائدے کے لیے اپنی حکومت قربان نہیں کریں گے۔

زراداری صاحب ایک جمہوریت پسند انسان ہیں وہ کبھی بھی جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ زرداری صاحب بھی چاہتےہیں کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ اگر وہ نہ چاہتے تو وہ کب کےاپنی پارٹی سے استعفٰے لے چکے ہوتے۔ ان کے نذدیک بد ترین جمہوریت بھی آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جمہوریت کے لیے بے پناہ سیاسی اور ذاتی قربانیاں ہیں۔ بھٹو صاحب سے لیکر بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت تک پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جب وہ اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر ہو، ہمیشہ سے جمہوریت اور جمہوری نظام کے لیے اس پارٹی کی بے شمار فربانیاں ہیں۔

پی ڈی ایم کی سیاسی موت کی سب سے بڑی وجہ نواز شریف کا اداروں مخالف بیانیہ اورپارٹیوں کے اندرونی اختلافات، پی ڈی ایم میں حکومت مخالف تحریک میں کنفیوژ بیانیے یعنی ووٹ کو عزت دو، ہم پر حکومت احتساب کے نام پر انتقامی کارروائی کر رہی ہے، ذات پر حملوں کی سیاست کرنے والی تحریک میں عوامی ایشوز دور دور تک نظر نہیں آتے۔ تحریکیں نظریوں پر چلتی ہیں اور تحریکیں عزم اور خون مانگتی ہیں۔ جب تحریک چلانا ہو تو اس میں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہہ اب سردی آگئی ہے یا گرمی ہے۔ تحریکیں اپنی ذات سے نکل کر کسی کی ذات کے لیے چلائی جاتی ہیں اس میں مقصد ایک ہونا چاہیے۔ پھر کہیں جا کے کامیابی ملتی ہے۔

پی ڈی ایم کی تحریک میں عوامی مسائل کے علاوہ ہر سیاسی پارٹی کے اپنے اپنے ذاتی مفادات ہیں جس کی وجہ سے یہ تحریک ناکام ہوئی اور عوام نے اس تحریک کو قبول نہیں کیا۔

آخر میں نوازشریف اور زرداری صاحب کی پی ڈی ایم کی حکومت اور اداروں مخالف تحریک جو کہ سیاسی مفادات کی نظرہو چکی ہے، تحریک کے سیاسی جنازے پر عطاءاللہ عیسٰی خیلوی کا مشہور گانا یاد آرہا ہے۔ یہ گانا نواز شریف اور زرداری صاحب کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور پی ڈی ایم کے جنازے پر پورا اترتا ہے کہ کس طرح سیاسی مفادات تحریکوں پر غالب آجاتے ہیں جس سے تحریکیں تباہ ہو جاتی ہیں اس کے چند اشعار آپ کی نذر کرتے ہیں۔

ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
ادھر زندگی ان کی الفت بنے گی
قیامت سے پہلے قیامت ہے یارو
میرے سامنے میری دنیا لٹے گی
ازل سے محبت کی دشمن ہے دنیا
کبھی دو دلوں کو ملنے نہ دے گی
ادھر میرے سینے پر خنجر چلے گا
ادھر ان کے ماتھے پہ بندیا سجے گی
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
ادھر زندگی ان کی الفت بنے گی

اب عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ سیاست میں ذاتی مفادات رکھنے والے لوگ کس طرح عوام کا سوچ سکتےہیں۔ یہ لوگ کبھی اپنی ذات سے باہر نکلے ہی نہیں۔ ان کے لیے صرف اورصرف پاور اہم ہے۔ یہ صرف ہم پر حکمرانی کا سوچتے ہیں، عوام کی خدمت ان میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔